بیوی آدھی بھارتی، بیٹے کا نام شیکھر کیوں رکھا؟ ایلون مسک نے بتا دیا
اشاعت کی تاریخ: 2nd, December 2025 GMT
نیویارک (نیوزڈیسک) ایلون مسک کے بچوں کی تعداد اور ان کی بیویوں سے متعلق متضاد اطلاعات، خبریں اور افواہیں اب شاید دم توڑ دیں کیوں کہ پہلی بار انھوں نے اس بارے میں لب کشائی کی ہے۔
دنیا کے امیر ترین شخصیات میں سے ایک اور کسی حد تک پُراسرار ازدواجی زندگی کے مالک ایلون مسک نے پہلی بار اپنی فیملی کے بارے میں بات کی ہے۔
ٹیسلا اور اسپیس ایکس کے سی ای او ایلون مسک نے پہلی بار انکشاف کیا ہے کہ ان کی پارٹنر نیورالنک کی ایگزیکٹیو شیوان زِیلس ہیں۔
ایلون مسک نے مزید بتایا کہ شیوان زیلس سے ایک بیٹا ایسا بھی ہے جس کا نام شیکھر رکھا ہے۔ یہ نام نوبیل انعام یافتہ بھارتی سائنس دان چندر شیکھر سے متاثر ہوکر رکھا۔
انھوں نے میزبان سے کہا کہ مجھے نہیں معلوم کہ آپ جانتے ہیں یا نہیں، مگر میری پارٹنر شیوان آدھی بھارتی ہیں۔
ایلون مسک نے مزید بتایا کہ میری لائف پارٹنر شیوان زیلس کے والد بھارت سے کینیڈا بطور طالب علم آئے تھے اور واپس بھی چلے گئے۔
ایلون مسک کے بقول شیوان زیلس کینیڈا میں ہی پلی بڑھیں اور بچپن میں ہی ان کو گود لے لیا گیا تھا۔ ان کے والد کے بارے میں مکمل معلومات انھیں خود بھی نہیں ہے۔
خیال رہے کہ شیوان زیلس 2017 میں نیورالنک سے وابستہ ہوئیں اور اس وقت ڈائریکٹر آف آپریشنز اینڈ اسپیشل پروجیکٹس کے طور پر کام کر رہی ہیں۔
ایلون مسک سے شیوان کی پانچ اولادیں ہیں جن میں سے ایک جڑواں ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: ایلون مسک نے شیوان زیلس
پڑھیں:
میاں بیوی کو تین سالہ بچی سمیت اٹھانے کی سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست ، لاہور ہائیکورٹ کی متعلقہ عدالت سے رجوع کرنے کی ہدایت
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 02 جون2026ء) لاہور ہائیکورٹ نے سی سی ڈی اہلکاروں کی جانب سے میاں بیوی اور تین سالہ بچی کو گھر سے اٹھانے کے معاملے میں سی سی ٹی وی کیمروں کی وڈیو فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست مسترد کرتے ہوئے درخواست گزار کو متعلقہ ٹرائل کورٹ سے رجوع کرنے کی ہدایت کر دی۔لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس شہرام سرور چوہدری نے درخواست پر سماعت کی۔ درخواست گزار رحمان کی جانب سے ایڈووکیٹ ایاز صفدر سندھو نے دلائل دیئے۔درخواست گزار کے وکیل نے موقف اختیار کیا کہ سی سی ڈی گوجرانوالہ نے درخواست گزار کی بہن، بہنوئی اور ان کی تین سالہ بچی کو گھر سے اٹھایا اور بعد ازاں میاں بیوی کے خلاف منشیات کا جھوٹا مقدمہ درج کر دیا۔ مذکورہ میاں بیوی ایک مبینہ جعلی پولیس مقابلے کے مدعی ہیں اور پیروی سے باز نہ آنے پر انہیں جھوٹے مقدمے میں نامزد کیا گیا۔(جاری ہے)
تین سالہ بچی بھی سی سی ڈی کی تحویل میں رہی تاہم درج مقدمے میں اس کا کوئی ذکر موجود نہیں۔ عدالت سے استدعا کی گئی کہ متعلقہ مقامات کی سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ بنانے کے احکامات جاری کیے جائیں۔سماعت کے دوران جسٹس شہرام سرور چوہدری نے ریمارکس دیے کہ فوٹیج حاصل کرنا یا اسے محفوظ بنانا ہائیکورٹ کا کام نہیں۔ عدالت نے قرار دیا کہ ٹرائل کورٹ کے پاس سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ رکھنے سمیت متعدد قانونی اختیارات موجود ہیں۔عدالت نے درخواست گزار کو ہدایت کی کہ وہ اپنی درخواست متعلقہ ٹرائل کورٹ میں دائر کرے کیونکہ اس حوالے سے حکم جاری کرنے کا اختیار اسی عدالت کے پاس ہے۔بعد ازاں عدالت نے سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست مسترد کرتے ہوئے درخواست گزار کو ٹرائل کورٹ سے رجوع کرنے کی ہدایت کر دی۔