8 جنگیں رکوائیں ہر جنگ پر نوبل انعام ملنا چاہیے لیکن میں لالچی نہیں بننا چاہتا، ٹرمپ
اشاعت کی تاریخ: 3rd, December 2025 GMT
امریکی صدر ٹرمپ نے کہا ہے کہ مجھے نوبل امن انعام اس لیے نہیں ملا کہ روس یوکرین جنگ نہیں رکوائی کہا گیا کہ یہ جنگ رکوائیں گے تو انعام ملے گا لیکن یہ نہیں دیکھا گیا کہ میں نے 8 جنگیں رکوائیں۔
کابینہ اجلاس سے خطاب میں امریکی صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ انہیں تو ہر جنگ رکوانے پر امن انعام ملنا چاہیے لیکن وہ لالچی نہیں بننا چاہتے، ان کا مزید کہنا تھا کہ نوبل انعام پانی والی خاتون نے بھی مجھے امن کے نوبل انعام کا حقدار قرار دیا ہے۔
TRUMP: "Every time I end a war they say, 'If President Trump ends that war, he's going to get the Nobel Prize.
"If I end that war... 'Well, he won't get it for that war. But if he ever gets it for the next war.'"
"Now they're saying, 'If he ever ends the war with Russia and… pic.twitter.com/18ed7CAYxO — Fox News (@FoxNews) December 2, 2025
صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ مجھے جنگوں کے باعث ہونے والی اموات کی فکر ہوتی ہے گزشتہ ماہ روس یوکرین جنگ میں 27ہزار افراد مارے گئے۔
صدر ٹرمپ نے کہا کہ میں نے پاک بھارت جنگ سمیت 8 جنگیں رکوائیں اور اب نویں جنگ روس یوکرین کی ہوگی جسے میں رکواؤں گا، ان کا کہنا تھا کہ روس یوکرین جنگ رکوانا اتنا آسان نہیں، صورتحال بہت پیچیدہ ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: کہنا تھا کہ روس یوکرین
پڑھیں:
فراہمی آب کا ’کے فور منصوبہ‘ مزید تاخیر کا شکار، 2029ء تک مکمل ہونے کا امکان
12 سال پہلے یہ منصوہہ 25 ارب روپے مکمل ہو جانا تھا، تاہم اب اس کی لاگت 200 ارب روپے سے زائد ہو چکی ہے اور آنے والے وقت تخمینی لاگت میں مزید اضافہ کا بھی امکان ہے۔ اسلام ٹائمز۔ شہر قائد میں اضافی پانی کا منصوبہ ’کے فور‘ کی تکمیل میں مزید تین سال لگ سکتے ہے، جبکہ منصوبے کا اصل کام تو ابھی شروع ہی نہیں ہوا، جب وہ ہوگا تو شہر کی مرکزی سڑکیں متاثر ہوگی، حکام نے بتایا کہ 12 سال پہلے یہ منصوہہ 25 ارب روپے مکمل ہو جانا تھا، تاہم اب اس کی لاگت 200 ارب روپے سے زائد ہو چکی ہے اور آنے والے وقت تخمینی لاگت میں مزید اضافہ کا بھی امکان ہے۔ تفصیلات کے مطابق کراچی میں پانی کی طلب 1 ارب 20 کروڑ گیلن ہے، جبکہ رسد 65 کروڑ گیلن ہے شہر کو مزید پانی فراہم کرنے کیلئے کے فور منصوبہ بنانے کا اعلان کیا تھا، لیکن حکومتین تبدیل ہوتی رہی لیکن یہ منصوبہ 20 سال سے زیر التواء ہے۔ 2014ء میں اس منصوبے کو وفاق اور سندھ حکومت نے مل کر بنانا تھا، جس کی لاگت 25 ارب روپے بتائی گئی تھی لیکن پھر کھٹائی میں پڑ گیا، تاہم پھر اس کو واپڈا کو دیا گیا اور اس کی مکمل ہونے کی ڈیڈ لائن بھی دی گئی لیکن اس میں مکمل نہیں ہو سکا۔ کئی ڈیڈ لائن گزر گئیں لیکن منصوبہ مکمل نہیں ہوسکا، تاہم اب وفاقی وزیر احسن اقبال نے دسمبر 2026ء کی ڈیڈ لائن دی ہے۔
کے فور منصوبہ 2026ء میں بھی مکمل نہیں ہو سکے گا، اس کی مکمل ہونے کا امکان 2029ء کی جنوری تک ہے۔ کے فور منصوبے پر وفاق کی جانب سے تین کام کئے جانے ہیں، جن میں ٹراسمیشن لائن، پمپنگ اسٹیشن اور فلٹر پلانٹ بنانے کے کام کی ذمہ داری ہے، جبکہ سندھ حکومت کے پاس چار کام کرنے تھے، اس میں اراضی مہیا کرنا، آگمینٹیشن، الیکٹرک سپلائی اور اری گیشن کی ذمہ داری تھی، جو کینچھر جیل سے پانی فراہم کرنے میں مدد کریگا۔ اس منصوبے کا ابھی بہت کام کرنا باقی ہے، آگمیٹیشن کا نیپا سے حسن اسکوائر کا نومبر 2025ء سے اب تک کام مکمل نہیں ہوسکا، بلکہ بین الاقومی مالیاتی ادارے نے اس کو غیر معیاری قرار دے دیا ہے اور ابھی تو بہت کام باقی ہے، جب یہ لائنیں شہر کی مرکزی راستوں میں ڈالی جائیں گی اس وقت شہریوں کو آمدورفت میں مزید مشکلات کا سامنا کرنا پڑیگا۔