ایشوریا رائے کا موازنہ راکھی ساونت سے کیوں کیا جانے لگا؟
اشاعت کی تاریخ: 10th, December 2025 GMT
بالی ووڈ اداکارہ اور سابق مس ورلڈ ایشوریا رائے بچن حال ہی میں جدہ میں منعقد ہونے والے ریڈ سی فلم فیسٹیول میں شرکت کے باعث ایک بار پھر خبروں کی زینت بن گئیں۔
فیسٹیول میں وہ سیاہ رنگ کے خوبصورت گاؤن میں ایک خصوصی نشست کا حصہ بنیں اور اپنی زندگی اور فلمی کیریئر پر گفتگو کی۔
اداکارہ نے گزشتہ چند برسوں سے اپنی بیٹی کی پرورش پر توجہ دینے کے لیے فلموں سے کچھ دوری اختیار کی ہوئی ہے۔
وقت گزرنے کے ساتھ ان کی شکل و صورت میں آنے والی قدرتی تبدیلیوں پر انٹرنیٹ صارفین نے غیر ضروری تنقید کا سلسلہ شروع کردیا۔
کئی لوگوں نے ان کے چہرے میں فرق محسوس کرتے ہوئے غیر مناسب طور پر ان کا موازنہ راکھی ساونت سے کیا، جو مبینہ طور پر چہرے پر حد سے زیادہ فلرز کے باعث تنقید کا شکار رہتی ہیں۔
View this post on Instagram
A post shared by The Hollywood Reporter India (@hollywoodreporterindia)
سوشل میڈیا پر کچھ صارفین نے سخت تبصرے کرتے ہوئے لکھا کہ انہیں ایشوریا رائے کی جگہ راکھی ساونت نظر آئیں، جبکہ کچھ نے ان کے انگریزی بولنے پر بھی طنز کیا۔
چند لوگوں نے دعویٰ کیا کہ اداکارہ کے چہرے کی سابقہ قدرتی چمک اب نظر نہیں آتی۔
تاہم ایشوریا کے مداح اب بھی ان کی خوبصورتی، وقار اور کامیاب کیریئر کی تعریف کرتے دکھائی دیتے ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
ایران عرب ممالک پر نہیں بلکہ شیطانی اور دہشتگردی کے اڈوں پر حملے کر رہا ہے، علامہ رمضان توقیر
ایس یو سی کے مرکزی رہنماء نے رہبر معظم آیت اللہ سید مجتبیٰ خامنہ ای سے تجدیدِ عہد کا اظہار بھی کیا اور اس عزم کا اعادہ کیا گیا کہ حق، عدل، وحدتِ امت اور مظلوموں کی حمایت کے اصولوں پر ثابت قدم رہتے ہوئے اسلامی اقدار کے فروغ کے لیے اپنی ذمہ داریاں ادا کرتے رہیں گے۔ اسلام ٹائمز۔ ڈیرہ اسماعیل خان جامعۃ النجف کوٹلی امام حسین میں گرمیوں کی چھٹیوں سے استفادہ کرتے ملت جعفریہ کے بچوں کے لیے پرنسپل جامعتہ النجف علامہ محمد رمضان توقیر کی نگرانی بیس روزہ دین شناسی شارٹ کورس کا اہتمام کیا گیا۔ جس میں ڈیرہ شہر اور مضافات سے کثیر تعداد میں بچوں نے شرکت کی۔اس دین شناسی شارٹ کورس میں بچوں کو قرآن وحدیث،وضو،صوم ،صلوات اور بنیادی فقہی احکام سے روشناس کرایا گیا۔ جس میں جامعتہ النجف کے دیگر مدرسین محنت و لگن کے ساتھ بچوں کی رہنمائی کرتے رہیں۔ دین شناسی شارٹ کورس کے آخر میں مدرسین نے اپنی محنت اور طلاب کرام کی کارکردگی کو جانچنے کے لیے بچوں سے امتحان لیا۔اساتذہ کی محنت اور بچوں کی محنت قابلِ تعریف تھی۔تقسیم تقریب انعامات کا اہتمام کیا گیا۔
پرنسپل جامعہ علامہ محمد رمضان توقیر نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے اساتذہ کی محنت اور طلاب کرام کی امتحانات میں تسلی بخش نتائج کو سراہتے ہوئے کہا کہ انشاء اللہ اس طرح دین مبین کی خدمت کا سلسلہ جاری رکھیں گے اور ملت کے جوانوں کی دینی تعلیم و تربیت کے لیے ہمہ وقت کوشاں رہیں گے۔ اس موقع پر رہبرِ انقلاب کی دینی و انقلابی خدمات اور ایران کی استقامت اور ثابت قدمی کو خراجِ عقیدت پیش کیا۔ اسی قرآن و سنت کی آگاہی اور خدا تعالیٰ کی وحدانیت کے پختہ عقیدہ کی وجہ سے ایران کی حکومت اور عوام شیطان بزرگ کے خلاف استقامت اور جرات کا مظاہرہ کرتے ہوئے دن بدن حاوی ہوتی جا رہا ہے، جو قابلِ تعریف ہے۔ لیکن کچھ ناقدین آج بھی ایران کی استقامت اور کامیابیوں سے پریشان ہیں اور شیطان بزرگ کی خوشنودی کے لیے ایران پر تنقید کر رہے ہیں کہ ایران عرب ممالک پر حملہ کر رہا ہے۔
علامہ محمد رمضان توقیر نے کہا کہ ایران عرب ممالک پر نہیں بلکہ شیطانی اور دہشتگردی کے اڈوں پر حملے کر رہا ہے۔ اس موقع پر نئے رہبر آیت اللہ سید مجتبیٰ خامنہ ای سے تجدیدِ عہد کا اظہار بھی کیا گیا اور اس عزم کا اعادہ کیا گیا کہ حق، عدل، وحدتِ امت اور مظلوموں کی حمایت کے اصولوں پر ثابت قدم رہتے ہوئے اسلامی اقدار کے فروغ کے لیے اپنی ذمہ داریاں ادا کرتے رہیں گے۔ تقریب تقسیم انعامات میں مدرسین اور معززین علاقہ نے شرکت کی اور امتحان میں نمایاں پوزیشن حاصل کرنے والے طلاب کرام کو انعامات سے نوازا گیا اور انکی حوصلہ افزائی کی گئی۔ امتِ مسلمہ کے اتحاد، ایران کی فتح و نصرت، پاکستان کی سلامتی اور شہدائے اسلام، بالخصوص رہبر شہید کے لئے دعا کی گئی۔