data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

حیدرآباد(نمائندہ جسارت)پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول زرداری اور وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کی ہدایات پر صوبے بھر کی طرح حیدرآباد میں بھی عوامی مسائل انکی دہلیز پر حل کرنے اور محکموں کی کارکردگی مزید بہتر بنانے کے لیے صوبائی وزیر برائے صحت و بہبود آبادی ڈاکٹر عذرا فضل پیچوہو نے سرکٹ ہاؤس حیدرآباد میں ایک کھلی کچہری منعقد کی۔ جس میں میئر حیدرآباد کاشف علی شورو، ڈپٹی کمشنر حیدرآباد زین العابدین میمن، ایس ایس پی عدیل چانڈیو، ڈی جی ہیلتھ سندھ، ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر پیر غلام حسین، ایم ایس سول اسپتال حیدرآباد ڈاکٹر ارشاد کاظمی ،محکمہ صحت، تعلیم، ایکسائز، حیسکو، پبلک ہیلتھ، لوکل گورنمنٹ، ہائی ویز، بلڈنگز، آبپاشی، واسا، سوئی گیس، اطلاعات سمیت متعدد دیگر محکموں کے افسران نے شرکت کی۔ صوبائی وزیر نے کھلی کچہری میں مختلف شکایات سنتے ہوئے کہا کہ سندھ حکومت عوامی مسائل کو اُن کی دہلیز پر حل کرنے کے لیے سنجیدہ اقدامات کررہی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ایس آئی یو ٹی کا ہر ڈویژنل ہیڈ کوارٹر میں قیام کا منصوبہ ہے اور حیدرآباد میں بھی اس کا قیام جلد ممکن بنایا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ شہر میں موجود طبی سہولیات کو اپ گریڈ کرنے، سول اسپتال کے برنز وارڈ کو بہتر بنانے اور عملے کو تربیت دینے پر کام جاری ہے، جب کہ تعلقہ اسپتالوں میں سہولیات کی بہتری سے سول اسپتال کا بوجھ کم ہوگا۔ صوبائی وزیر نے کہا کہ نیاز اسٹیڈیم، پارکس کی اپ گریڈیشن اور اسپورٹس گراؤنڈز کے قیام پر بھی سندھ حکومت توجہ دے رہی ہے تاکہ نوجوانوں کو بہتر کھیلوں کی سرگرمیاں فراہم کی جا سکیں۔ کچی آبادیوں سے متعلق شکایت پر انہوں نے کہا کہ متعلقہ اتھارٹی سے بات کر کے مسائل حل کروائے جائیں گے، کیونکہ ’’روٹی، کپڑا اور مکان‘‘پیپلز پارٹی کے منشور کا بنیادی حصہ ہے۔ سوئی گیس اور حیسکو سے متعلق شکایات پر صوبائی وزیر نے شہریوں سے کہا کہ اپنی تحریری شکایات میئر حیدرآباد کے دفتر میں جمع کرائیں تاکہ وفاقی محکموں کو بھیجی جا سکیں۔ انہوں نے بتایا کہ رنگ روڈ منصوبے کا تقریباً 50 فیصد کام مکمل ہو چکا ہے اور جلد بقیہ کام بھی مکمل کرایا جائے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ کوہسار کو پانی کی فراہمی کے لیے 32 انچ قطر کی نئی پائپ لائن بچھائی جا رہی ہے جس سے پانی کی کمی پر قابو پانے میں مدد ملے گی۔ آٹو بھان روڈ پر شراب خانہ کھلنے کے معاملے پر صوبائی وزیر نے کہا کہ یہ معاملہ سندھ اسمبلی میں اٹھایا جا چکا ہے اور محکمہ ایکسائز اس پر جلد ایکشن لے گا۔ ڈاکٹر عذرا فضل پیچوہو نے بتایا کہ حیسکو سے متعلق شکایات کے حل کے لیے سندھ اسمبلی میں خصوصی کمیٹی تشکیل دے دی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر بلاول زرداری وزیر اعظم منتخب ہو جائیں تو وفاقی اداروں سے متعلق شکایات کا ازالہ بھی تیز رفتاری سے ہو سکے گا۔ کھلی کچہری میں شہریوں کی جانب سے زیادہ تر شکایات حیسکو اور سوئی گیس کی عدم فراہمی سے متعلق کی گئی جبکہ اس کے علاؤہ طبی سہولیات کی کمی، اسکولوں میں فرنیچر کی کمی، تجاوزات، صفائی و نکاسی آب، ٹوٹی ہوئی پانی کی لائنوں، نئے پارکس تعمیر کرانے، سڑکوں کی مرمت اور فلٹر پلانٹس کی شکایات سمیت دیگر مسائل پیش کیے۔ اس موقع پر صوبائی وزیر نے کچھ شکایات کے فوری ازالے جبکہ کچھ شکایات کے حل کے لیے متعلقہ محکموں کے افسران کو ہدایات جاری کی اور رپورٹ طلب کی۔

سیف اللہ نمائندہ جسارت.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: کھلی کچہری شکایات کے نے کہا کہ سوئی گیس انہوں نے کے لیے

پڑھیں:

حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف

حیدرآباد الیکٹرک سپلائی کمپنی (حیسکو) میں تنخواہوں اور الاؤنسز کی مد میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کرپشن کا انکشاف ہوا ہے۔

قومی اسمبلی کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے اجلاس میں آڈٹ حکام نے انکشاف کیا کہ حیسکو میں گھوسٹ ملازمین، ڈبل تنخواہوں کے ذریعے قومی خزانے کو نقصان پہنچایا گیا اور وفاقی تحقیقاتی ادارہ (ایف آئی اے)99 کروڑ 62 لاکھ کی مبینہ کرپشن کی تحقیقات کر رہا ہے۔

آڈٹ حکام نے مزید انکشاف کیا کہ حیسکو کی اندرونی انکوائری میں مزید 6 کروڑ 78 لاکھ روپے کی مشتبہ ادائیگیاں ہوئی ہیں۔

چیئرمین کمیٹی شاہدہ اختر کی زیرصدارت اجلاس میں ایف آئی اے حکام نے بتایا کہ اس معاملے میں ایف آئی آرز کی تعداد 5 ہوگئی تھی، 151 ملزمان تھے جن میں سے 14 کو گرفتار کیا گیا جبکہ دیگر ضمانت پر ہیں، ایک ارب روپے میں سے 13 کروڑ روپے کی ریکوری ہوئی ہے۔

رکن کمیٹی قاسم نون نے کہا کہ 13 کروڑ روپے کچھ بھی نہیں ہیں، سخت ایکشن لیا جائے، سید امین الحق نے کہا کہ گھوسٹ ملازمین کی تصدیق بھی کی گئی کہ وہ موجود ہیں۔

سینیٹر افنان اللہ خان نے کہا کہ وزارت کو چاہیے کہ وہ مداخلت کرے اور ذمہ داران کا تعین کرے۔

چیئرمین کمیٹی شاہد اختر نے کہا کہ یہ تو آڈٹ نے نشان دہی کر دی ہے، لگتا ہے کہ پاور ڈویژن کا کوئی چیک اینڈ بیلنس نہیں ہے، جس پر سی ای او حیسکو نے بتایا کہ 756 ملین روپے کی ذمہ داری بھی فکس ہو چکی ہے۔

شاہدہ اختر نے کہا کہ عدالت کے حکم تک یہ آڈٹ پیرا زیر التوا رہے گا، رکن کمیٹی سید حسین طارق نے سوال کیا کہ حیسکو میں بائیو میٹرک سسٹم کیوں نہیں ہے۔

پاکستان پیپلزپارٹی (پی پی پی) کی رکن شازیہ مری نے کہا کہ ہم ڈسکوز کو یہاں کمنٹس کے لیے نہیں احتساب کے لیے بلاتے ہیں، یہ لوگوں کو چور کہتے ہیں اور اپنی پرفارمنس کے گیت گاتے نہیں تھکتے۔

پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے ہدایت کی کہ 13 کروڑ روپے کی ریکوری کی آڈٹ سے تصدیق کرائی جائے، جو ریکوری رہ گئی ہے وہ معاملہ زیر التوا رہے گا۔

متعلقہ مضامین

  • تیسرے آپریشن کیلئے آنے والی خواتین کا مانع حمل کا آپریشن کیا جائےگا: وزیر صحت سندھ
  • اسلام آباد کچہری میں سموسے کیساتھ چٹنی نہ ملنے پر ہنگامہ
  • کسی سیاسی جماعت کا نمائندہ نہیں، آئین کے مطابق قومی ذمہ داری نبھاؤں گا: گورنر سندھ نہال ہاشمی
  • ایچ آئی وی کے خلاف حکومت سندھ موثر اقدامات کر رہی ہے، وزیر صحت
  • سابق وفاقی وزیر سردار یار محمد رند کی سفری پابندی کیخلاف درخواست پر فیصلہ محفوظ
  •  صدر آصف علی زرداری سے بلوچستان کے صوبائی وزراء کی ملاقات
  • صدر مملکت سے بلوچستان کے صوبائی وزراء کی ملاقات، مجموعی صورتحال پر تبادلہ خیال
  • عوامی مسائل کے حل میں تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی، ضیاء الحسن لنجار
  • پنجاب کے وزیر تعلیم رانا سکندر حیات کا اسکولوں میں خود پڑھانے کا اعلان
  • حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف