صبا قمر نے اپنے بارے میں دیے لائبہ خان کے متنازع بیان پر کیا کہا؟
اشاعت کی تاریخ: 9th, December 2025 GMT
پاکستانی شوبز انڈسٹری کی اُبھرتی ہوئی اداکارہ لائبہ خان نے انکشاف کیا ہے کہ جب میرا صبا قمر کے بارے میں دیا بیان توڑ مروڑ کر سوشل میڈیا پر وائرل کیا گیا تو اُنہوں نے میرے لیے ایک پیغام بھیجا تھا۔
لائبہ خان نے حال ہی میں نجی ٹی وی کے پروگرام میں بطور مہمان شرکت کی جہاں اُنہوں نے صبا قمر کے بارے میں دیے اپنے بیان کی وضاحت کی اور یہ بھی بتایا کہ صبا قمر نے اس تنازع پر کیا ردعمل ظاہر کیا۔
اُنہوں نے وضاحت دیتے ہوئے کہا کہ جن لوگوں کے دماغ کام نہیں کرتے میں اُنہیں آج سچ بتانا چاہتی ہوں، دراصل شو کے میزبان نے مجھ سے سوال کیا کہ صبا قمر اگر اداکارہ نہ ہوتیں تو وہ کون سا پیشہ منتخب کرتیں؟ تو میں نے تھوڑا سوچنے کے بعد جواب دیا کہ اگر وہ اداکارہ نہ ہوتیں تو وکیل ہوتیں۔
اداکارہ نے بتایا کہ اب کسی نے میرے اس انٹرویو کو ایڈٹ کرکے سوشل میڈیا پر اپلوڈ کر دیا اور وہ وائرل ہو کر ایک تنازع بن گیا۔
اُنہوں نے مزید کہا کہ میں اس شخص کے دماغ کو سلام پیش کرتی ہوں جس نے اسے انٹرویو کو اس طرح ایڈٹ کیا مگر جن لوگوں نے وہ ایڈٹ دیکھ کر مجھے نصیحتیں کرنا شروع کیں ان سے میں کہوں گی کہ ایک چیز ہے جسے دماغ کہتے ہیں تو کوئی بھی شخص جس کے دماغ کے خلیے ٹھیک ہیں وہ جا کر میرا پورا انٹرویو دیکھ سکتا ہے۔
لائبہ خان نے بتایا کہ صبا قمر ایک بہترین اداکارہ ہیں، میں نے ان کے ساتھ کام بھی کیا ہے اور اُنہوں نے ایک بار یہ پیشگوئی بھی کی تھی کہ میرا شمار ایک دن بڑے اسٹارز میں ہوگا۔
اُنہوں نے یہ بھی بتایا کہ جب میرے انٹرویو کے بعد تنازع شروع ہوا تو کسی نے صبا قمر کو اطلاع دی جس کے بعد میں نے ان سے بات بھی کی اور انہوں نے مجھے بہت سارا پیار اور دعائیں دیں اور ساتھ ہی یہ نصیحت بھی کی کہ میں احمق لوگوں کی باتوں پر دھیان نہ دوں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: لائبہ خان ا نہوں نے بتایا کہ بھی کی
پڑھیں:
لاہور میں گینگ ریپ کی شکار 18 سالہ گھریلو ملازمہ اسقاطِ حمل کے دوران جاں بحق
لاہور ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2026ء ) لاہور کے علاقے ماڈل ٹاؤن میں مبینہ زیادتی کا شکار ہونے والی 18 سالہ گھریلو ملازمہ اسقاطِ حمل کے دوران جان کی بازی ہار گئی۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق لاہور کے علاقہ ماڈل ٹاؤن کے ایک گھر میں ملازمہ کے طور پر کام کرنے والی 18 سالہ لڑکی مبینہ طور پر گینگ ریپ اور بعد ازاں غیر قانونی طبی طریقہ کار کے باعث زندگی کی بازی ہار گئی ہے، متوفیہ نے ہسپتال میں دم توڑنے سے قبل اپنے بیانات ریکارڈ کرادیئے۔ پولیس حکام کا کہنا ہے کہ لڑکی کا حمل ضائع کرنے کے لیے اسے پہلے رائے ونڈ کے ایک نجی کلینک لے جایا گیا، جہاں حالت بگڑنے پر اسے سروسز ہسپتال منتقل کیا گیا، وہ دو روز تک سروسز ہسپتال میں زیرِ علاج رہنے کے بعد دم توڑ گئی، متاثرہ لڑکی نے اپنے تحریری اور ویڈیو بیانات میں مکان مالک کے بیٹے اور ڈرائیور پر اجتماعی زیادتی کا سنگین الزام عائد کیا تھا، بعد میں مبینہ دباؤ کے تحت لڑکی نے اپنے بیان میں تبدیلی کی اور اپنے آخری بیان میں صرف ڈرائیور کو ہی نامزد کیا۔(جاری ہے)
پولیس نے بتایا کہ لڑکی کے ابتدائی بیانات کی روشنی میں گینگ ریپ کا مقدمہ درج کیا گیا تھا، تاہم اس کی موت کے بعد مقدمے میں باقاعدہ طور پر قتل کی دفعات بھی شامل کر دی گئی ہیں، ایک نامزد ملزم ڈرائیور کو گرفتار کرکے جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا گیا ہے، قتل کی دفعات شامل ہونے کے بعد کیس کی تفتیش جینڈر سیل سے تبدیل کرکے انویسٹی گیشن ونگ کے سپرد کر دی گئی ہے، پولیس نے گھر کے مالکان سمیت ان تمام افراد کو دوبارہ شاملِ تفتیش کرنے کے لیے نوٹسز جاری کر دیئے ہیں جنہیں پہلے کلیئر کر دیا گیا تھا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ ضابطہ فوجداری کی دفعہ 164 کے تحت ریکارڈ کیے گئے بیانات کا دوبارہ باریک بینی سے جائزہ لیا جائے گا، متوفیہ کا پوسٹ مارٹم مکمل کر لیا گیا ہے اور موت کی اصل وجہ رپورٹ آنے کے بعد واضح ہوگی، اگر رائے ونڈ کے نجی کلینک کی جانب سے غفلت یا غیر قانونی طریقہ کار کے شواہد ملے تو اس کے خلاف بھی سخت قانونی کارروائی کی جائے گی۔