پاکستان میں آئینی ترامیم عدلیہ کی آزادی کو کمزور کرتی ہیں: وولکر ترک
اشاعت کی تاریخ: 30th, November 2025 GMT
اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق وولکر ترک نے پاکستان میں 27ویں آئینی ترمیم پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔
ایک بیان میں وولکر ترک نے ترامیم سے پاکستانی عوام کی جمہوریت، قانون کی حکمرانی اور انسانی حقوق کے تحفظ کے لیے خطرے پر تشویش کا اظہار کیا۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان میں منظور کی گئیں آئینی ترامیم عدالتی آزادی اور ملک میں اختیارات کی تقسیم کے اصول کے خلاف ہیں، فوجی احتساب اور قانون کی حکمرانی پر بھی شدید خدشات کو جنم دیتی ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ یہ ترمیم بھی گزشتہ سال کی 26ویں ترمیم کی طرح قانونی برادری اور سول سوسائٹی سے مشاورت اور بحث کیے بغیر منظور کی گئی۔
اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق نے کہا کہ ججز کی تقرری، ترقی اور تبادلے کے نظام میں تبدیلیوں سے عدلیہ کو سیاسی مداخلت اور انتظامی کنٹرول کا خطرہ لاحق ہو گیا ہے۔
وولکر ترک نے کہا کہ وسیع پیمانے پر دیا جانے والا استثنیٰ مسلح افواج پر جوابدہی کے جمہوری کنٹرول کو کمزور کرتا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: وولکر ترک
پڑھیں:
مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال قابو سے باہر، فوری جنگ بندی ضروری ہے، انتونیو گوتریس
اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کا کہنا تھا کہ موجودہ بحران سے نکلنے کا واحد مؤثر راستہ سفارت کاری، مذاکرات اور سیاسی حل ہے، اور تمام فریقین کو کشیدگی کم کرنے کے لیے فوری اقدامات کرنے چاہییں۔ اسلام ٹائمز۔ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس نے مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ خطے کی صورتحال قابو سے باہر ہوتی جا رہی ہے اور فوری طور پر لڑائی روکنا ناگزیر ہے۔ اپنے ایک بیان میں انتونیو گوتریس نے کہا کہ اب واپس پلٹنے کا وقت آ گیا ہے اور ہر جگہ جنگ و جدل کا خاتمہ ہونا چاہیے تاکہ مزید انسانی جانوں کے ضیاع کو روکا جا سکے۔
انہوں نے زور دیا کہ بحری راستوں پر آزادانہ آمدورفت بحال کی جائے، کیونکہ عالمی تجارت اور علاقائی استحکام کے لیے محفوظ بحری گزرگاہیں انتہائی اہم ہیں۔ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل نے کہا کہ موجودہ بحران سے نکلنے کا واحد مؤثر راستہ سفارت کاری، مذاکرات اور سیاسی حل ہے، اور تمام فریقین کو کشیدگی کم کرنے کے لیے فوری اقدامات کرنے چاہییں۔