واشنگٹن میں افغان شہری کی فائرنگ، عدالت میں ملزم کا حیران کن مؤقف سامنے آگیا
اشاعت کی تاریخ: 3rd, December 2025 GMT
واشنگٹن میں افغان شہری کی فائرنگ، عدالت میں ملزم کا حیران کن مؤقف سامنے آگیا WhatsAppFacebookTwitter 0 3 December, 2025 سب نیوز
واشنگٹن (آئی پی ایس) واشنگٹن میں وائٹ ہاؤس کے قریب فائرنگ کے واقعے میں نیشنل گارڈ کے ایک اہلکار کو ہلاک اور دوسرے کو زخمی کرنے کے الزام میں گرفتار افغان شہری نے عدالت میں تمام الزامات تسلیم کرنے سے انکار کردیا ہے۔
تفصیلات کے مطابق 29 سالہ رحمان اللّٰہ لکنوال کو اسپتال میں زیرِ علاج ہونے کے باعث ویڈیو لنک کے ذریعے مجسٹریٹ کے سامنے پیش کیا گیا، جہاں اس نے اپنے اوپر عائد الزامات کو رد کردیا۔ دورانِ سماعت وہ شدید تکلیف کے باعث آنکھیں بند کیے رکھا۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرآٹھ جنگیں رکوائیں ہر جنگ پر نوبل انعام ملنا چاہیے لیکن میں لالچی نہیں بننا چاہتا، ٹرمپ آٹھ جنگیں رکوائیں ہر جنگ پر نوبل انعام ملنا چاہیے لیکن میں لالچی نہیں بننا چاہتا، ٹرمپ ٹرمپ انتظامیہ نے 19 ممالک کے تارکین وطن کی امیگریشن درخواستیں روک دیں وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کا کم عمر بچوں کو سمارٹ کارڈ، موٹرسائیکل ڈرائیونگ لائسنس کے اجراکا اعلان برآمدات میں اضافے پر مبنی معاشی ترقی کیلئے عملی اقدامات اٹھا رہے ہیں، وزیراعظم پی ٹی آئی کا صوابی انٹرچینج پراحتجاج، موٹروے بند کردی عمران خان سے ملاقات بہنوں کا حق تھا جو مل گیا، جیل میں سیاسی ملاقاتیں ممکن نہیں ہیں، فیصل واوڈاCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
پڑھیں:
جارحیت کی قیمت واشنگٹن کو بہت مہنگی پڑے گی، عباس عراقچی
تہران:ایران نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ممکنہ نئی فوجی کارروائی کے اشاروں پر سخت ردعمل دیتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ کسی بھی غیر ذمہ دارانہ عسکری اقدام کے نتائج امریکا کے لیے انتہائی مہنگے ثابت ہوں گے۔
ایرانی وزیر خارجہ سید عباس عراقچی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری اپنے بیان میں کہا کہ امریکی انتظامیہ کے بعض بااثر حلقے زمینی حقائق کو نظر انداز کر رہے ہیں اور ان کی توجہ خطے کی موجودہ صورتحال کے بجائے 2028 کے صدارتی انتخابات پر مرکوز دکھائی دیتی ہے۔
مزید پڑھیںمشرق وسطیٰ کی صورتحال کنٹرول سے باہر ہوتی جارہی ہے، یو این سیکریٹری جنرل
انہوں نے کہا کہ واشنگٹن میں موجود کچھ عناصر حقیقت پسندانہ انداز میں حالات کا جائزہ لینے کے بجائے ایسے فیصلوں کی حمایت کر رہے ہیں جو خطے میں مزید کشیدگی کو جنم دے سکتے ہیں۔
ان کے بقول اگر امریکہ نے جذباتی یا غیر دانشمندانہ جارحیت کا راستہ اختیار کیا تو اس کی سیاسی اور سفارتی قیمت صدر ٹرمپ کو خود ادا کرنا پڑ سکتی ہے۔
عباس عراقچی کا کہنا تھا کہ طاقت کے استعمال یا دھمکیوں سے مسائل حل نہیں ہوں گے بلکہ اس سے خطے کی صورتحال مزید پیچیدہ اور خطرناک ہو جائے گی۔