فائل فوٹو

وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے کہا ہے کہ خصوصی افراد کے لیے رکاوٹوں سے پاک معاشرہ بنانا مشترکہ ذمہ داری ہے، کسی بھی سماجی ترقی کا معیار صرف معاشی اعداد و شمار سے نہیں بلکہ سماج کی ترقی، ہمدردی اور مساوی مواقع سے ناپا جاتا ہے۔

کراچی میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ سندھ حکومت نے ڈپارٹمنٹ آف دی پرسن وتھ ڈس ایبلٹیز مستحکم کیا ہے، حیدرآباد، لاڑکانہ، شہید بینظیر آباد میں بھی معاون آلات کی تقسیم کیے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ وہیل چیئرز، ٹرائی سائیکلز اور سماعتی آلات سے ہزاروں افراد مستفید ہوئے ہیں، پیپلز پارٹی نے کورنگی میں پاکستان کا سب سے بڑا سینٹر آف ایکسیلنس قائم کیا ہے۔

بچوں کی مانیٹرنگ کا نظام ہر اسکول میں ہونا چاہیے: مراد علی شاہ

سندھ مراد علی شاہ نے کہا ہے کہ ہمیں علم ہونا چاہیے کہ بچے کہاں جارہے ہیں، بچوں کی مانیٹرنگ کا نظام ہر اسکول میں ہونا چاہیے۔

وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ کورنگی سینٹر میں آئی ٹی، ٹیکسٹائل اور وہیل چیئر مینوفیکچرنگ کی تربیت دی جارہی ہے، وہیل چیئر مینوفیکچرنگ اور ہنر مند تربیت سندھ حکومت کا بڑا قدم ہے۔

انہوں نے کہا کہ خصوصی افراد کے لیے حکومتی ملازمتوں میں 5 فیصد کوٹہ سختی سے نافذ ہے، صرف پالیسیاں کافی نہیں، ثقافتی رویوں میں تبدیلی ضروری ہے۔

وزیراعلیٰ مراد علی شاہ نے کہا کہ خصوصی نوجوان اسپورٹس، کاروبار اور ٹیکنالوجی میں نمایاں کردار ادا کر رہے ہیں، خصوصی اولمپکس میں بھی ہمارے نوجوانوں کامیابیاں حاصل کر رہے ہیں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Jang News

کلیدی لفظ: مراد علی شاہ نے کہا کہ

پڑھیں:

شدید گرمی میں سندھ میں 22 گھنٹے بجلی لوڈشیڈنگ ہو رہی ہے، شرجیل میمن

کراچی میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سینئر صوبائی وزیر نے کہا کہ لوڈشیڈنگ کے علاوہ لائن لاسز پر بھی پورے علاقے کی بجلی بند کر دی جاتی ہے، جو بل نہیں بھرتا ہے صرف اس کی بجلی کاٹنی چاہیئے لیکن کے الیکٹرک، حیسکو اور سیپکو کی نا اہلی کی وجہ سے عوام کو پریشانی کا سامنا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کہا ہے کہ اس وقت سندھ بھر کے عوام بجلی کی طویل لوڈشیڈنگ سے پریشان ہیں۔ سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کراچی میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ سندھ بھر کے عوام بجلی کی لوڈشیڈنگ کی وجہ سے پریشان ہیں، اندرون سندھ جہاں زیادہ گرمی ہے، وہاں 22، 22 گھنٹے بجلی بند کی جاتی ہے۔ شرجیل میمن نے کہا کہ لوڈشیڈنگ کے علاوہ لائن لاسز پر بھی پورے علاقے کی بجلی بند کر دی جاتی ہے، جو بل نہیں بھرتا ہے صرف اس کی بجلی کاٹنی چاہیئے لیکن کے الیکٹرک، حیسکو اور سیپکو کی نا اہلی کی وجہ سے عوام کو پریشانی کا سامنا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پوری دنیا میں کہیں بھی کلیکٹو پنشمنٹ نہیں ہوتی، اس معاملے پر عدالت بھی گیا اور ہائیکورٹ میں کلیکٹو پنشمنٹ کو غیر آئینی اور غیر قانونی دلوانے کے لیے پٹیشن بھی داخل کی، جو زیر التوا ہے۔ سندھ کے سینئر وزیر نے مزید کہا کہ بجلی کمپنیوں نے انفرا اسٹرکچر پر خرچہ نہیں کیا، پورا ٹرانسفارمر ہی اتار لیتے ہیں، کمپنیاں فائدہ کما رہی ہیں تو اپنے انفرا اسٹرکچر پر بھی خرچ کریں۔

متعلقہ مضامین

  • معاون خصوصی / وزیر مملکت نے اپنی وزارت میں پندرہ لاکھ کے مساج کا بل جمع کروادیا
  • بانی سے ملاقات نہ ہوئی تو وفاقی بجٹ پاس نہیں ہونے دیں گے: سہیل آفریدی
  • سندھ، پنجاب اور کے پی کے مختلف شہروں میں بارش اور مٹی کا طوفان
  • پنکی ڈرگ والی پر ڈرامہ بنانےکا اعلان کیا گیا، اس موضوع پر فلم بننی چاہیے تھی، عظمیٰ بخاری
  • جسٹس ریٹائرڈ مقبول باقر سندھ انسانی حقوق کمیشن کے چیئرپرسن مقرر
  • ہمارا ایک مطالبہ ہے بانی کو شفا انٹرنیشنل منتقل کیا جائے، سہیل آفریدی
  • شدید گرمی میں سندھ میں 22 گھنٹے بجلی لوڈشیڈنگ ہو رہی ہے، شرجیل میمن
  • کوہستان اسکینڈل منظر عام پر لانے والے صحافی کو اعزاز سے نواز دیا گیا
  • نوازشریف کا گلگت تک موٹروے بنانے، ایئرپورٹ بڑا کرنے اور الیکٹرک بسیں چلانے کا اعلان 
  • سندھ کی جیلوں میں گنجائش سے زائد قیدی موجود