یوسف رضا گیلانی کے بیٹے موبائل فونز پر پی ٹی اے ٹیکس کیوں ختم کرانا چاہتے ہیں؟
اشاعت کی تاریخ: 3rd, December 2025 GMT
چیئرمین سینیٹ یوسف رضا گیلانی کے بیٹے اور رکن قومی اسمبلی قاسم گیلانی کا کہنا ہے کہ ہم خود تو فون استعمال کرتے ہیں لیکن عام لوگوں کو اسے استعمال نہیں کرنے دیتے۔
ان کے مطابق سب سے زیادہ ایف آئی آر موبائل فونز کی رجسٹرڈ ہوتی ہیں۔ ’ایک فون پر 2 لاکھ 48 ہزار ٹیکس دیا، فون چوری ہو گیا تو اب اگلے روز نیا فون خرید کر نیا ٹیکس بھرنا ہوتا ہے، یہ بہت بڑی ناانصافی ہے۔‘
یہ بھی پڑھیں: موبائل فونز پر ناقابلِ برداشت ٹیکس سے چھٹکارا، 3 دسمبر کو کیا فیصلہ متوقع ہے؟
انہوں نے مطالبہ کیا کہ موبائل فونز کو شیڈول 9 سے شیڈول 8 میں منتقل کیا جائے، جس طرح سولر پینلز اور کمپیوٹرز شیڈول 8 میں شامل ہیں اور ان پر 17 فیصد تک ٹیکس ہے، جبکہ موبائل فونز پر 60 فیصد تک ٹیکس وصول کیا جاتا ہے۔
قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کے اجلاس میں موبائل فونز پر پی ٹی اے ٹیکس سے متعلق گفتگو کرتے ہوئے قاسم گیلانی نے کہا کہ اوورسیز پاکستانیوں کو ایک بھی فون لانے کی اجازت نہیں ہے، رشتے دار فون لانے کا کہتے ہیں، لیکن فون لاتے ہیں تو بھاری ٹیکس لگ جاتا ہے۔
مزید پڑھیں: حکومت کا قسطوں پر موبائل فون فراہم کرنے کا منصوبہ تعطل کا شکار
انہوں نے کہا کہ بہت سے لوگوں کے پاس 2 فون ہوتے ہیں ایک پی ٹی اے رجسٹرڈ اور ایک نان پی ٹی اے، دوسری جانب فائلراورنان فائلردونوں کوایک ہی ٹیکس ادا کرنا پڑتا ہے، جبکہ دیگر محکموں میں دونوں کے لیے الگ الگ شرحِ ٹیکس ہوتی ہے۔
’ایک فون پر متعدد ٹیکس لاگو ہیں۔ ودہولڈنگ ٹیکس تو ٹیکس ریٹرن میں ایڈجسٹ ہو جاتا ہے لیکن پی ٹی اے ٹیکس واپس نہیں ہوتا۔‘
مزید پڑھیں: وزیر اعظم کے وژن ’ڈیجیٹل پاکستان‘ کے تحت 9 نئے ٹیلی کام منصوبوں کی منظوری
قاسم گیلانی کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان میں تیار ہونے والے اسمارٹ فونز کی کوالٹی معیاری نہیں، اس لیے لوگوں کو بیرونِ ملک سے فون خریدنا پڑتے ہیں۔
’ہم لوکل فونز پر 5G بھی نہیں چلا سکتے۔‘
چیئرمین پی ٹی اے نے کمیٹی کو بتایا کہ پی ٹی اے کو اس ٹیکس کا ایک روپیہ بھی نہیں ملتا، تمام ٹیکس ایف بی آر کو جاتا ہے، لیکن تنقید پی ٹی اے پر ہوتی ہے۔
مزید پڑھیں: بیرون ملک سے موبائل لانے پر ٹیکس میں کمی، وزیراعظم شہباز شریف نے خوشخبری سنادی
چیئرمین کمیٹی نوید قمر نے کہا کہ یہ ٹیکس ایف بی آر نے نہیں بلکہ پارلیمنٹ نے منظور کیے ہیں۔
’ہم گاڑیاں بھی مہنگی خریدتے ہیں اور ان پر بھی بھاری ٹیکس ادا کرتے ہیں۔‘
قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ نے اس معاملے پر ایف بی آر سے منگل کو جواب طلب کر لیا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
پی ٹی اے ٹیکس چیئرمین سینیٹ قائمہ کمیٹی موبائل فون یوسف رضا گیلانی.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: پی ٹی اے ٹیکس چیئرمین سینیٹ قائمہ کمیٹی موبائل فون یوسف رضا گیلانی موبائل فونز پر پی ٹی اے ٹیکس موبائل فون جاتا ہے
پڑھیں:
حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف
حیدرآباد الیکٹرک سپلائی کمپنی (حیسکو) میں تنخواہوں اور الاؤنسز کی مد میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کرپشن کا انکشاف ہوا ہے۔
قومی اسمبلی کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے اجلاس میں آڈٹ حکام نے انکشاف کیا کہ حیسکو میں گھوسٹ ملازمین، ڈبل تنخواہوں کے ذریعے قومی خزانے کو نقصان پہنچایا گیا اور وفاقی تحقیقاتی ادارہ (ایف آئی اے)99 کروڑ 62 لاکھ کی مبینہ کرپشن کی تحقیقات کر رہا ہے۔
آڈٹ حکام نے مزید انکشاف کیا کہ حیسکو کی اندرونی انکوائری میں مزید 6 کروڑ 78 لاکھ روپے کی مشتبہ ادائیگیاں ہوئی ہیں۔
چیئرمین کمیٹی شاہدہ اختر کی زیرصدارت اجلاس میں ایف آئی اے حکام نے بتایا کہ اس معاملے میں ایف آئی آرز کی تعداد 5 ہوگئی تھی، 151 ملزمان تھے جن میں سے 14 کو گرفتار کیا گیا جبکہ دیگر ضمانت پر ہیں، ایک ارب روپے میں سے 13 کروڑ روپے کی ریکوری ہوئی ہے۔
رکن کمیٹی قاسم نون نے کہا کہ 13 کروڑ روپے کچھ بھی نہیں ہیں، سخت ایکشن لیا جائے، سید امین الحق نے کہا کہ گھوسٹ ملازمین کی تصدیق بھی کی گئی کہ وہ موجود ہیں۔
سینیٹر افنان اللہ خان نے کہا کہ وزارت کو چاہیے کہ وہ مداخلت کرے اور ذمہ داران کا تعین کرے۔
چیئرمین کمیٹی شاہد اختر نے کہا کہ یہ تو آڈٹ نے نشان دہی کر دی ہے، لگتا ہے کہ پاور ڈویژن کا کوئی چیک اینڈ بیلنس نہیں ہے، جس پر سی ای او حیسکو نے بتایا کہ 756 ملین روپے کی ذمہ داری بھی فکس ہو چکی ہے۔
شاہدہ اختر نے کہا کہ عدالت کے حکم تک یہ آڈٹ پیرا زیر التوا رہے گا، رکن کمیٹی سید حسین طارق نے سوال کیا کہ حیسکو میں بائیو میٹرک سسٹم کیوں نہیں ہے۔
پاکستان پیپلزپارٹی (پی پی پی) کی رکن شازیہ مری نے کہا کہ ہم ڈسکوز کو یہاں کمنٹس کے لیے نہیں احتساب کے لیے بلاتے ہیں، یہ لوگوں کو چور کہتے ہیں اور اپنی پرفارمنس کے گیت گاتے نہیں تھکتے۔
پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے ہدایت کی کہ 13 کروڑ روپے کی ریکوری کی آڈٹ سے تصدیق کرائی جائے، جو ریکوری رہ گئی ہے وہ معاملہ زیر التوا رہے گا۔