خصوصی افراد کے لیے رکاوٹوں سے پاک معاشرہ بنانا مشترکہ ذمہ داری ہے، مراد علی شاہ
اشاعت کی تاریخ: 3rd, December 2025 GMT
فائل فوٹو
وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے کہا ہے کہ خصوصی افراد کے لیے رکاوٹوں سے پاک معاشرہ بنانا مشترکہ ذمہ داری ہے، کسی بھی سماجی ترقی کا معیار صرف معاشی اعداد و شمار سے نہیں بلکہ سماج کی ترقی، ہمدردی اور مساوی مواقع سے ناپا جاتا ہے۔
کراچی میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ سندھ حکومت نے ڈپارٹمنٹ آف دی پرسن وتھ ڈس ایبلٹیز مستحکم کیا ہے، حیدرآباد، لاڑکانہ، شہید بینظیر آباد میں بھی معاون آلات کی تقسیم کیے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ وہیل چیئرز، ٹرائی سائیکلز اور سماعتی آلات سے ہزاروں افراد مستفید ہوئے ہیں، پیپلز پارٹی نے کورنگی میں پاکستان کا سب سے بڑا سینٹر آف ایکسیلنس قائم کیا ہے۔
سندھ مراد علی شاہ نے کہا ہے کہ ہمیں علم ہونا چاہیے کہ بچے کہاں جارہے ہیں، بچوں کی مانیٹرنگ کا نظام ہر اسکول میں ہونا چاہیے۔
وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ کورنگی سینٹر میں آئی ٹی، ٹیکسٹائل اور وہیل چیئر مینوفیکچرنگ کی تربیت دی جارہی ہے، وہیل چیئر مینوفیکچرنگ اور ہنر مند تربیت سندھ حکومت کا بڑا قدم ہے۔
انہوں نے کہا کہ خصوصی افراد کے لیے حکومتی ملازمتوں میں 5 فیصد کوٹہ سختی سے نافذ ہے، صرف پالیسیاں کافی نہیں، ثقافتی رویوں میں تبدیلی ضروری ہے۔
وزیراعلیٰ مراد علی شاہ نے کہا کہ خصوصی نوجوان اسپورٹس، کاروبار اور ٹیکنالوجی میں نمایاں کردار ادا کر رہے ہیں، خصوصی اولمپکس میں بھی ہمارے نوجوانوں کامیابیاں حاصل کر رہے ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: مراد علی شاہ نے کہا کہ
پڑھیں:
سندھ میں مٹی کے طوفان نے تباہی مچا دی، 46 گرڈ اسٹیشن بند، درجنوں شہر اندھیرے میں ڈوب گئے
سکھر:سندھ کے مختلف اضلاع میں آنے والی شدید آندھی، مٹی کے طوفان اور موسلا دھار بارش نے بڑے پیمانے پر تباہی مچا دی۔
مورو میں طوفانی ہواؤں کے باعث گھروں، دکانوں، ہوٹلوں اور سرکاری و نیم سرکاری عمارتوں کی چھتوں پر نصب سولر پلیٹیں اور سائن بورڈ اکھڑ کر دور جا گرے جبکہ متعدد مقامات پر درخت اور بجلی کی تاریں بھی زمین بوس ہوگئیں۔
ریسکیو ذرائع کے مطابق مختلف حادثات میں کم از کم پانچ افراد زخمی ہوئے جنہیں فوری طور پر قریبی اسپتال منتقل کر دیا گیا۔
کئی علاقوں میں شہری خوف و ہراس کا شکار رہے جبکہ طوفان کے باعث معمولات زندگی شدید متاثر ہوئے۔
دوسری جانب لاڑکانہ، شکارپور، دادو اور گرد و نواح میں خراب موسمی صورتحال کے باعث بجلی کا ترسیلی نظام بھی بری طرح متاثر ہوا۔
سیپکو حکام کے مطابق شدید آندھی اور بارش کے نتیجے میں 220 کے وی گرڈ اسٹیشن لوڈرا، شکارپور اور دادو سے آنے والی 132 کے وی مین سپلائی متاثر ہوگئی جس کے باعث لاڑکانہ سرکل کے متعدد فیڈرز بند ہوگئے۔
سیپکو کنٹرول سینٹر کے مطابق طوفانی موسم سے 220 کے وی اور 132 کے وی کی متعدد اہم ٹرانسمیشن لائنیں ٹرپ کر گئیں جبکہ کئی مقامات پر ٹاورز، پولز اور بجلی کی لائنوں کو نقصان پہنچا ہے۔
صورتحال کے باعث مجموعی طور پر 46 گرڈ اسٹیشنز متاثر ہوئے جس سے لاڑکانہ، قمبر، شہدادکوٹ، کشمور، کندھکوٹ، گھوٹکی، خیرپور، نوشہروفیروز، مورو اور دیگر علاقوں میں بجلی کی فراہمی معطل یا شدید متاثر ہوگئی۔
سیپکو کے چیف ایگزیکٹو آفیسر انجینئر اعجاز احمد چنہ کی ہدایات پر آپریشن، کنسٹرکشن، جی ایس او اور فیلڈ ٹیموں کو ہنگامی بنیادوں پر متحرک کر دیا گیا ہے۔
انجینئرز اور تکنیکی عملہ متاثرہ علاقوں میں مرمتی کاموں میں مصروف ہے اور خراب ہونے والے پولز، ٹاورز اور ٹرانسمیشن لائنوں کی بحالی کا عمل جاری ہے۔
سیپکو حکام کا کہنا ہے کہ ادارہ اپنے تمام دستیاب وسائل استعمال کرتے ہوئے بجلی کی جلد بحالی کے لیے کام کر رہا ہے تاہم شدید موسمی حالات کے باعث مرمتی سرگرمیوں میں مشکلات کا سامنا ہے۔
متاثرہ علاقوں کے صارفین سے صبر و تحمل کی اپیل کرتے ہوئے یقین دلایا گیا ہے کہ بجلی کی فراہمی جلد از جلد بحال کرنے کی ہر ممکن کوشش کی جا رہی ہے۔