وزیراعظم کے وطن پہنچتے ہی فیلڈ مارشل کی چیف آف ڈیفنس فورسز تعیناتی کا نوٹیفکیشن ہو جائےگا، وزیر قانون
اشاعت کی تاریخ: 1st, December 2025 GMT
وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے کہا ہے کہ فیلڈ مارشل سیّد عاصم منیر کی چیف آف ڈیفنس فورسز تعیناتی کا نوٹیفکیشن ہو جائےگا، وزیراعظم شہباز شریف ملک میں نہیں تھے وہ آئیں گے تو سارا کام ہو جائےگا۔
میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ یہ کام وزارت دفاع نے کرنا ہے جو ہو جائےگا، ہو سکتا ہے فائل ورک ہو چکا ہو۔
مزید پڑھیں: ہو سکتا ہے فیلڈ مارشل کی چیف آف ڈیفنس فورسز تعیناتی کا نوٹیفکیشن ہوگیا ہو، حنیف عباسی
واضح رہے کہ حکومت نے 27ویں آئینی ترمیم میں آئین کے آرٹیکل 243 میں ترمیم کی ہے، جس کے مطابق چیف آف ڈیفنس فورسز کا عہدہ تخلیق کیا گیا ہے۔
ترمیم کے مطابق چیف آف ڈیفنس فورسز کی مدت ملازمت 5 سال ہوگی، اور حکومت نے فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کو پہلا چیف آف ڈیفنس فورسز تعیناتی کا فیصلہ بھی کرلیا ہے۔
دوسری جانب ابھی تک حکومت نے فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی نئی تعیناتی کا نوٹیفکیشن جاری نہیں کی گیا، جس پر چہ مگوئیاں ہو رہی ہیں۔
ادھ وفاقی وزیر ریلوے حنیف عباسی نے کہاکہ فیلڈ مارشل عاصم منیر ہی چیف آف ڈیفنس فورسز ہیں، ہو سکتا ہے ان کی تعیناتی کا نوٹیفکیشن ہوگیا ہو، ہماری مرضی جب چاہیں اعلان کریں۔
نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ فیلڈ مارشل عاصم منیر کے ذریعے پاکستان کو ایسی عزت ملی جس کی مثال نہیں ملتی۔
انہوں نے کہا کہ جنرل عاصم منیر نے اپنی حدود میں رہتے ہوئے بھارت کے طیارے گرائے، جسے دنیا نے تسلیم کیا۔
مزید پڑھیں: قومی اتحاد پاکستان کی سب سے بڑی طاقت ہے، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر
انہوں نے کہاکہ پی ٹی آئی کی صورتحال بلی کے خواب میں چھیچھڑے جیسی ہے، ہم نے بہت جیلیں دیکھیں لیکن کبھی ملک کے خلاف سازش نہیں کی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews آئینی ترمیم چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل نوٹیفکیشن وی نیوز.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل نوٹیفکیشن وی نیوز چیف ا ف ڈیفنس فورسز تعیناتی کا فیلڈ مارشل ہو جائےگا نے کہاکہ انہوں نے
پڑھیں:
پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف فیشن ڈیزائن میں قائممقام وائس چانسلر کی تعیناتی کیلیے سینیٹ کا اجلاس طلب
پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف فیشن ڈیزائن میں قائمقام وائس چانسلر کی تعیناتی کیلیے سینیٹ کا اہم اجلاس31 جولائی کو طلب کر لیا گیا جس میں صدر پاکستان و چانسلر کی ہدایات پر قائمقام وی سی کی تعیناتی سے متعلق ایجنڈے پر دوبارہ غور کیا جائے گا۔
تفصیلات کے مطابق صدر پاکستان نے 24اپریل کو ریفرنس وزارت تعلیم کو بھجوایا ہے جس میں بطور چانسلر پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف فیشن ڈیزائن ایکٹ کی شق8(6)کے تحت سینٹ کے 17ویں اجلاس کے ایجنڈا نمبر13پر دوبارہ غور کرنے کی ہدایات جاری کی ہیں۔
دستیاب دستاویز کے مطابق 5 جنوری2026 کو ہونے والے سینیٹ کے17ویں اجلاس میں سابق وائس چانسلر پروفیسر حناطیبہ خلیل کو بطور وائس چانسلر کام جاری رکھنے کی منظوری دی گئی حالانکہ پروفیسر حنا طیبہ خلیل دو ٹرم مکمل کر چکی تھیں۔
سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے تعلیم نے بھی پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف فیشن ڈیزائن کے سینٹ اجلاس (جس میں حناطیبہ خلیل کو قائمقام وائس چانسلر ذمہ داریاں جاری رکھنے کی منظوری دی) کو کالعدم قرار دینے کی سفارش کر رکھی۔
قائمہ کمیٹی کی چیئرپرسن بشری انجم بٹ نے اجلاس کے دوان کہا تھا کہ عبوری وائس چانسلر کی تعیناتی سے متعلق ایوان صدر نے واضح کیا تھا کہ ایجنڈے کی منظوری نہیں لی گئی تھی۔
ذرائع نے بتایا کہ بشری انجم بٹ نے پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف فیشن ڈیزائن کی وائس چانسلر کی تعیناتی سے متعلق ریفرنس ایوان صدر کو بھجوایا جس میں کہا گیا کہ انسٹی ٹیوٹ کے فیکلٹی ممبران ،افسران اور سٹیک ہولڈرز کی جانب سے الزامات لگائے کہ پروفیسر حناطیبہ خلیل وائس چانسلر بد انتظامی اور اختیارات کے غلط استعمال کی پریکٹس میں ملوث ہیں۔
انسٹی ٹیوٹ کی پروکیورمنٹ اور مالی معاملات میں بے ضابطگیوں سمیت انسٹی ٹیوٹ میں گورننس کے بدترین صورتحال ہے، اس کے علاوہ گرلز ہاسٹل کی تعمیر سے متعلق 450 ملین کے ٹینڈرز میں مبینہ بے ضابطگیاں بھی ہوئی ہیں۔
ایوان صدر نے سینیٹر بشری انجم بٹ کی جانب سے بھجوائے گئے ریفرنس پر اپنی سفارشات وزارت تعلیم کو بھجوا دی ہیں،
وزارت تعلیم کے ذرائع نے سینیٹ اجلاس کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایوان صدر کی ہدایات کی روشنی میں سینئر فیکلٹی ممبر کو ہی قائمقام وائس چانسلر پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف فیشن ڈیزائن تعینات کیا جائے گا اور اس حوالے سے سنیارٹی لسٹ منگوا لی گئی ہے،