معین خان کیلئے دعائے مغفرت، فیک نیوز پر سندھ اسمبلی میں دلچسپ صورتحال
اشاعت کی تاریخ: 5th, December 2025 GMT
کراچی:
سندھ اسمبلی کے اجلاس میں اُس وقت دلچسپ صورتحال پیدا ہوگئی جب ایم کیو ایم پاکستان کے رکن صابر قائمخانی نے سوشل میڈیا پر چلنے والی افواہ پر یقین کرتے ہوئے سابق قومی کرکٹر معین خان کے انتقال پر مغفرت کی دعا کی درخواست کردی۔
اجلاس کی صدارت اسپیکر اویس قادر شاہ کر رہے تھے۔ انہوں نے فوراً رکن اسمبلی کو بتایا کہ یہ خبر غلط ہے اور سوشل میڈیا کی فیک نیوز ہے۔ دیگر اراکین نے بھی صابر قائمخانی کو روکا جس پر انہوں نے کھڑے ہوکر معذرت کی۔
واضح رہے کہ 2 دسمبر کو حیدرآباد کے سینئر کرکٹر 65 سالہ معین خان راجپوت کے انتقال کے بعد سوشل میڈیا پر غلط طور پر 1992 ورلڈ کپ کے ہیرو اور سابق وکٹ کیپر بیٹسمین معین خان کے انتقال کی افواہ پھیل گئی تھی۔ اس غلط خبر نے دنیا بھر میں معین خان کے اہلخانہ، دوستوں اور مداحوں کو شدید پریشانی میں مبتلا کر دیا۔
معین خان نے ایک ویڈیو بیان میں کہا کہ سوشل میڈیا پر بغیر تصدیق کے خبر چلانا افسوسناک ہے، اس سے انہیں اور ان کے چاہنے والوں کو غیر ضروری اذیت اٹھانا پڑی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: سوشل میڈیا
پڑھیں:
سپریم کورٹ؛ اے این ایف اہلکار کے چرس پینے سے متعلق جواب پر جج کے دلچسپ ریمارکس پر قہقہے
اسلام آباد:سپریم کورٹ نے منشیات برآمدگی کیس میں پانچ لاکھ روپے کے مچلکوں کے عوض لاہور کی رہائشی نازیہ مختار خواجہ کی ضمانت منظور کر لی۔
دوران سماعت، ملزمہ کے وکیل نے اے این ایف ریڈ کی سی سی ٹی وی فوٹیج چلا دی جس پر عدالت نے ملزمہ کے گھر کی سی سی ٹی وی فوٹیج کا فرانزک کروانے کا حکم دے دیا۔
جسٹس ہاشم کاکڑ کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے سماعت کی۔
وکیل احسن بھون نے دلائل دیے کہ واضح دیکھا جاسکتا ہے کہ اے این ایف کا اہلکار منشیات لے کر گھر آتا ہے، خود منشیات گھر میں رکھ کر جھوٹا کیس بنایا گیا، سی سی ٹی وی فوٹیج میں نظر آنے والا اہلکار کمرہ عدالت میں موجود ہے۔
دوران سماعت، اے این ایف اہلکار نے فوٹیج میں موجودگی کی تردید کر دی۔
جسٹس اشتیاق ابراہیم نے ریمارکس دیے کہ اے این ایف کے اسلحہ بردار اہلکار تشدد کرتے نظر آرہے ہیں، جس پر وکیل اے این ایف نے کہا کہ یہ فوٹیج کسی اور گھر میں کیے گئے ریڈ کی ہے۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے ریمارکس دیے کہ اے این ایف کے 10 اہلکار تھے مگر دو لڑکیاں پھر بھی بھاگ گئیں، اتنے ہٹے کٹے اہلکار لڑکیوں کو نہیں پکڑ سکے مگر گاڑی پکڑ لی۔
وکیل ملزمہ احسن بھون نے کہا کہ گاڑی کی ریکوری کا ریکارڈ بھی تبدیل کیا گیا ہے۔
جسٹس اشتیاق ابراہیم نے ریماریس دیے کہ اے این ایف کے بیانات پر لوگوں کو پھانسی پر لٹکاتے اور عمر قید سناتے ہیں، خدا کا خوف کریں کمرہ عدالت میں جھوٹ نہ بولیں۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے ریمارکس دیے کہ اے این ایف کیا کر رہا ہے ملزمان تحویل میں ہوتے ہوئے مار دیے جاتے ہیں، ایک کیس میں ملزم کی ہتھکڑیوں کے ساتھ تصویر تھی جو اگلے روز مار دیا گیا۔
دوران سماعت، جسٹس ہاشم کاکڑ نے اے این ایف اہلکار سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ جوانی ہمیشہ نہیں رہنی کچھ خیال کیا کریں۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے اے این ایف اہلکار سے استفسار کیا کہ آپ نے کبھی چرس پی ہے؟ اے این ایف اہلکار نے جواب دیا کہ نہیں سر میں نے کبھی چرس نہیں پی۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے ریمارکس دیے کہ چرس نہیں پی اس لیے آپ میں احساس بھی نہیں ہے۔ جسٹس ہاشم کاکڑ کے ریمارکس پر عدالت میں قہقہے لگ گئے۔