لبنان میں حزب اللہ کیطرف سے پوپ کا والہانہ استقبال
اشاعت کی تاریخ: 3rd, December 2025 GMT
اسلام ٹائمز: مقاومت کے وفادار پارلیمانی بلاک کے سربراہ محمد رعد سمیت متعدد دیگر نمائندوں کی پوپ کے استقبال میں شرکت کے ذریعے ایک مختلف اور مثبت تصویر پیش کی۔ حزب اللہ نے امام مہدی (عج) اسکاؤٹس کو شہید مغنیہ روڈ سے بعبدا پیلس تک تعینات کر کے پوپ کا ایک رسمی اور باوقار خیرمقدم کیا۔ اسکاؤٹس نے ویٹیکن کے پرچم، پوپ کی تصاویر، اور یہ پیغام اٹھا رکھا تھا "ضاحیہ کی جانب سے سید حسن نصرالله آپ کو خوش آمدید کہتے ہیں"۔ پوپ کے استقبال کی یہ تصاویر اور رپورٹس ویٹیکن کے عربی صفحے نے شائع کیں۔ خصوصی رپورٹ:
پوپ لیو چہاردہم، جو دنیا کے کیتھولک مسیحیوں کے رہنما ہیں، ان کا لبنان کا دورہ ایسے نازک حالات میں ہوا ہے جب یہ ملک امریکا اور بین الاقوامی فریقوں کے ہمہ جہتی دباؤ، نیز صیہونی رجیم کی مسلسل جارحیت کے درمیان گھرا ہوا ہے۔ یہ سفر لبنان کے بین الاقوامی تعلقات میں ایک اہم موڑ ثابت ہوسکتا ہے اور ایک بار پھر یہ ملک کو عالمی توجہ کا مرکز بن گیا ہے۔ جب پوپ پہنچے تو بیروت کا ہوائی اڈہ ایک غیر معمولی منظر پیش کر رہا تھا، جہاں سیاسی، مذہبی اور عسکری شخصیات کی بڑی تعداد جمع تھی۔
صدارتی محل بھی ایک وسیع میدان کی صورت اختیار کر گیا تھا جہاں لبنان کی تمام حکومتی اکائیاں، باوجود فرقہ وارانہ، سیاسی، فکری اور نظریاتی اختلافات کے، ایک جگہ اکٹھی تھیں۔ یہ مناظر دنیا بھر سے آئے ہوئے سینکڑوں صحافیوں کے ذریعے براہ راست نشر کیے گئے جو پوپ کے ہمراہ لبنان پہنچے تھے۔ ان لمحات میں، لبنان کے صدر جوزف عون، جو اپنی حکومت کے آغاز سے ہی امریکا اور اسرائیل کے دباؤ اور مسلسل کشیدگی کا سامنا کرتے رہے ہیں، اس سفر کے ذریعے ایک طرح کی سیاسی کامیابی حاصل کرنے میں کامیاب ہوئے۔
حزب اللہ کا قومی حیثیت کیساتھ دوبارہ نمایاں ہونا:
دوسری جانب، پوپ کے اس دورے نے حزب اللہ کو بھی یہ موقع فراہم کیا کہ وہ ایک بار پھر ثابت کرے کہ وہ لبنان کے بنیادی اور ناگزیر عناصر میں سے ایک ہے۔ ایک سادہ مگر انتہائی اہم اقدام کے ذریعے، حزب اللہ نے یہ دکھایا کہ وہ لبنان کے مذہبی، سیاسی اور سماجی عوامی سرگرمیوں کا لازمی جزو ہے۔ روزنامہ الاخبار کے مطابق، حزب اللہ نے مخالفین کی اشتعال انگیز پروپیگنڈا مہم کے آگے جھکنے کے بجائے، ایک استقبالیہ بیان جاری کیا۔
اسی طرح مقاومت کے وفادار پارلیمانی بلاک کے سربراہ محمد رعد سمیت متعدد دیگر نمائندوں کی پوپ کے استقبال میں شرکت کے ذریعے ایک مختلف اور مثبت تصویر پیش کی۔ حزب اللہ نے امام مہدی (عج) اسکاؤٹس کو شہید مغنیہ روڈ سے بعبدا پیلس تک تعینات کر کے پوپ کا ایک رسمی اور باوقار خیرمقدم کیا۔ اسکاؤٹس نے ویٹیکن کے پرچم، پوپ کی تصاویر، اور یہ پیغام اٹھا رکھا تھا "ضاحیہ کی جانب سے سید حسن نصرالله آپ کو خوش آمدید کہتے ہیں"۔ پوپ کے استقبال کی یہ تصاویر اور رپورٹس ویٹیکن کے عربی صفحے نے شائع کیں۔ اس اقدام کے ذریعے حزب اللہ نے نہ صرف خود کو عالمی واقعات کے جلو میں منوایا بلکہ اپنے خلاف پھیلائے جانے والے "انتہا پسندی" کے تاثر کو بھی توڑنے میں کامیابی حاصل کی۔
سیاسی ملاقاتیں اور پوپ کے سفر کی سفارتی اہمیت:
یہ دورہ اس وقت ہو رہا ہے جب لبنان، جو مشرقِ وسطیٰ میں سب سے زیادہ مسیحی آبادی رکھنے والا ملک ہے، ایک سال سے جاری اسرائیلی حملوں کا شکار ہے، جو اعلانِ جنگ بندی کے باوجود رکے نہیں۔ اسرائیل نے دھمکی دی ہے کہ اگر اس کے مطالبات پورے نہ ہوئے تو حملوں کا دائرہ مزید وسیع کیا جائے گا۔ اس دوران، لبنان کی پارلیمنٹ کے سربراہ نبیہ بری نے پوپ کو ایک اطالوی مصنف کی کتاب، جس میں جنوب لبنان میں مسیح کی آمد کا ذکر ہے۔
تحفے میں پیش کی کتاب کے علاوہ انہوں نے ایک نجی ملاقات میں جنوبی لبنانی عوام پر روزانہ ہونے والے اسرائیلی حملوں اور ان کی زمینوں کے قبضے کے بارے میں بات کی۔ لبنانی صدارتی محل کے ذرائع نے کہا کہ پوپ معجزہ تو نہیں کر سکتے، لیکن اپنی عالمی سفارتی حیثیت اور اثر و رسوخ کے ذریعے لبنان کی حمایت میں ایک مضبوط آواز بلند کریں گے۔ لبنان کے سیاسی نظام کی تمام کمزوریوں کے باوجود پوپ کی حمایت کو نہایت اہم قرار دیا جا رہا ہے۔
پوپ کے تین روزہ دورے کی تفصیلات:
پوپ لیو چہاردہم اتوار کے روز لبنان پہنچے اور بیروت کے رفیق حریری ہوائی اڈے پر اُن کا شاندار عوامی اور سرکاری استقبال ہوا۔ ان کا تین روزہ دورہ لبنان کے پانچ شہروں اور قصبوں میں کئی اہم پروگراموں پر مشتمل تھا۔ پوپ نے حکومتی رہنماؤں سے ملاقاتیں کیں، بیروت بندرگاہ کے دھماکے کی جگہ دعا کی، ساحلِ بیروت پر ایک عظیم الشان مذہبی اجتماع (عشای ربانی) کی سربراہی کی، ذہنی امراض کے علاج کے ایک مرکز کا بھی دورہ کیا۔ لبنانی حکومت نے اس تاریخی سفر کے موقع پر دو روزہ سرکاری تعطیل کا اعلان کیا تھا۔ اس کے علاوہ وسیع حفاظتی انتظامات، بشمول اہم شاہراہوں کی بندش، ڈرون پروازوں پر پابندی، اور منگل کی شام شہر کے کئی تجارتی مراکز کی بندش بھی شامل تھی۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: پوپ کے استقبال حزب اللہ نے ویٹیکن کے پوپ کے اس لبنان کے کے ذریعے
پڑھیں:
بلوچستان میں پیش آنیوالے پے درپے دہشتگردی کے واقعات افسوسناک ہیں، علامہ مقصود ڈومکی
اپنے بیان میں ایم ڈبلیو ایم رہنماء علامہ مقصود ڈومکی نے کہا کہ بلوچستان کا مسئلہ بنیادی طور پر ایک سیاسی مسئلہ ہے، جسکا حل طاقت، آپریشن اور جبر نہیں بلکہ بامعنی سیاسی مذاکرات، آئینی حقوق کی فراہمی، عوامی مینڈیٹ کے احترام اور عوام کے اعتماد کی بحالی میں مضمر ہے۔ اسلام ٹائمز۔ مجلس وحدت مسلمین پاکستان صوبہ سندھ کے صوبائی صدر علامہ مقصود علی ڈومکی نے ببرلو بائی پاس پر پریا کماری سمیت لاپتا و مغوی بچوں کی بازیابی کے لئے جاری پرامن دھرنے پر پولیس کے کریک ڈاؤن، خواتین پر تشدد، ان کی بے حرمتی، بزرگ رہنماء لیاقت جلبانی، سوہنی پارس، صحافی ساحل جوگی اور متعدد مظاہرین کی گرفتاری کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اپنے بچوں کی بازیابی کے لئے سراپا احتجاج مظلوم والدین، خصوصاً ماؤں پر طاقت کا استعمال انتہائی افسوسناک، غیر انسانی اور قابل مذمت ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت سندھ احتجاج کرنے والے مظلوم خاندانوں پر تشدد کرنے کے بجائے پریا کماری سمیت تمام مغوی بچوں اور بچیوں کی فوری اور محفوظ بازیابی کو یقینی بنائے، گرفتار افراد کو فوری رہا کرے اور صحافیوں کے آئینی و قانونی حقوق کا احترام کرے۔ انہوں نے کہا کہ پرامن احتجاج ہر شہری کا آئینی حق ہے اور اس حق کو طاقت کے ذریعے سلب نہیں کیا جا سکتا۔
علامہ مقصود ڈومکی نے بلوچستان کے ضلع مستونگ میں دہشت گردی کے افسوسناک واقعے کی بھی شدید مذمت کرتے ہوئے سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے پولیس محافظ کی شہادت پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا اور زخمی جج طارق علی لاشاری کی جلد و مکمل صحت یابی کے لئے دعا کی۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ کئی دہائیوں سے بلوچستان میں پیش آنے والے پے درپے دہشت گردی کے واقعات افسوسناک ہیں، اس ہفتے ژوب سے سفر کرنے والے خاندان پر حملہ، کوئٹہ سے کراچی جانے والی مسافر کوچ کا المناک سانحہ اور مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کی شہادت شامل ہیں، صوبے میں امن و امان کی انتہائی تشویشناک صورتحال کی عکاسی کرتے ہیں۔
علامہ مقصود علی ڈومکی نے کہا کہ بلوچستان کا مسئلہ بنیادی طور پر ایک سیاسی مسئلہ ہے، جس کا حل طاقت، آپریشن اور جبر نہیں بلکہ بامعنی سیاسی مذاکرات، آئینی حقوق کی فراہمی، عوامی مینڈیٹ کے احترام اور عوام کے اعتماد کی بحالی میں مضمر ہے۔ گزشتہ کئی دہائیوں کے آپریشنز سے نہ امن قائم ہوا، نہ دہشت گردی ختم ہوئی اور نہ ہی مسائل کا مستقل حل نکلا، لہٰذا اب وقت آ گیا ہے کہ حکومت طاقت کی پالیسی ترک کرکے سیاسی مکالمے، مفاہمت اور سنجیدہ مذاکرات کا راستہ اختیار کرے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ پاکستان کے عوام کے حقیقی منتخب نمائندوں کو ان کا آئینی و جمہوری حق دیا جائے، عوامی مینڈیٹ کا احترام کیا جائے اور تمام سیاسی و سماجی اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ نتیجہ خیز مذاکرات کئے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ انصاف، سیاسی شمولیت اور عوام کے اعتماد کی بحالی ہی بلوچستان میں پائیدار امن کی ضمانت ہے، جبکہ دہشت گردی کے واقعات کی روک تھام کے لئے شہریوں کے جان و مال کا تحفظ ریاست کی اولین ذمہ داری ہے۔