افغانستان میں موجود دہشت گردوں سے عالمی امن کو خطرہ ہے: عالمی جریدے کی رپورٹ
اشاعت کی تاریخ: 2nd, December 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
عالمی جریدے یوریشیا ریویو نے اپنی تازہ رپورٹ میں افغانستان میں بڑھتی ہوئی دہشت گرد سرگرمیوں کو دنیا بھر کے امن و استحکام کے لیے سنگین خطرہ قرار دیا ہے۔
عالمی میڈیا رپورٹ میں یوریشیا ریویو کے مطابق افغانستان بطور ایک عالمی دہشت گرد پناہ گاہ بن چکا ہے جس کے شواہد بھاری اور ناقابل تردید ہیں، طالبان کے قبضے کے بعد افغانستان پھر وہی روپ دھار رہا ہے جیسا دنیا نے دوبارہ نہ ہونے دینے کا عہد کیا تھا۔
امریکی جریدے کے مطابق طالبان کے اقتدار کے بعد افغانستان تیزی سے بین الاقوامی دہشت گردی کا مرکز بنتا جا رہا ہے، تاجکستان میں چینی انجینئرز پرافغانستان سے منسلک ڈرون حملہ دہشت گردی کے سرحد پار پھیلنے کا ثبوت ہے۔
یوریشیا ریویو کی رپورٹ کے مطابق واشنگٹن ڈی سی میں 2نیشنل گارڈز کا قاتل افغان شہری تھا،جس کے افغانستان سےسرگرم دہشتگرد نیٹ ورکس سے روابط تھے، دہشتگردی جو کبھی صرف پاکستان کو نشانہ بناتی تھی اب ہر سمت پھیل رہی ہے۔
جریدے کے مطابق اقوام متحدہ اور بین الاقوامی ایجنسیاں مسلسل خبردار کر رہی ہیں کہ افغانستان میں دہشت گرد تنظیمیں دوبارہ مضبوط ہو رہی ہیں، افغانستان غیر ملکی و مقامی دہشت گرد تنظیموں کا مرکز ہے۔
یوریشیا ریویو کی ڈنمارک کی نمائندہ کے مطابق 6000 ٹی ٹی پی دہشت گرد افغانستان میں سرگرم ہیں، جن کی طالبان حکومت مدد کر رہی ہے، داعش خراسان، القاعدہ، مشرقی ترکستان کے عسکریت پسنداور وسطی ایشیائی گروہ افغانستان سے فعال ہیں۔
افغانستان میں دہشتگرد تنظیمیں بھرتی، پروپیگنڈا اور کرپٹو فنڈنگ چلا رہی ہیں، روس نے بھی افغان سرزمین پر موجود شدت پسند نیٹ ورکس کو سنگین علاقائی خطرہ قرار دیا، افغانستان میں موجود دہشت گردوں کی تعداد 13,000 سے زائد ہو چکی ہے۔
رپورٹ میں واضح کہا گیا ہے کہ طالبان حکومت دہشت گرد گروہوں کو روکنے کی نہ صلاحیت رکھتی ہے اور نہ نیت، عالمی دہشت گرد تنظیموں کیلئے افغانستان پناہ گاہ، بھرتی مرکز اور لانچ پیڈ بن چکا ہے، تاجکستان میں حملہ ایک واقعہ نہیں بلکہ آنے والے شدید خطرات کی علامت ہے۔
رپورٹ میں بتایا گیا کہ پاکستان برسوں سے افغان سرزمین سے اٹھنے والی دہشت گردی کا سب سے بڑا نشانہ رہا ہے، پاکستان، وسطی ایشیا اور خطے کے ممالک اس خطرے کا وزن اکیلے نہیں اٹھا سکتے۔
یوریشیا ریویو نے خبردار کیا کہ عالمی اور علاقائی ممالک نے مل کر حکمتِ عملی نہ بنائی تو افغانستان دہشت گردوں کیلئے ایک ملکی سطح کا محفوظ پناہ گاہ بن جائے گا، دہشت گردی سےنہ امریکا محفوظ رہے گا نہ یورپ اور نہ خلیجی ممالک محفوظ رہیں گے۔
واضح رہے کہ افغانستان سے پنپتی دہشت گردی کے حوالے سے پاکستان متعدد بار ناقابل تردید شواہد پیش کر چکا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: افغانستان میں افغانستان سے رپورٹ میں کے مطابق
پڑھیں:
بلوچستان کے مختلف علاقوں میں سیکیورٹی فورسز کا آپریشن، 17دہشتگرد ہلاک
فائل فوٹو۔بلوچستان کے مختلف علاقوں میں انٹیلی جنس کی بنیاد پر آپریشنز کے دوران بھارتی حمایت یافتہ فتنہ الخوارج کے 17دہشت گرد ہلاک کر دیے گئے۔
مسلح افواج کے شعبہ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر کے مطابق سیکیورٹی فورسز نے یہ آپریشنز 24 مئی کے ٹرین واقعہ کے بعد کیے، جو مستونگ، نوشکی، زہری، خضدار اور کیچ کے اضلاع میں کیے گئے۔
آئی ایس پی آر کے مطابق دہشت گردوں کی ہلاکت سے ان علاقوں میں دہشت گرد نیٹ ورکس کو بہت زیادہ نقصان ہوا، ہلاک دہشت گردوں کے قبضے سے اسلحہ، بڑی مقدار میں بارودی مواد اور آئی ای ڈیز برآمد کیے گئے۔
آئی ایس پی آر کے مطابق یہ دہشت گرد علاقے میں متعدد دہشت گرد کارروائیوں میں ملوث رہے تھے۔ ان علاقوں میں کلیئرنس آپریشنز جاری ہیں۔
آئی ایس پی آر کے مطابق سیکیورٹی اداروں کی ملک گیر انسدادِ دہشت گردی مہم بھرپور انداز میں جاری رہے گی اور ملک سے بیرونی حمایت یافتہ دہشت گردی کے خطرے کا مکمل خاتمہ کیا جائے گا۔