سیف سٹی پروجیکٹ کراچی کو محفوظ شہر میں تبدیل کرنے کیلیے بنایا گیا‘ وزیر اعلیٰ
اشاعت کی تاریخ: 3rd, December 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کراچی (اسٹاف رپورٹر) سندھ کے وزیر اعلیٰ سید مراد علی شاہ نے کہا ہے کہ سیف سٹی پروجیکٹ کراچی کو جدید ٹیکنالوجی پر مبنی محفوظ شہر میں تبدیل کرنے کے لیے بنایا گیا ہے جس میں جامع وڈیو نگرانی شامل ہے اور ساتھ ہی انہوں نے بتایا کہ کچے کے علاقے میں کی جانے والی کارروائیوں کے دوران 71 ڈاکوئوں نے ہتھیار ڈال دیے ہیں۔ وزیر اعلیٰ نے یہ بات 52 ویں اسپیشلائزڈ ڈیلگیٹ کے 47 ابتدائی کمانڈ کورس کے شرکاء سے خطاب کے دوران کہی جس کی قیادت ڈپٹی کمانڈنٹ (این پی اے) سرفراز احمد فالکی، پی ایس پی کر رہے تھے اور یہ وفد سی ایم ہاؤس میں ملاقات کے لیے آیا۔ آئی جی پولیس غلام نبی میمن، سیکرٹری داخلہ اقبال میمن اور سیکرٹری وزیر اعلیٰ رحیم شیخ بھی اس موقع پر موجود تھے۔ مراد علی شاہ نے سندھ پولیس کو جدید ٹیکنالوجی سے لیس فورس میں تبدیل کرنے کے لیے حکومت کی وابستگی کو اجاگر کیا۔ انہوں نے محکمہ کی وسیع وسعت کی طرف توجہ دلاتے ہوئے کہا کہ 131,850 اہلکار 31 اضلاع، 8 زونز/رینجز اور 618 پولیس اسٹیشنز میں خدمات انجام دے رہے ہیں جن کے لیے سالانہ بجٹ 189.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
میاں بیوی کو تین سالہ بچی سمیت اٹھانے کی سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست ، لاہور ہائیکورٹ کی متعلقہ عدالت سے رجوع کرنے کی ہدایت
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 02 جون2026ء) لاہور ہائیکورٹ نے سی سی ڈی اہلکاروں کی جانب سے میاں بیوی اور تین سالہ بچی کو گھر سے اٹھانے کے معاملے میں سی سی ٹی وی کیمروں کی وڈیو فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست مسترد کرتے ہوئے درخواست گزار کو متعلقہ ٹرائل کورٹ سے رجوع کرنے کی ہدایت کر دی۔لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس شہرام سرور چوہدری نے درخواست پر سماعت کی۔ درخواست گزار رحمان کی جانب سے ایڈووکیٹ ایاز صفدر سندھو نے دلائل دیئے۔درخواست گزار کے وکیل نے موقف اختیار کیا کہ سی سی ڈی گوجرانوالہ نے درخواست گزار کی بہن، بہنوئی اور ان کی تین سالہ بچی کو گھر سے اٹھایا اور بعد ازاں میاں بیوی کے خلاف منشیات کا جھوٹا مقدمہ درج کر دیا۔ مذکورہ میاں بیوی ایک مبینہ جعلی پولیس مقابلے کے مدعی ہیں اور پیروی سے باز نہ آنے پر انہیں جھوٹے مقدمے میں نامزد کیا گیا۔(جاری ہے)
تین سالہ بچی بھی سی سی ڈی کی تحویل میں رہی تاہم درج مقدمے میں اس کا کوئی ذکر موجود نہیں۔ عدالت سے استدعا کی گئی کہ متعلقہ مقامات کی سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ بنانے کے احکامات جاری کیے جائیں۔سماعت کے دوران جسٹس شہرام سرور چوہدری نے ریمارکس دیے کہ فوٹیج حاصل کرنا یا اسے محفوظ بنانا ہائیکورٹ کا کام نہیں۔ عدالت نے قرار دیا کہ ٹرائل کورٹ کے پاس سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ رکھنے سمیت متعدد قانونی اختیارات موجود ہیں۔عدالت نے درخواست گزار کو ہدایت کی کہ وہ اپنی درخواست متعلقہ ٹرائل کورٹ میں دائر کرے کیونکہ اس حوالے سے حکم جاری کرنے کا اختیار اسی عدالت کے پاس ہے۔بعد ازاں عدالت نے سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست مسترد کرتے ہوئے درخواست گزار کو ٹرائل کورٹ سے رجوع کرنے کی ہدایت کر دی۔