واشنگٹن میں افغان شہری کی فائرنگ، عدالت میں ملزم کا حیران کن مؤقف سامنے آگیا
اشاعت کی تاریخ: 3rd, December 2025 GMT
واشنگٹن میں وائٹ ہاؤس کے قریب فائرنگ کے واقعے میں نیشنل گارڈ کے ایک اہلکار کو ہلاک اور دوسرے کو زخمی کرنے کے الزام میں گرفتار افغان شہری نے عدالت میں تمام الزامات تسلیم کرنے سے انکار کردیا ہے۔
29 سالہ رحمان اللّٰہ لکنوال کو اسپتال میں زیرِ علاج ہونے کے باعث ویڈیو لنک کے ذریعے مجسٹریٹ کے سامنے پیش کیا گیا، جہاں اس نے اپنے اوپر عائد الزامات کو رد کردیا۔ دورانِ سماعت وہ شدید تکلیف کے باعث آنکھیں بند کیے رکھا۔
جج رینی ریمنڈ نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ شواہد سے واضح ہے کہ ملزم مسلح ہو کر طویل سفر طے کرکے واشنگٹن ایک خاص مقصد کے تحت پہنچا۔
استغاثہ کے مطابق فائرنگ کے وقت ملزم نے مبینہ طور پر ’’اللہ اکبر‘‘ کا نعرہ بھی لگایا تھا۔ مزید تحقیقات جاری ہیں اور عدالت نے ملزم کو آئندہ سماعت تک حراست میں رکھنے کا حکم دے دیا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
مہاجرین کی نشستوں کے مستقبل پر بڑا فیصلہ قریب، اہم پیش رفت سامنے آگئی
مظفرآباد: مہاجرین کی نشستیں آزاد جموں و کشمیر کی سیاست میں ایک بار پھر توجہ کا مرکز بن گئی ہیں، جہاں ان نشستوں کے مستقبل سے متعلق اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ ذرائع کے مطابق وفاقی حکومت نے اس معاملے پر نرم رویہ اختیار کرتے ہوئے مکمل خاتمے کے بجائے نشستوں کی تعداد میں کمی کی تجویز پر غور شروع کر دیا ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ وادی کشمیر سے تعلق رکھنے والے مہاجرین کی چھ نشستیں کم کرنے کی ابتدائی تجویز زیر غور ہے۔ اس پیش رفت کو انتخابی اصلاحات کے حوالے سے ایک اہم قدم قرار دیا جا رہا ہے، جس سے طویل عرصے سے جاری سیاسی بحث کو کسی نتیجے تک پہنچانے میں مدد مل سکتی ہے۔
اطلاعات کے مطابق وفاقی حکومت جلد آزاد کشمیر کی قیادت کو اپنے مؤقف سے آگاہ کرے گی۔ اس سلسلے میں وزیراعظم آزاد کشمیر کی جانب سے جوائنٹ پبلک ایکشن کمیٹی سے رابطے کا بھی امکان ظاہر کیا جا رہا ہے تاکہ مختلف سیاسی اور سماجی حلقوں کو اعتماد میں لیا جا سکے۔
دوسری جانب آزاد کشمیر میں انتخابی اصلاحات کے موضوع پر کل ہونے والی آل پارٹیز کانفرنس بھی غیر معمولی اہمیت اختیار کر گئی ہے۔ سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ مہاجرین کی نشستیں کم کرنے کی تجویز پر اتفاق رائے پیدا ہونے سے انتخابی نظام میں اصلاحات کی راہ ہموار ہو سکتی ہے۔
ذرائع کے مطابق اس معاملے پر مختلف سیاسی جماعتوں اور اسٹیک ہولڈرز کے درمیان مشاورت جاری ہے، جبکہ وفاقی حکومت بھی ایسا حل تلاش کرنے کی کوشش کر رہی ہے جو تمام فریقوں کے لیے قابل قبول ہو۔
سیاسی حلقوں کا ماننا ہے کہ اگر اس معاملے پر اتفاق رائے پیدا ہو جاتا ہے تو یہ آزاد کشمیر کی سیاسی تاریخ میں ایک اہم سنگ میل ثابت ہو سکتا ہے۔