ڈیرہ اسماعیل خان : سکیورٹی فورسز کی کارروائی, 22 بھارتی حمایت یافتہ خوارج ہلاک
اشاعت کی تاریخ: 1st, December 2025 GMT
خیبرپختونخوا کے ضلع ڈیرہ اسماعیل خان میں 26 نومبر 2025 کو سکیورٹی فورسز نے خفیہ اطلاعات کی بنیاد پر ایک اہم کارروائی کی، جس میں بھارت کے حمایت یافتہ گروہ ”فتنہ الخوارج“ کے 22 دہشتگرد مارے گئے۔پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ ( آئی ایس پی آر) کے مطابق کارروائی کے دوران فورسز نے دہشت گردوں کے ٹھکانے کو گھیر کر مؤثر انداز میں نشانہ بنایا۔شدید فائرنگ کے تبادلے کے بعد مجموعی طور پر 22 خوارج ہلاک ہوئے۔ یہ دہشت گرد منظم سرگرمیوں کے ذریعے خطے میں بدامنی پھیلانے کی کوشش میں تھے۔سکیورٹی فورسز نے علاقے میں کلیئرنس اور سینیٹائزیشن آپریشن بھی کیا، تاکہ کوئی اور بھارتی سرپرستی یافتہ دہشت گرد موجود ہو تو اسے بھی پکڑا یا ختم کیا جاسکے۔آئی ایس پی آر کا کہنا ہے کہ پاکستان میں غیر ملکی حمایت یافتہ دہشت گردی کے مکمل خاتمے کے لیے ”عزمِ استحکام“ کے ویژن کے تحت ملک بھر میں آپریشنز پوری رفتار سے جاری رہیں گے۔ یہ ویژن نیشنل ایکشن پلان کی منظوری دینے والی فیڈرل ایپیکس کمیٹی نے طے کیا تھا۔ترجمان کے مطابق سیکورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے ادارے دہشت گردی کے ہر نیٹ ورک کو توڑنے اور پاکستان کو مکمل طور پر محفوظ بنانے کے لیے پرعزم ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
پڑھیں:
’مضبوط رہیں‘، ریپر طلحہ انجم کا بھارتی طلبا کے ساتھ اظہارِ یکجہتی
پاکستان کے معروف ریپر اور گلوکار طلحہ انجم نے نئی دہلی میں تعلیمی نظام کے خلاف احتجاج کرنے والے بھارتی طلبا سے اظہارِ یکجہتی کرتے ہوئے ان کے حوصلے اور ثابت قدمی کو سراہا ہے۔ انہوں نے طلبا پر ہونے والی پولیس کارروائی کے بعد ایک پیغام جاری کرتے ہوئے کہا کہ وہ ان کے غصے اور احساسات کو بخوبی سمجھتے ہیں۔
طلحہ انجم نے اپنی انسٹاگرام اسٹوری پر بھارتی طلبا کے احتجاج کی ایک ویڈیو شیئر کی، جس میں مظاہرین پر آنسو گیس اور لاٹھی چارج ہوتے دکھایا گیا۔ ویڈیو کے ساتھ انہوں نے لکھا کہ ’بھارت کے طلبا مظاہرین کے نام، مجھے آپ کی ثابت قدمی کا بے حد احترام ہے، میں آپ کی مایوسی اور غصے کو سمجھ سکتا ہوں، اور یہ بھی جانتا ہوں کہ آپ کے ساتھ کیا کیا جا رہا ہے، مضبوط رہیں۔‘
طلحہ انجم پاکستان کے سب سے زیادہ سنے جانے والے موسیقاروں میں شمار ہوتے ہیں اور اسٹریمنگ پلیٹ فارم اسپاٹیفائی پر ان کی مقبولیت کئی ریکارڈ قائم کر چکی ہے۔ بھارت میں بھی ان کے مداحوں کی بڑی تعداد موجود ہے۔ گزشتہ برس نیپال میں ایک کنسرٹ کے دوران ایک مداح کی جانب سے بھارتی پرچم پیش کیے جانے پر وہ خبروں میں آئے تھے، بعد ازاں انہوں نے پاکستان میں اس معاملے پر وضاحت بھی کی تھی۔
سماجی اور انسانی مسائل پر کھل کر مؤقف اختیار کرنے والے طلحہ انجم اس سے قبل بھی کئی معاملات پر آواز بلند کر چکے ہیں۔ اپریل میں صومالیہ کے ساحل کے قریب قزاقوں کے قبضے میں جانے والے پاکستانی ملاحوں کی رہائی کے لیے انہوں نے حکومت سے مؤثر اقدامات کا مطالبہ کیا تھا اور وزارتِ خارجہ سے متاثرہ خاندانوں کے لیے مستقل ہیلپ لائن قائم کرنے کی اپیل بھی کی تھی۔
دوسری جانب بھارت میں تعلیمی امتحانات کے مبینہ پیپر لیکس کے خلاف احتجاج کا سلسلہ گزشتہ ماہ سے جاری ہے۔ کاکروچ جنتا پارٹی (CJP) کے پلیٹ فارم سے ہونے والے اس دھرنے میں طلبہ وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے اور تعلیمی نظام میں اصلاحات کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ حالیہ دنوں پارلیمنٹ کی جانب مارچ کی کوشش کے دوران پولیس نے مظاہرین کو روکنے کے لیے طاقت کا استعمال کیا، جس کے نتیجے میں متعدد افراد زخمی ہوئے۔