بلوچستان میں طویل انتظار کے بعد بلدیاتی انتخابات کے اعلان کے حوالے سے الیکشن کمیشن آف پاکستان نے واضح فیصلہ دے دیا ہے۔ کوئٹہ میں مقامی حکومتوں کے انتخابات شیڈول کے مطابق 28 دسمبر 2025 کو منعقد ہوں گے، حالانکہ صوبائی حکومت اور سیاسی جماعتوں نے مختلف وجوہات کے پیش نظر انتخابی شیڈول کی نظرثانی یا التوا کی درخواستیں دی تھیں۔

یہ بھی پڑھیں:کوئٹہ میں بلدیاتی انتخابات کے شیڈول پر حکم امتناعی جاری

بلوچستان میں مقامی حکومتوں کے انتخابات کا شیڈول 3 نومبر 2025 کو جاری کیا گیا تھا، جس میں پولنگ کی تاریخ 28 دسمبر مقرر کی گئی تھی۔ اس سے قبل، چیف منسٹر اور گورنر بلوچستان نے قانون، انتظامی تیاری اور موسمی حالات کی بنیاد پر انتخابات کی التوا کی درخواستیں دی تھیں، تاہم الیکشن کمیشن نے تمام درخواستیں مسترد کر دیں۔

الیکشن کمیشن کا مؤقف

الیکشن کمیشن نے واضح کیا ہے کہ قانون اور آئین کے تحت انتخابات کا انعقاد اس کی صوابدید میں ہے اور صوبائی حکومت انتخابات کی تاریخ طے کرنے میں دخل اندازی نہیں کر سکتی۔

کمیشن نے اپنی ذمہ داریوں کے تحت الیکشن کے لیے تمام انتظامات مکمل کر لیے ہیں، بشمول ووٹر لسٹس کی تصدیق، حلقہ بندی اور بیلٹ پیپرز کی چھپائی۔

عدالتوں کے احکامات اور قانونی جواز

بلوچستان ہائی کورٹ نے 6 اکتوبر 2025 کو جاری اپنے فیصلے میں کہا تھا کہ الیکشن کمیشن کو انتخابات کو جلد از جلد منعقد کرنے کی اجازت ہے اور کسی عبوری حکم کے تحت شیڈول روکنے کی ضرورت نہیں ہے۔

یہ بھی پڑھیں:بلوچستان میں بلدیاتی انتخابات، کیا یہ عوام کے لیے واقعی مفید ثابت ہوئے؟

علاوہ ازیں، سپریم کورٹ آف پاکستان نے بھی مقامی حکومتوں کے انتخابات کے بروقت انعقاد کی اہمیت پر زور دیا ہے۔

تحفظات اور اختلافی نوٹ

کمیشن کے ایک رکن نے اختلافی نوٹ میں کہا ہے کہ دسمبر کے مہینے میں سخت موسم اور لوگو کی نقل مکانی کے باعث ووٹرز کی تعداد کم ہو سکتی ہے اور صوبے میں قانون و انصاف کی صورت حال انتخابات کے لیے سازگار نہیں ہے۔

انہوں نے مشورہ دیا کہ انتخابات کو موسم اور قانون و انصاف کی صورتحال کے معمول پر آنے تک ملتوی کیا جائے۔

الیکشن کمیشن نے صوبائی حکومت کو ہدایت کی ہے کہ وہ انتخابات کے دوران تمام انتظامات میں مکمل تعاون کرے، بشمول سیکورٹی کے اقدامات، ووٹرز، امیدواروں اور پولنگ اسٹاف کی حفاظت کو یقینی بنانا۔ اس فیصلے کے تحت کوئٹہ کے بلدیاتی انتخابات مقررہ تاریخ 28 دسمبر 2025 کو منعقد ہوں گے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

الیکشن کمیشن بلدیاتی انتخابات کوئٹہ.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: الیکشن کمیشن بلدیاتی انتخابات کوئٹہ بلدیاتی انتخابات الیکشن کمیشن نے انتخابات کے کے لیے کے تحت

پڑھیں:

یورپی یونین کا گوگل پر 89 کروڑ یورو جرمانہ، سرچ انجن پر اجارہ داری کے غلط استعمال کا الزام

یورپی یونین نے سرچ انجن کے شعبے میں مبینہ اجارہ داری کا غلط استعمال کرنے پر گوگل کے خلاف بڑا اقدام کرتے ہوئے کمپنی پر 89 کروڑ یورو (تقریباً ایک ارب امریکی ڈالر)کا جرمانہ عائد کر دیا ہے۔ یورپی کمیشن کا کہنا ہے کہ گوگل نے اپنی بالادست پوزیشن کا فائدہ اٹھاتے ہوئے حریف کمپنیوں کے ساتھ غیر منصفانہ رویہ اختیار کیا اور اپنی مختلف سروسز کو ناجائز برتری فراہم کی۔

یورپی کمیشن کی جانب سے جاری بیان کے مطابق گوگل نے سرچ انجن میں اپنی مضبوط پوزیشن استعمال کرتے ہوئے شاپنگ، ٹریول، گیمز اور دیگر سروسز کو سرچ نتائج میں نمایاں جگہ دی، جبکہ حریف کمپنیوں کی سروسز کو نیچے دکھایا گیا، جس سے منصفانہ مسابقت متاثر ہوئی۔

کمیشن نے کہا کہ یہ طرزِ عمل ڈیجیٹل مارکیٹس ایکٹ (Digital Markets Act) کی خلاف ورزی ہے، جس کے تحت بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کو اپنی سروسز کے حق میں امتیازی یا جانبدارانہ رویہ اختیار کرنے کی اجازت نہیں۔

یورپی کمیشن نے گوگل پر یہ الزام بھی عائد کیا کہ کمپنی نے گوگل پلے اسٹور پر ایپ ڈویلپرز کو صارفین کو متبادل ادائیگی کے طریقوں سے آگاہ کرنے سے روکا، تاکہ گوگل کی سروس فیس برقرار رہے۔ کمیشن کے مطابق یہ عمل بھی ڈیجیٹل مارکیٹس ایکٹ کی خلاف ورزی کے زمرے میں آتا ہے، جس کا مقصد بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کی اجارہ داری کو روکنا ہے۔

کمیشن نے گوگل کو ہدایت کی ہے کہ وہ 60 دن کے اندر فیصلے پر عملدرآمد کرے، بصورت دیگر کمپنی کو مزید جرمانوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔دوسری جانب گوگل نے فیصلے پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ یورپی کمیشن کے اس اقدام سے یورپی صارفین اور کاروباری اداروں کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔

یہ پہلا موقع نہیں کہ یورپی یونین نے گوگل کے خلاف کارروائی کی ہو۔ 2018 میں اینڈرائیڈ آپریٹنگ سسٹم میں اجارہ داری کے الزام پر گوگل پر 4.7 ارب ڈالر کا جرمانہ عائد کیا گیا تھا، جبکہ 2017 میں سرچ انجن کے شعبے میں مسابقتی قوانین کی خلاف ورزی پر کمپنی کو 2.8 ارب ڈالر جرمانے کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ بعد ازاں ان مقدمات میں گوگل کی اپیلیں بھی مسترد کر دی گئی تھیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ تازہ کارروائی سے یورپی یونین اور امریکا کے درمیان تجارتی کشیدگی میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے، کیونکہ امریکی انتظامیہ اس سے قبل یورپی یونین کی بعض تجارتی اور ڈیجیٹل پالیسیوں پر تحفظات کا اظہار کر چکی ہے۔

متعلقہ مضامین

  • کوئٹہ، سرکاری دفاتر میں ایجنٹس کیخلاف ایف آئی اے کی کارروائی، 14 افراد گرفتار
  • کوئٹہ، ہماری عبادتگاہ مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانا قابل مذمت ہے، سکھ برادری
  • خیبر پختونخوا میں بلدیاتی انتخابات مرحلہ وار ہونے کا امکان
  • آزاد کشمیر انتخابات: استحکام پاکستان پارٹی اور مسلم کانفرنس میں انتخابی اتحاد، سیٹ ایڈجسٹمنٹ پر اتفاق
  • آزاد کشمیر الیکشن کے حوالے سے میڈیا کیلیے ضابطہ اخلاق جاری
  • آزاد کشمیر الیکشن، استحکام پاکستان پارٹی اور مسلم کانفرنس کے درمیان انتخابی اتحاد پر اتفاق
  • یورپی یونین کا گوگل پر 89 کروڑ یورو جرمانہ، سرچ انجن پر اجارہ داری کے غلط استعمال کا الزام
  • سرکاری ملازمین کے سفری اور تفریقی الاؤنس میں اضافے کی منظوری، نئی شرحیں جاری
  • کوئٹہ: سرکاری دستاویزات میں شہریوں کو غیرقانونی سہولت دینے والے 14 ایجنٹ گرفتار
  • کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن