صنعا، عظیم الشان ملین مارچ، فلسطین اور لبنان کی حمایت جاری رکھنے کا عزم
اشاعت کی تاریخ: 1st, December 2025 GMT
ریلی، انصار اللہ کے رہنما سید عبدالملک الحوثی کی اپیل پر اور برطانیہ کے قبضے سے آزادی کے اٹھاون سالہ جشن (30 نومبر) کے موقع پر نکالی گئی۔ اسلام ٹائمز۔ یمن کے مختلف طبقات سے تعلق رکھنے والے عوام نے لاکھوں کی شرکت کے ساتھ منعقد ہونیوالی والی ریلی میں شرکت کی۔ ریلی کا عنوان تھا "آزادی ہمارا انتخاب ہے، اور قابض طاقت کا انجام زوال اور تباہی ہے"۔ شرکا نے جہاد و مزاحمت کے راستے کو جاری رکھنے اور فلسطین و لبنان کی حمایت پر زور دیا۔ تسنیم نیوز ایجنسی کے بین الاقوامی شعبے کی رپورٹ کے مطابق یمن کے مختلف طبقوں کے عوام نے اس عظیم الشان احتجاجی مارچ میں بھرپور شرکت کی۔ واضح رہے کہ یہ ریلی، انصار اللہ کے رہنما سید عبدالملک الحوثی کی اپیل پر اور برطانیہ کے قبضے سے آزادی کے اٹھاون سالہ جشن (30 نومبر) کے موقع پر نکالی گئی۔
ریلی کے اعلامیے کا متن درج ذیل ہے:
ہم اس بات پر زور دیتے ہیں کہ اسلام کے پرچم کو اٹھانے اور جہاد جاری رکھنے کا سلسلہ وہی ہے جو ہمارے بزرگوں، انصار کے اسلاف اور معزز باپ دادا نے جاری رکھا تھا۔ ہم اپنے پختہ عزم، ثابت قدمی اور دشمنوں و ان کے فوجی و سیکیورٹی وسائل کے مقابلے کی اگلی مرحلے کی جنگ کے لیے انتہائی بلند آمادگی پر تاکید کرتے ہیں، چاہے وہ سرکاری سرگرمیوں کے ذریعے ہو، عوامی شرکت یا عام رضاکارانہ بسیج کے ذریعے۔ ہم کبھی بھی اپنے برحق اور منصفانہ مؤقف سے پیچھے نہیں ہٹیں گے اور نہ ہی فلسطین، لبنان اور دنیا کی دیگر مظلوم قوموں کو تنہا چھوڑیں گے۔
ہمارا ملک 30 نومبر (برطانوی استعمار سے آزادی کا دن) اس لیے مناتا ہے کہ دنیا کے تمام ظالموں اور ان کے کارندوں کو یہ حقیقت یاد دلائی جائے کہ ہر قسم کے قبضے و استعمار کا انجام زوال اور نابودی ہے، چاہے جتنا وقت لگ جائے، یہ انجام یقینی ہے، ہم تمام مظلوم قوموں کو یہ پیغام دیتے ہیں کہ اگر اقوام میں ارادہ موجود ہو اور وہ خدا پر بھروسہ رکھیں، تو وہ عظیم فتوحات حاصل کرنے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔ یاد رہے کہ 30 نومبر وہ دن ہے جب یمن نے 129 سالہ برطانوی استعمار کے قبضے سے آزادی حاصل کی اور غیر ملکی قابضین کو ملک سے نکال باہر کیا، یہ ایک ایسا دن ہے جو شہدا کے خون اور عوامی مزاحمت کی بدولت رقم ہوا۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: کے قبضے
پڑھیں:
سینٹ پیٹرزبرگ انٹرنیشنل اکنامک فورم، پاکستانی اعلیٰ سطحی وفد شرکت کریگا
سینٹ پیٹرزبرگ روس کا سب سے بڑا اور عالمی سطح پر اہم اقتصادی ایونٹ، سینٹ پیٹرزبرگ انٹرنیشنل اکنامک فورم 2026ء کل 3 جون سے روس کے تاریخی شہر سینٹ پیٹرزبرگ میں شروع ہو رہا ہے، جس میں دنیا بھر کے 130 سے زائد ممالک کے حکومتی، کاروباری اور اقتصادی راہنما شرکت کریں گے، پاکستان بھی فورم میں اعلیٰ سطحی وفد کے ساتھ شرکت کر رہا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ پاکستانی وفد کی قیادت وفاقی وزیر توانائی (پیٹرولیم ڈویژن) علی پرویز ملک کریں گے، وفد میں وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے صنعت و پیداوار ہارون اختر، روس میں پاکستان کے سفیر فیصل نیاز ترمذی، سفارتخانے کی وزیر تجارت و سرمایہ کاری شبانہ ممتاز، قونصلر حبیب منیر، سیکنڈ سیکرٹری جوشوا ایڈون آرتھر اور سینٹ پیٹرزبرگ میں پاکستان کے اعزازی قونصل جنرل عبدالرؤف رند بھی شامل ہیں۔ 4 روزہ فورم میں عالمی معیشت، توانائی، تجارت، سرمایہ کاری، ڈیجیٹل ٹیکنالوجی، مصنوعی ذہانت، صنعتی ترقی، ٹرانسپورٹ، خوراک اور بین الاقوامی اقتصادی تعاون سمیت متعدد اہم موضوعات پر اعلیٰ سطحی اجلاس، مباحثے اور کاروباری ملاقاتیں منعقد ہوں گی۔
روسی صدر ولادیمیر پوتن فورم کے مرکزی پلینری اجلاس سے خطاب کریں گے، جبکہ دنیا کے مختلف ممالک سے تعلق رکھنے والے حکومتی راہنما، وزراء، سرمایہ کار، صنعتکار اور بین الاقوامی تنظیموں کے نمائندے بھی فورم میں شریک ہوں گے۔ پاکستانی وفد کی شرکت کو روس اور پاکستان کے درمیان اقتصادی اور تجارتی تعلقات کے فروغ کے لیے اہم قرار دیا جا رہا ہے، توقع ہے کہ فورم کے دوران پاکستانی نمائندے روسی حکام، سرمایہ کاروں اور کاروباری شخصیات کے ساتھ ملاقاتیں کریں گے، جن میں توانائی، پیٹرولیم، صنعت، تجارت اور سرمایہ کاری کے شعبوں میں تعاون بڑھانے کے امکانات پر بات چیت ہوگی۔ مبصرین کے مطابق پاکستان اس وقت توانائی، معدنیات، انفراسٹرکچر اور صنعتی شعبوں میں بیرونی سرمایہ کاری کے حصول پر خصوصی توجہ دے رہا ہے جبکہ روس کے ساتھ اقتصادی تعاون کے نئے مواقع تلاش کرنا بھی حکومتی ترجیحات میں شامل ہے۔
فورم میں شرکت پاکستان کو نہ صرف روس بلکہ دیگر ممالک کے سرمایہ کاروں اور کاروباری اداروں کے ساتھ براہ راست رابطوں کا موقع فراہم کرے گی، ماہرین کا کہنا ہے کہ ایسے بین الاقوامی پلیٹ فارمز پاکستان کے لیے سرمایہ کاری، برآمدات اور اقتصادی شراکت داریوں کے فروغ میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔واضح رہے کہ سینٹ پیٹرزبرگ انٹرنیشنل اکنامک فورم 3 سے 6 جون تک جاری رہے گا اور اسے روس کا سب سے بڑا بین الاقوامی اقتصادی فورم تصور کیا جاتا ہے، اس سال فورم کا موضوع "عملی مکالمہ ایک مستحکم مستقبل کی جانب"رکھا گیا ہے، جس میں عالمی معیشت کو درپیش چیلنجز اور مستقبل کے مواقع پر خصوصی توجہ دی جائے گی۔