گردی جنگل کیمپ سے تمام 70 ہزار افغان مہاجرین کو افغانستان بھیج دیا گیا، خالی گھر مسمار کرنے کا عمل شروع
اشاعت کی تاریخ: 30th, November 2025 GMT
گردی جنگل کیمپ سے تمام 70 ہزار افغان مہاجرین کو افغانستان بھیج دیا گیا، خالی گھر مسمار کرنے کا عمل شروع WhatsAppFacebookTwitter 0 30 November, 2025 سب نیوز
چاغی(آئی پی ایس )ضلعی انتظامیہ چاغی اور دالبندین رائفلز نیگردی جنگل کیمپ میں تمام مہاجرین کورجسٹریشن کے بعد افغانستان روانہ کردیا۔ذرائع کے مطابق انتظامیہ نیکیمپ میں خالی ہونے والے گھروں اور دکانوں کو گرانے کا عمل بھی شروع کردیا ہے، اس حوالے سے سامنے آنے والی فوٹیج میں دیکھا جاسکتا ہے کہ گردی جنگل کیمپ میں خالی مکانات کی توڑ پھوڑ جاری ہے۔
ذرائع کا بتانا ہے کہ کیمپ کیافغان مہاجرین کو باقاعدہ دستاویزی کارروائی کے بعد افغانستان واپس روانہ کیا گیا۔ذرائع نے کہا کہ بلوچستان کے سب سے بڑیافغان مہاجرین کیمپ گردی جنگل کیمپ میں 70ہزار افغان مہاجرین رہائش پذیر تھے۔
ذرائع کا مزید کہنا تھا کہ انتظامیہ کے مطابق 26 نومبر سے لجے افغان مہاجر کیمپ میں کارروائیوں کا آغاز کردیا گیا ہے اور تمام کارروائیاں ریاستی پالیسی کے مطابق کی جا رہی ہیں۔ذرائع نے بتایا کہ لجے کیمپ خالی ہونے کے بعد وہاں موجود غیر قانونی ڈھانچوں کو بھی ہٹا دیا جائے گا۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرمعروف بزنس مین اور ایمان گروپ آف کمپنیز کے مالک کی گاڑی پر فائرنگ ،سیکیورٹی گارڑ شدید زخمی،نامعلوم افراد کے خلاف مقدمہ درج راستہ تبدیل نہیں ہوگا، ضرورت پڑی تو اسلام آباد کا رخ کریں گے: مولانا فضل الرحمان کے پی میں گورنر راج کے نفاذ پر غور،قیادت کون کرے گا؟مشاورت جاری انڈر 17 ایشین کپ کوالیفائر: پاکستان نے گوام کیخلاف تاریخی فتح حاصل کرلی قواعد نہ ہونے کے باوجود آئینی عدالت میں اعلی ترین تعیناتیوں کی منظوری، 8 سینئر عہدے تخلیق کر دیے گئے سی ڈی ایف کی تعیناتی کا عمل شروع،قیاس آرائیں بے بنیاد ہیں،وزیر دفاع آئی ایم ایف سے سٹاف لیول معاہدہ ہو چکا،جلد بورد منظوری دے گا: وزیر خزانہCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم.ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: گردی جنگل کیمپ افغان مہاجرین مہاجرین کو کا عمل
پڑھیں:
امریکا کا افغان پاسپورٹ ہولڈرز کے ویزے اور اسائلم فیصلے فوری معطل کرنے کا فیصلہ
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
واشنگٹن: امریکا نے افغان پاسپورٹ ہولڈرز کے ویزے اور اسائلم فیصلے فوری معطل کرنے کا فیصلہ کرلیا۔
بین الاقوامی خبر رساں اداروں کے مطابق امریکی حکومت نے اچانک فیصلہ کرتے ہوئے افغان پاسپورٹ رکھنے والے افراد کے لیے تمام ویزا درخواستوں اور اسائلم کیسز پر کارروائی روک دی ہے۔
اس اعلان سے وہ لوگ بھی غیر یقینی صورتحال کا شکار ہوگئے ہیں جن کی درخواستیں آخری مراحل میں تھیں۔ امریکی محکمہ خارجہ نے اس فیصلے کو قومی سلامتی اور داخلی تحفظ کے تناظر میں فوری اور ناگزیر قدم قرار دیا ہے۔
محکمہ خارجہ کے مطابق افغانستان سے سفر کرنے والے یا افغان پاسپورٹ استعمال کرنے والے تمام افراد کے ویزے عارضی طور پر معطل کیے گئے ہیں اور یہ پابندی اس وقت تک برقرار رہے گی جب تک متعلقہ ادارے نئی سیکورٹی ہدایات کے مطابق ضروری جانچ مکمل نہیں کرلیتے۔
بیان میں واضح کیا گیا کہ حالیہ بدامنی اور سیکورٹی خدشات نے حکام کو مجبور کیا کہ ویزوں سے متعلق تمام امور فی الحال روک دیے جائیں تاکہ کسی بھی ممکنہ خطرے سے پیشگی نمٹا جا سکے۔
اس فیصلے کے بعد یو ایس سٹیزن شپ اینڈ امیگریشن سروسز نے بھی اسی نوعیت کا حکم جاری کیا ہے، جس کے تحت اسائلم کیسز سمیت تمام امیگریشن درخواستیں اس وقت تک آگے نہیں بڑھائی جائیں گی جب تک ہر درخواست گزار کی مکمل اسکریننگ نہ ہوجائے۔
ادارے کے ڈائریکٹر جوزیف ایڈلو نے واضح کیا کہ اب کسی بھی فرد کی درخواست اس وقت تک قابلِ غور نہیں ہوگی جب تک وہ سیکورٹی کلیئرنس کے تمام مراحل سو فیصد مکمل نہ کرلے۔
صدر ٹرمپ نے ایک روز قبل ہی اعلان کیا تھا کہ وہ ترقی پذیر اور جنگ زدہ ممالک سے ہجرت کے راستے مستقل طور پر محدود کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ انہوں نے اپنے بیان میں کہا کہ ایسے افراد جنہیں داخلی امن کے لیے خطرہ سمجھا جائے گا، ان کی شہریت تک واپس لی جا سکتی ہے۔ اس بیان کو ماہرین پہلے ہی ایک بڑے پالیسی موڑ کے طور پر دیکھ رہے تھے، جس کے بعد اب یہ عملی اقدامات سامنے آگئے ہیں۔
یاد رہے کہ 2 روز قبل وائٹ ہاؤس کے قریب فائرنگ کے ایک واقعے میں ایک افغان نژاد شخص نے نیشنل گارڈز کو نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں ایک خاتون اہلکار ہلاک اور ایک زخمی ہوگیا۔ امریکی میڈیا کے مطابق مبینہ حملہ آور 2021 میں ری سیٹلمنٹ پروگرام کے تحت امریکا پہنچا تھا، اور اب اس واقعے نے امریکی امیگریشن پالیسی پر براہِ راست اثر ڈالا ہے۔
حکام کا کہنا ہے کہ موجودہ صورت حال میں ترجیح امریکی شہریوں اور ریاستی اداروں کی حفاظت ہے، اسی لیے افغان شہریوں کے تمام امیگریشن پراسیس وقتی طور پر روکے گئے ہیں۔
دوسری جانب ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر سیکورٹی اداروں کی تحقیقات مزید سختیاں تجویز کریں تو یہ پابندیاں طویل بھی ہوسکتی ہیں۔