میں بالکل صحت مند اور خیریت سے ہوں: معین خان نے اپنی موت کی خبروں کی تردید کردی
اشاعت کی تاریخ: 2nd, December 2025 GMT
سابق پاکستانی کرکٹر معین خان نے اپنے انتقال سے متعلق سوشل میڈیا پر پھیلنے والی تمام خبروں کی سختی سے تردید کر دی۔
گزشتہ روز سوشل میڈیا پر جھوٹی خبریں گردش کر رہی تھیں کہ 54 سالہ معین خان دل کا دورہ پڑنے کے باعث انتقال کر گئے ہیں، اس بے بنیاد خبر نے سوشل میڈیا پر بے چینی پھیلا دی۔
حقیقت میں سندھ کے شہر حیدر آباد سے تعلق رکھنے والے 65 سال کے سینئر کرکٹر معین خان راجپوت کا انتقال ہوا تھا لیکن سوشل میڈیا پر معین راجپوت کے بجائے قومی ٹیم کے سابق کپتان معین خان کی تصویر شیئر کر گئی۔
افواہوں کے بعد سابق وکٹ کیپر بیٹسمین نے سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو پیغام جاری کیا جس میں انہوں نے بتایا کہ میں بالکل خیریت سے اور بہت صحت مند ہوں۔
انہوں نے جھوٹی خبریں پھیلانے والوں کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ صبح سے ایک خبر گردش کر رہی ہے جن صاحب نے بھی یہ حرکت کی ہے انہوں نے نہایت ہی غیر ذمے داری کا ثبوت دیا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ سوشل میڈیا پر چلنے والی خبر کی وجہ سے دوست پریشان ہوگئے تھے، سوشل میڈیا نے بغیر کسی تصدیق کے میرے متعلق خبر لگائی ہے، سوشل میڈیا کے دوست خبر لگانے سے پہلے اس کی تصدیق کر لیا کریں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: سوشل میڈیا پر
پڑھیں:
سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کر دی
بھارت کے معروف سماجی کارکن سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ طویل مذاکرات اور ملک میں ممکنہ تشدد کے خدشات کے پیش نظر یہ فیصلہ کیا گیا۔
عرب میڈیا کے مطابق سونم وانگچک نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں بتایا کہ مختلف شرائط پر ہونے والے طویل مذاکرات کے بعد اور ملک میں کشیدگی کے امکانات کو دیکھتے ہوئے انہوں نے اپنا احتجاج ختم کر دیا ہے۔
Just now in the presence of Union Ministers Sh. JP Nadda, Dr. Jitendra Singh and the senior leaders of Apex Body of Leh Ladakh I finally broke my fast after 26 days. Earlier 65 members of parliament from different political parties had visited or signed letters urging me to break… pic.twitter.com/RFCet7Oksy
— Sonam Wangchuk (@Wangchuk66) July 23, 202659 سالہ سونم وانگچک نے 28 جون کو بھوک ہڑتال کا آغاز کیا تھا۔ ان کی یہ ہڑتال بھارت میں نوجوانوں کی قیادت میں چلنے والی کاکروچ موومنٹ سے اظہارِ یکجہتی کے لیے تھی۔
اس تحریک کے شرکاء میڈیکل کالجوں کے داخلہ امتحانات کے پرچوں کے مبینہ لیک ہونے کے معاملے پر بھارتی وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان سے استعفے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔
مظاہرین کا مؤقف ہے کہ امتحانی نظام میں شفافیت کو یقینی بنانے اور ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کے لیے وزیرِ تعلیم کو اپنے عہدے سے الگ ہونا چاہیے۔
سونم وانگچک کے بھوک ہڑتال ختم کرنے کے اعلان کے باوجود بھارت میں امتحانی نظام اور حکومتی پالیسیوں کے خلاف احتجاجی تحریک بدستور جاری ہے۔