ٹرمپ کانگو اور روانڈا کے امن معاہدے کی میزبانی کرینگے
اشاعت کی تاریخ: 3rd, December 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
واشنگٹن (انٹرنیشنل ڈیسک) وائٹ ہاؤس نے اعلان کیا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ثالثی میں روانڈا اور جمہوریہ کانگو کے صدور جمعرات کے روز واشنگٹن میں امن معاہدے پر دستخط کریں گے، جس کا مقصد خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور مسلح جھڑپوں کا خاتمہ ہے۔ وائٹ ہاؤس کی پریس سیکرٹری کیرولین لیویٹ نے بتایا کہ امریکی صدر نے خود ثالثی کی ہے۔ اس سے قبل جون میں دونوں ممالک کے وزرائے خارجہ نے وائٹ ہاؤس میں ایک معاہدے پر دستخط کیے تھے، لیکن اس کے باوجود خطے میں تشدد جاری رہا اور فریقین ایک دوسرے کو قصور وار ٹھہراتے رہے۔ روانڈا کے صدر پال کاگامے نے گزشتہ ہفتے الزام لگایا کہ کانگو کی حکومت معاہدے پر دستخط میں تاخیر کر رہی ہے۔ معدنی وسائل سے مالا مال یہ خطہ 3دہائیوں سے مسلح تنازعات کا شکار ہے جس میں لاکھوں افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ رواں سال جنوری میں روانڈا کے حمایت یافتہ مسلح گروہ ایم 23 نے وسیع علاقوں پر قبضہ کر لیا تھا، جن میں گوما اور بوکاوو جیسے اہم شہر شامل ہیں۔ روانڈا نے اپنے فوجی اقدامات کے خاتمے کو کانگو کی جانب سے تخریبی تنظیم ایف ڈی ایل آر کی سرگرمیوں کے خاتمے سے مشروط کیا ہے جو 1994 ء کی روانڈا نسل کشی سے منسلک ہے۔کانگو کے صدر فیلکس تشی سیکیدی کی ترجمان ٹینا سلاما کے مطابق صدر واشنگٹن جا رہے ہیں جہاںروانڈا کے ساتھ امن معاہدے کی توثیق کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ معاہدے پر عمل کے لیے ملک کی خودمختاری کا احترام اور روانڈا کے دستوں کا کانگوکے علاقوں سے انخلا ضروری ہے۔ روانڈا کے وزیر خارجہ اولیویئر ندھونگیرہے نے بھی صدر کاگامے کے دورئہ واشنگٹن کی تصدیق کی ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: معاہدے پر روانڈا کے
پڑھیں:
اسرائیل کی عدم آمادگی امریکا ایران معاہدے کو خطرے میں ڈال سکتی ہے، تجزیہ کار
مشرق وسطیٰ کونسل برائے عالمی امور کے فیلو عمر رحمان نے الجزیرہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا اسرائیل کے عزائم سے یہ تاثر ملتا ہے کہ وہ جنوبی لبنان پر طویل مدت تک اپنا کنٹرول برقرار رکھنا چاہتا ہے اور وہاں آبادی کی جبری بے دخلی کی پالیسی پر عمل پیرا ہے، جس کے آثار موجودہ صورتحال میں نمایاں طور پر دیکھے جا سکتے ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ تجزیہ کاروں نے کہا ہے کہ اسرائیل کی عدم آمادگی امریکہ اور ایران کے درمیان ممکنہ معاہدے کو خطرے میں ڈال سکتی ہے۔ عالمی تجزیہ کاروں نے کہا ہے کہ اسرائیل اس وقت ایسے کسی معاہدے کیلئے تیار دکھائی نہیں دیتا، جس کے تحت لبنان میں جاری کشیدگی اور جنگی کارروائیوں کا خاتمہ ضروری ہو۔ مشرق وسطیٰ کونسل برائے عالمی امور کے فیلو عمر رحمان نے الجزیرہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا اسرائیل کے عزائم سے یہ تاثر ملتا ہے کہ وہ جنوبی لبنان پر طویل مدت تک اپنا کنٹرول برقرار رکھنا چاہتا ہے اور وہاں آبادی کی جبری بے دخلی کی پالیسی پر عمل پیرا ہے، جس کے آثار موجودہ صورتحال میں نمایاں طور پر دیکھے جا سکتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اگرچہ واشنگٹن اور تہران کے درمیان اب بھی بعض اختلافات موجود ہیں، تاہم دونوں ممالک ایسے معاہدے تک پہنچ سکتے ہیں، جسے بعد میں مزید تفصیل کے ساتھ مذاکرات کے ذریعے وسعت دی جا سکے، حزب اللہ کے ساتھ جنگ بندی کے معاہدے پر آمادہ نہ ہونے کی اسرائیلی پالیسی پورے عمل کو سبوتاژ کرنے اور امریکہ ایران معاہدے کو ناکام بنانے کی صلاحیت رکھتی ہے۔