معین خان کے انتقال کی جعلی خبر، MQM رہنما نے مغفرت کی دعا کی درخواست کر ڈالی
اشاعت کی تاریخ: 5th, December 2025 GMT
فائل فوٹو
سوشل میڈیا پر سابق کرکٹر معین خان کے انتقال کی جعلی خبروں پر سندھ اسمبلی کے اجلاس میں ایم کیو ایم پاکستان کے رہنما صابر قائمخانی نے مغفرت کی دعا کی درخواست کر ڈالی۔
ایوان میں موجود ارکان نے فوری طور پر انہیں روکتے ہوئے بتایا کہ کرکٹر معین خان کے انتقال کی خبر غلط ہے۔
کراچی منگل کی دو پہر اچانک سابق کپتان معین خان کے.
واضح رہے کہ گزشتہ دنوں سابق کپتان 54 سالہ معین خان کے انتقال کی جھوٹی خبر سوشل میڈیا پر گردش کی جس پر معین خان نے اپنے بیان میں کہا تھا کہ وہ بالکل خیریت سے ہیں۔
حقیقت میں حیدر آباد سے تعلق رکھنے والے 65 سال کے سینئر کرکٹر معین خان راجپوت کا انتقال ہوا تھا لیکن سوشل میڈیا پر معین راجپوت کے بجائے ٹیسٹ کرکٹر معین خان کی تصویر شیئر کئی گئی۔
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: معین خان کے انتقال کی کرکٹر معین خان
پڑھیں:
سینیٹ قائمہ کمیٹی کا بڑا فیصلہ، پرنٹ میڈیا کے معاملات صرف پریس کونسل میں سنے جائیں گے
اسلام آباد: سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں پرنٹ میڈیا سے متعلق شکایات اور اخبارات میں شائع ہونے والی خبروں اور کالمز پر کارروائی کے اختیار کا معاملہ زیر بحث آیا، جہاں سینئر صحافی طارق محمود سمیر نے اپنا مؤقف پیش کرتے ہوئے اہم قانونی نکات اٹھائے۔
اجلاس کے دوران طارق محمود سمیر نے کہا کہ لاہور سے شائع ہونے والے روزنامہ نئی بات میں بیوروکریسی سے متعلق شائع ہونے والے ایک کالم کی بنیاد پر کالم نگار توفیق بٹ اور اخبار کے ایڈیٹر کو نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی) کی جانب سے جاری کیا گیا نوٹس واپس لیا جانا چاہیے۔انہوں نے قائمہ کمیٹی کو تجویز دی کہ اس معاملے کو متعلقہ فورم یعنی پریس کونسل آف پاکستان کو بھجوایا جائے، کیونکہ قانون کے مطابق پرنٹ میڈیا سے متعلق شکایات اور تنازعات کا جائزہ لینے کا اختیار صرف پریس کونسل کے پاس ہے۔سینیٹ کی قائمہ کمیٹی نے سینئر صحافی طارق محمود سمیر کی اس تجویز سے متفقہ طور پر اتفاق کرتے ہوئے ہدایت جاری کی کہ مذکورہ معاملہ پریس کونسل آف پاکستان کو بھجوایا جائے تاکہ قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جا سکے۔
کمیٹی نے اس موقع پر واضح کیا کہ پرنٹ میڈیا سے متعلق کسی بھی قسم کے معاملات یا شکایات نہ تو پیمرا کے دائرہ اختیار میں آتی ہیں اور نہ ہی این سی سی آئی ایسے معاملات میں براہ راست نوٹس لینے کا مجاز ہے۔ کمیٹی کے مطابق اخبارات میں شائع ہونے والی خبروں، مضامین اور کالمز سے متعلق شکایات صرف پریس کونسل آف پاکستان کے سامنے ہی پیش کی جا سکتی ہیں۔اجلاس میں یہ بھی یاد دلایا گیا کہ پرنٹ میڈیا سے متعلق قانون سازی کے دوران وفاقی حکومت نے قومی اسمبلی میں واضح یقین دہانی کرائی تھی کہ اخبارات اور پرنٹ میڈیا کے معاملات کا واحد مجاز ادارہ پریس کونسل آف پاکستان ہوگا، اور اسی فورم پر شکایات درج کرائی جا سکیں گی۔
قائمہ کمیٹی نے اس مؤقف کو دہراتے ہوئے متعلقہ اداروں پر زور دیا کہ آئندہ بھی پرنٹ میڈیا سے متعلق تمام معاملات قانون کے مطابق صرف پریس کونسل آف پاکستان کے ذریعے ہی نمٹائے جائیں تاکہ آئینی اور قانونی دائرہ اختیار برقرار رہے۔