یوکرین تنازع کا حل اتنا آسان نہیں، ٹرمپ کا اعتراف، پاک بھارت جنگ رکوانے کا پھر ذکر
اشاعت کی تاریخ: 2nd, December 2025 GMT
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ یوکرین کا تنازع انتہائی پیچیدہ صورتحال اختیار کر چکا ہے اور اس مسئلے کا حل آسان نہیں ہے۔
کابینہ اجلاس سے خطاب میں انہوں نے کہاکہ انہوں نے اب تک 8 جنگوں کو رکوانے میں کردار ادا کیا ہے، جبکہ روس یوکرین تنازع نویں جنگ ہوگی جس کے خاتمے کی کوششیں جاری ہیں۔
مزید پڑھیں: جی20 ممالک کے اجلاس میں روس یوکرین امن منصوبے پر غور، امریکا نے بائیکاٹ کیوں کیا؟
ٹرمپ نے بتایا کہ انہیں کہا گیا تھا کہ اگر وہ یہ جنگ رُکوا دیں تو انہیں نوبیل انعام دیا جائے گا، مگر یوکرین کا معاملہ بہت زیادہ الجھا ہوا ہے۔
انہوں نے یہ بھی کہاکہ بھارت اور پاکستان کے درمیان کشیدگی سمیت متعدد تنازعات کو کم کرنے میں انہوں نے اہم کردار ادا کیا، اور اگر انصاف کیا جائے تو ہر رکی ہوئی جنگ پر انہیں نوبیل انعام ملنا چاہیے، لیکن وہ لالچ نہیں رکھنا چاہتے۔
ٹرمپ نے ذکر کیاکہ ایک نوبیل انعام یافتہ خاتون بھی اس بات کا اعتراف کر چکی ہیں کہ وہ اس ایوارڈ کے حقدار تھے، اور وہ ان کے اس مؤقف کی قدر کرتے ہیں۔
اپنی گفتگو میں انہوں نے کہاکہ انہیں اعزازات کی خواہش نہیں، اصل فکر جنگوں میں ہونے والی قیمتی جانوں کے ضیاع کی ہے۔
مزید برآں صدر ٹرمپ نے اعلان کیا کہ لوزیانا اور نیو اورلینز میں قومی گارڈز تعینات کیے جائیں گے اور یہ اقدام آئندہ دو ہفتوں کے اندر مکمل ہو جائے گا۔
دوسری جانب روسی صدر ولادیمیر پیوٹن نے یورپی ممالک کو سخت تنبیہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر یورپ نے جنگ چھیڑنے کا فیصلہ کیا تو روس تیسری عالمی جنگ کے لیے مکمل طور پر تیار ہے۔
عالمی میڈیا کے مطابق پیوٹن نے کہاکہ روس کی یورپ سے لڑائی کی کوئی خواہش نہیں، اور وہ یہ بات متعدد بار دہرا چکے ہیں، تاہم اگر یورپی ممالک نے محاذ آرائی پر اصرار کیا تو روس جواب دینے کی بھرپور صلاحیت رکھتا ہے۔
مزید پڑھیں: لڑائی کی خواہش نہیں لیکن جنگ چھڑ گئی تو مکمل تیار ہیں، پیوٹن کی یورپی ممالک کو تنبیہ
پیوٹن نے خبردار کیاکہ حالات نہایت تیزی سے اس سطح تک جا سکتے ہیں جہاں مذاکرات کا کوئی امکان باقی نہیں رہے گا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ روسی صدر ولادیمیر پیوٹن وی نیوز یوکرین تنازع.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ولادیمیر پیوٹن وی نیوز یوکرین تنازع انہوں نے
پڑھیں:
’سب کچھ تیار ہے‘ ٹرمپ نے ایران پر تاریخ کے سب سے بڑے حملے کا اشارہ دیدیا
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ ایران پر اب تک کے سب سے بڑے فوجی حملے کی منظوری دینے کے قریب ہیں۔
امریکی خبر رساں ادارے سے گفتگو میں صدر ٹرمپ نے کہا کہ میں ایران پر ایک بہت بڑے حملے پر غور کر رہا ہوں جو پہلے ہونے والے تمام حملوں سے کہیں بڑا ہوگا۔
انھوں نے مزید کہا کہ اگرچہ ابھی حتمی فیصلہ نہیں کیا گیا۔ تمام عسکری آپشنز زیر غور ہیں۔ میں فیصلہ کرنے کے بہت قریب ہوں اور اس کی تمام تیاریاں بھی مکمل ہیں۔
امریکی صدر ٹرمپ نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ اگر وہ چاہیں تو اسرائیل دو منٹ میں اس کارروائی میں شامل ہو جائے گا تاہم ہمیں کسی کی ضرورت نہیں۔
قبل ازیں ایران کے حمایت یافتہ یمنی حوثیوں کے بحیرہ احمر میں دو سعودی آئل ٹینکروں پر حملے کے بعد امریکی صدر نے ایران اور حوثیوں دونوں کو بڑی فوجی سزا دینے کی دھمکی بھی دی تھی۔
صدر ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر لکھا تھا کہ اگر حوثیوں نے دوبارہ ایسے حملے کیے تو امریکا انھیں ایران کی کارروائی تصور کرے گا کیونکہ حوثی اس کے حمایت یافتہ گروہ ہیں۔
دوسری جانب مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث عالمی منڈی میں برینٹ خام تیل کی قیمت ایک بار پھر 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کرچکی ہے۔
بحیرہ احمر اور باب المندب میں جہاز رانی کو لاحق خطرات نے عالمی توانائی منڈی میں تشویش بڑھا دی ہے۔
ادھر اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے نے کہا کہ صورتحال قابو سے باہر ہوتی جا رہی ہے۔ خطہ مسلسل وسیع ہوتے تصادم کی لپیٹ میں آ رہا ہے۔ ایک بحران دوسرے بحران کو جنم دے رہا ہے اور ہر نئی کشیدگی اگلی کشیدگی کا سبب بن رہی ہے۔