خصوصی افراد کا خیال رکھیں اور اُن کی شناخت کا احترام کریں
اشاعت کی تاریخ: 2nd, December 2025 GMT
سٹی42: خصوصی افراد کا خیال رکھیں اور اُن کی شناخت کا احترام کریں۔ یہ بات صدرِ مملکت نے آج سپیشل شہریوں کے عالمی دن پر اپنے خاص پیغام میں کہی ہے۔
صدر آصف علی زرداری نےسپیشل سیٹیزنز کے عالمی دن کے موقع پر اپنے پیغام میں کہا ہےکہ خصوصی افراد کے عالمی دن کے موقع پر، میں ایک مرتبہ پھر ہماری قومی وابستگی کا اعادہ کرتا ہوں کہ ہم خصوصی افراد کے حقوق اور وقار کے تحفظ اور قومی زندگی میں ان کی مکمل شمولیت کو یقینی بنانے کے لیے پرعزم ہیں۔
صدر مملکت ، وزیر اعظم اور وفاقی وزیر داخلہ کا 7 خوارج ہلاک کرنے پر سیکورٹی فورسز کو خراج تحسین
حکومتِ پاکستان، وفاقی و صوبائی اداروں کے ذریعے، خصوصی افراد کے لیے رسائی، تعلیم، صحت، نقل و حرکت اور روزگار کے مواقع بہتر بنانے کے لیے مسلسل اقدامات کر رہی ہے۔ قومی شناختی کارڈ پر خصوصی لوگو، معذوری کے سرٹیفیکیٹس کا اجراء، سماجی تحفظ کی اسکیموں تک آسان رسائی اور بحالی و کمیونٹی کی سطح پر معاونت کے نظام کو مضبوط بنانا اس بات کی علامت ہے کہ ہم ایسا معاشرہ بنانا چاہتے ہیں جہاں ہر فرد اپنی صلاحیت کے مطابق آگے بڑھ سکے۔
شمالی وزیرستان میں سیکیورٹی فورسز کی دو کاروائیاں، 7 خوارج ہلاک
میرا یقین ہے کہ منصفانہ معاشرہ اسی وقت ممکن ہے جب ہم سب کے لیے قابلِ رسائی ماحول، مناسب انفراسٹرکچر اور عوامی سہولیات موجود ہوں۔ یہ ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے کہ ہم اُن جسمانی، سماجی اور رویّوں پر مبنی رکاوٹوں کو دور کریں جو خصوصی افراد کی بااختیار اور باعزت زندگی کی راہ میں حائل ہوتی ہیں۔
میں شہریوں، سرکاری و نجی اداروں، سول سوسائٹی اور بین الاقوامی شراکت داروں سے کہنا چاہوں گا کہ خصوصی افراد کا خیال رکھیں اور اُن کی شناخت کا احترام کریں۔ تعلیم، کاروبار، سرکاری خدمات اور قومی ترقی میں اُن کی شرکت پاکستان کےمستقبل کے لیے نہایت اہم ہے۔
سول جج سید جہانزیب بخاری نےاستعفی دے دیا
آئیے مل کر ایک ایسے پاکستان کے لیے کام کریں جہاں کوئی بھی پیچھے نہ رہ جائے اور جہاں خصوصی افراد کو اجتماعی قوت اور استقامت کا حصہ سمجھا جائے۔ شمولیت صرف ایک خیال نہ ہو، بلکہ ہمارے روزمرہ کے فیصلوں اور عمل میں نظر آتی ہوئی حقیقت بنے۔
الّلہ ہمیں توفیق دے کہ ہم ایک ایسا پاکستان قائم کریں جو ہر فرد کے لیے قابلِ رسائی اور شمولیت کا حامل ہو۔
Waseem Azmet.
ذریعہ
ذریعہ: City 42
پڑھیں:
روس مذاکرات کے لیے تیار، یوکرین میں فوجی آپریشن جاری رہے گا، کریملن
روزانہ کی پریس بریفنگ کے دوران کریملن کے ترجمان کا کہنا تھا کہ روس مذاکراتی عمل کے لیے کھلا ہے، لیکن جب یورپی دارالحکومت کیف حکومت کو جنگ جاری رکھنے کی ترغیب دے رہے ہیں تو ایسی صورتحال میں ماسکو بھی اپنا خصوصی فوجی آپریشن جاری رکھے گا۔ اسلام ٹائمز۔ کریملن کے ترجمان دیمتری پیسکوف نے کہا ہے کہ روس یوکرین تنازع کے حل کے لیے مذاکرات پر آمادہ ہے، تاہم یورپی ممالک کی جانب سے کیف حکومت کی مسلسل حوصلہ افزائی کے باعث روس اپنا خصوصی فوجی آپریشن جاری رکھے ہوئے ہے۔ روزانہ کی پریس بریفنگ کے دوران دیمتری پیسکوف نے کہا کہ روس مذاکراتی عمل کے لیے کھلا ہے، لیکن جب یورپی دارالحکومت کیف حکومت کو جنگ جاری رکھنے کی ترغیب دے رہے ہیں تو ایسی صورتحال میں ماسکو بھی اپنا خصوصی فوجی آپریشن جاری رکھے گا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ روسی افواج خصوصی فوجی آپریشن کے دوران مثبت پیش رفت حاصل کر رہی ہیں اور میدانِ جنگ میں صورتحال حوصلہ افزا ہے۔
کریملن کے ترجمان نے بتایا کہ یوکرین کے معاملے پر روس اور امریکا کے درمیان رابطے برقرار ہیں، تاہم اس مرحلے پر یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ تنازع کے حل کی کوششوں میں کوئی نمایاں پیش رفت یا تیزی آئی ہے۔ دیمتری پیسکوف نے کہا کہ موجودہ ورکنگ چینلز کے ذریعے امریکا کے ساتھ رابطے جاری ہیں اور امید ہے کہ امریکی مذاکرات کار اپنی مصروفیات مکمل ہونے کے بعد ماسکو کا دورہ کریں گے تاکہ دونوں ممالک کے درمیان براہِ راست مذاکرات کا سلسلہ دوبارہ شروع کیا جا سکے۔
جوہری عدم پھیلاؤ کے حوالے سے روس کے مؤقف پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ماسکو جوہری ہتھیاروں کے پھیلاؤ کی روک تھام کے اصول پر قائم ہے، تاہم ہر ملک کو پُرامن مقاصد کے لیے جوہری توانائی کے استعمال کا حق حاصل ہونا چاہیے۔ انہوں نے مزید کہا کہ روس کا مؤقف جوہری ہتھیاروں کے عدم پھیلاؤ سے متعلق ہے، جبکہ ایران، سعودی عرب اور دیگر ممالک کو پُرامن جوہری توانائی کے استعمال کا حق حاصل ہے اور اس حق کی ضمانت دی جانی چاہیے۔