پشاور میں 10 سالہ بچی کو زیادتی کے بعد قتل کرنے والا زیر حراست ملزم ساتھیوں کی فائرنگ سے ہلاک
اشاعت کی تاریخ: 2nd, December 2025 GMT
خیبرپختونخوا کے دارالحکومت میں 10 سالہ بچی سے زیادتی اور قتل کرنے والا ملزم اپنے ہی ساتھیوں کی فائرنگ سے ہلاک ہوگیا۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق پشاور یکہ توت تھانے کی حدود میں دس سالہ بچی کے ساتھ زیادتی کرکے قتل کرنے والا سفاک ملزم سمیع اللہ کو ساتھیوں نے چھڑانے کی کوشش کی جس کے دوران وہ ملزمان کی ہی فائرنگ سے ہلاک ہوگیا۔
پولیس کے مطابق ملزم کے خلاف مقدمہ آغا میر جانی شاہ میں درج تھا جس کو نشاندہی کیلیے لے جایا جارہا تھا تو موٹرسائیکل پر سوار اُس کے ساتھیوں نے پولیس پارٹی پر فائرنگ کردی۔
موٹرسائیکل پر سوار ملزمان کی فائرنگ سے پولیس موبائل کو نقصان پہنچا جبکہ زیر حراست ملزم سمیع اللہ ولد سعد اللہ سکنہ لالی باغ لگ کر زخمی ہوگیا اور ملزمان فرار ہوگئے۔
واقعہ کی اطلاع ملتے ہی ڈی ایس پی یکہ توت سرکل سعید الرحمن ، ایس ایچ او تھانہ آغا میر جانی شاہ گلزار خان بھاری نفری کے ہمراہ فوری موقع پر پہنچے اور ملزم کو علاج کیلیے اسپتال منتقل کیا گیا جہاں وہ زخموں کی تاب نہ لاکر جان بحق ہوگیا۔
پولیس کے مطابق فائرنگ کرنے والے ملزمان کی گرفتاری کیلئے علاقے میں سرچ آپریشن شروع کردی گئی ہے جبکہ مختلف مقامات پر قائم ناکہ بندیوں پر چیکنگ جاری ہے ملوث ملزمان جلد ہی قانون کی گرفت میں ہوں گے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: فائرنگ سے
پڑھیں:
راولپنڈی: 1300 روپے کیلئے 2 نوجوان قتل، 7 ملزمان گرفتار
— فائل فوٹوراولپنڈی میں 13 سو روپے کے لین دین پر 2 نوجوانوں کے قتل میں ملوث دونوں فریقین کے 7 افراد کو پولیس نے گرفتار کر لیا۔
پولیس کے مطابق مقتول زین شاہ کے قتل میں ملوث 6 افراد کو گرفتار کر لیا گیا ہے، ملزمان نے زین شاہ کو ٹارچر کر کے سفاکانہ طریقے سے قتل کیا تھا جبکہ مقتول سراج کے قتل میں ملوث ایک شخص کو گرفتار کیا گیا ہے۔
پولیس کا کہنا ہے کہ گرفتار ملزم نے ساتھیوں کے ہمراہ مقتول سراج پر گولی چلائی تھی، واقعہ 8 مئی کو تھانہ دھمیال کے علاقے پیر مہر علی شاہ ٹاؤن میں پیش آیا تھا۔
راولپنڈی میں کلرسیداں کے علاقے بشندوٹ میں 4 روز قبل دوران ڈکیتی قتل کا ڈراپ سین ہو گیا۔
پولیس کے مطابق مقتول زین شاہ نے مقتول سراج کی دکان سے گھر کے لیے خریداری کی تھی، مقتول سراج نے بقایا رقم 13 سو روپے کا تقاضہ کیا تو جھگڑا ہوا تھا۔
جھگڑے کے دوران گولی چلی جس سے مقتول سراج موقع پر جاں بحق ہو گیا تھا جبکہ مقتول سراج کا بدلہ لینے کے لیے اس کے رشتے داروں نے زین شاہ کو اغواء کر کے قتل کر دیا تھا۔