بلوچستان: بیرونِ ملک دہشت گرد قیادت کیخلاف گھیرا تنگ، بڑے کریک ڈاؤن کی منظوری
اشاعت کی تاریخ: 4th, December 2025 GMT
بلوچستان حکومت نے دہشتگردی کی کارروائیوں میں ملوث بیرونِ ملک بیٹھے کالعدم تنظیموں کے سربراہان، کمانڈرز اور 300 سے زائد دہشتگردوں کے خلاف بڑے پیمانے پر کارروائی کا فیصلہ کرلیا ہے۔
وزیرِاعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کی زیر صدارت صوبائی سطح کے ایک اعلیٰ اجلاس میں دہشت گرد نیٹ ورکس کے مکمل خاتمے کے لیے سخت اور غیرمعمولی اقدامات کی منظوری دی گئی۔
اجلاس میں حکام نے کالعدم بی ایل اے، بی ایل ایف، یو بی اے، بی آر جی اور لشکر بلوچستان کے رہنماؤں کے مقامی سہولت کاروں سے روابط، کال ریکارڈنگز اور دیگر شواہد پر تفصیلی بریفنگ دی۔
یہ بھی پڑھیں:بلوچستان میں 2 کارروائیوں کے دوران 18 بھارتی سرپرست دہشتگرد ہلاک
وزیرِاعلیٰ نے متعلقہ اداروں کو ہدایت کی کہ درج مقدمات کی پروسیکیوشن تیز کی جائے اور وفاقی وزارتِ داخلہ و وزارتِ خارجہ کی مدد سے انٹرپول کے ذریعے ریڈ نوٹسز جاری کرنے کی کارروائی کو فوری طور پر آگے بڑھایا جائے۔
وزیرِاعلیٰ نے کہا کہ دہشت گردی میں ملوث اندرون و بیرون ملک ہرعنصر کے خلاف مؤثراور فیصلہ کن کارروائی ناگزیر ہوچکی ہے۔
’بلوچستان کی سرزمین پر خون بہانے والوں کو دنیا کے کسی کونے میں چھپنے نہیں دیں گے۔‘
مزید پڑھیں: شہریوں کے معمولات زندگی میں رکاوٹ ڈالنے پر سخت کارروائی ہوگی، محکمہ داخلہ بلوچستان کا انتباہ
انہوں نے مزید کہا کہ سیاسی لبادہ اوڑھے کالعدم تنظیموں کے بیرون ملک بیٹھے سربراہان اور کمانڈرز کا اصل چہرہ دنیا کے سامنے لانا ریاست کی ذمہ داری ہے۔
اجلاس میں انسدادِ دہشت گردی کے نئے قوانین کے تحت کارروائیاں تیز کرنے، محکمہ داخلہ کے تحت قائم پروونشل ایکشن پلان سیل کو مزید متحرک کرنے اور تمام دہشت گرد تنظیموں کے رہنماؤں اور سہولت کاروں کی مکمل فہرست مرتب کرنے کی ہدایات بھی جاری کی گئیں۔
وزیرِاعلیٰ نے کہا کہ دستیاب شواہد کو ریکارڈ کا حصہ بنا کر وفاقی حکومت کی مدد سے ہر بین الاقوامی فورم پر پیش کیا جائے گا تاکہ عالمی سطح پر مؤثر قانونی کارروائی کی جاسکے۔
مزید پڑھیں: سیاست میں ملوث سرکاری ملازم کے خلاف بیڈا ایکٹ کے تحت کارروائی ہوگی، وزیراعلیٰ بلوچستان
انہوں نے واضح کیا کہ ریاست کی رٹ کو چیلنج کرنے والے عناصر کے خلاف آپریشن اب فیصلہ کن مرحلے میں داخل ہوچکا ہے۔
وزیرِاعلیٰ میر سرفراز بگٹی نے اپنے عزم کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ بلوچستان مزید کسی غیر ملکی ایجنڈے کا شکار نہیں ہوگا۔
’ریاست دشمنوں کے خلاف زیرو ٹالرنس کی پالیسی اختیار کی جائے گی اور آخری سہولت کار تک پیچھا کیا جائے گا۔‘
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
انٹرپول بلوچستان بی ایل اے دہشتگردی ریڈ نوٹس زیرو ٹالرنس سرفراز بگٹی کالعدم تنظیم وزارت خارجہ وزارت داخلہ وزیر اعلی.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: انٹرپول بلوچستان بی ایل اے دہشتگردی ریڈ نوٹس زیرو ٹالرنس سرفراز بگٹی کالعدم تنظیم وزارت داخلہ وزیر اعلی وزیر اعلی کے خلاف کہا کہ
پڑھیں:
خانیوال پل حادثے کی انکوائری مکمل‘پاکستان ریلویز نے دو افسران کو ملازمت سے فارغ کر دیا
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - آن لائن۔ 02 جون2026ء) پاکستان ریلویز نے خانیوال پل حادثے کی انکوائری مکمل ہونے کے بعد ذمہ دار افسران کے خلاف سخت کارروائی کرتے ہوئے دو افسران کو ملازمت سے فارغ کر دیا ہے۔ریلوے حکام کے مطابق سابق ڈویژنل انجینئر(ڈی ای این)ملتان عابد رزاق کو ملازمت سے برطرف کر دیا گیا ہے جبکہ سابق اسسٹنٹ انجینئر (اے ای این)خانیوال راجا یوسف کو بھی سروس سے برخاست کر دیا گیا ہے۔یاد رہے کہ خانیوال پل حادثے میں ایک شخص جاں بحق جبکہ متعدد افراد زخمی ہوئے تھے۔ واقعے کے بعد وفاقی وزیر ریلوے محمد حنیف عباسی نے ذمہ داروں کے خلاف سخت کارروائی کا اعلان کرتے ہوئے واضح کیا تھا کہ عوامی جانوں کے نقصان پر کسی قسم کی رعایت نہیں برتی جائے گی۔وزیر ریلوے کی ہدایت پر حادثے کی جامع انکوائری شروع کی گئی تھی۔(جاری ہے)
انکوائری رپورٹ میں متعلقہ افسران کی غفلت اور ذمہ داری کا تعین کیا گیا جس کی روشنی میں محکمانہ کارروائی عمل میں لائی گئی۔
ریلوے حکام کے مطابق وفاقی وزیر ریلوے اپنے زیرو ٹالرنس مقف پر قائم رہے اور حادثے کا کیس منطقی انجام تک پہنچایا گیا۔ وزارت ریلوے کا کہنا ہے کہ احتساب کا عمل جاری رہے گا اور غفلت، لاپروائی یا نااہلی پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔وزیر ریلوے محمد حنیف عباسی نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ مسافروں کے جان و مال کے تحفظ کو ہر صورت یقینی بنایا جائے گا اور ذمہ دار عناصر کے خلاف بلاامتیاز کارروائی جاری رہے گی۔