ووٹر چاہے کسی کا ہو، کراچی کے ہر علاقے میں بس چلائیں گے: شرجیل انعام میمن
اشاعت کی تاریخ: 5th, December 2025 GMT
---فائل فوٹو
سندھ کے سنیئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کہا ہے کہ کراچی کی ہر بڑی سڑک پر پبلک ٹرانسپورٹ چلے گی، ووٹر چاہے جس کا بھی ہو، ہر علاقے میں بس چلائیں گے۔
سندھ کے سینئر وزیر شرجیل میمن نے سندھ اسمبلی میں اظہارِ خیال کرتے ہوئے کہا کہ کراچی میں اگلے ماہ نئی بسوں کا فلیٹ لا رہے ہیں، کوشش ہے کہ کراچی اور حیدر آباد کی ہر بڑی روڈ پر پیپلز بس سروس چلے۔
شرجیل انعام میمن کا کہنا ہے کہ 50 ای وی بسیں اور ڈبل ڈیکر بسیں کراچی پورٹ پر پہنچ چکی ہیں، مزید 500 ای وی بسیں لانے کے لئے وزیر اعلیٰ سندھ سے منظوری لے لی ہے۔
محکمہ ٹرانسپورٹ کے اجلاس میں گفتگو کرتے ہوئے شرجیل میمن نے کہا کہ امیدہےڈبل ڈیکر اورنئی ای وی بسیں آئندہ ہفتے تک کراچی پہنچ جائیں گی۔
انہوں نے مزید کہا کہ ٹریفک کا نظام ٹھیک کرنا ہوگا، حادثات کو روکنے کے لیے کیس ٹو کیس جائزہ لینا ہوگا، اپوزیشن کو دعوت دیتے ہیں کہ ہمیں مشورے دیں۔
اِن کا کہنا تھا کہ انٹرا سٹی بسیں چلانے کے لیے ٹرانسپورٹرز کو قرضے دینے کو تیار ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
پڑھیں:
اٹلی میں چار پاکستانی زرعی مزدوروں کا قتل، دو پاکستانی شہری گرفتار
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ DW اردو۔ 02 جون 2026ء) اخبار کے مطابق جلی ہوئی گاڑی امینڈولارا نامی گاؤں کے قریب ایک پٹرول پمپ پر ملی، جو کالابریا کے وسیع زرعی علاقے میں واقع ہے۔
اخبار کے مطابق پٹرول پمپ کے سی سی ٹی وی کیمروں کی فوٹیج میں دو افراد کو منی وین کے دروازے باہر سے بند کرتے اور اس کے اندر آتش گیر مائع پھینکتے ہوئے دیکھا گیا۔
رپورٹ کے مطابق اس کے بعد گاڑی میں آگ بھڑک اٹھی اور دونوں مشتبہ افراد موقع سے فرار ہو گئے۔
فائر بریگیڈ نے آگ بجھانے کے بعد گاڑی کے اندر سے چار لاشیں برآمد کیں۔
مقامی پولیس چیف نے اس اطالوی اخبار سے گفتگو کرتے ہوئے کہا، ’’یہ یقینی طور پر قتل کا واقعہ ہے، اب ہمیں صرف اس کی تفصیلات معلوم کرنا ہیں۔
(جاری ہے)
‘‘
اخبار نے مزید لکھا کہ گزشتہ چند مہینوں کے دوران اس علاقے میں پاکستانیوں کی گاڑیوں اور منی وینز کے نذر آتش کیے جانے کے 14 واقعات پیش آ چکے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق علاقے میں تارکین وطن کے مختلف گروہوں کے درمیان زرعی کام کی تقسیم، رہائشی دستاویزات (ریذیڈنسی پیپرز)، اور رہائش کے مسائل پر کشیدگی پائی جاتی ہے، جسے ممکنہ طور پر اس واقعے کے پس منظر سے جوڑا جا رہا ہے۔
اطالوی حکام اس واقعے کی تحقیقات جاری رکھے ہوئے ہیں تاکہ اکٹھے چار افراد کے اس قتل کے محرکات اور اس کے ذمہ دار افراد کے اس جرم میں کردار کی مکمل طور پر وضاحت ہو سکے۔
ادارت: مقبول ملک