سابق کرکٹر معین خان کی موت کی افواہیں بے بنیاد، ویڈیو پیغام میں تردید کردی
اشاعت کی تاریخ: 2nd, December 2025 GMT
پاکستان کے سابق وکٹ کیپر بیٹسمین اور کرکٹ کوچ معین خان نے اپنی موت سے متعلق پھیلنے والی تمام افواہوں کی سختی سے تردید کر دی ہے۔
معین خان نے سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو پیغام جاری کیا جس میں انہوں نے تصدیق کی کہ وہ بالکل خیریت سے ہیں اور ‘بہت صحت مند’ ہیں۔
سوشل میڈیا پر 54 سالہ سابق کرکٹر کے انتقال کی جھوٹی خبر چل رہی تھی، جس میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ معین خان دل کا دورہ پڑنے سے انتقال کر گئے ہیں۔ یہ جھوٹی خبر انٹرنیٹ پر تیزی سے پھیل گئی جس کے بعد معین خان نے ویڈیو جاری کر کے افواہ کو مکمل طور پر رد کر دیا۔
یہ بھی پڑھیے: وسیم اکرم نے اعظم خان کا ہاتھ توڑ دیا، معین خان نے کال کرکے فاسٹ بولر کو کیا کہا؟
اپنے انسٹاگرام اسٹوری میں معین خان نے کہا کہ ‘آج صبح سے سوشل میڈیا پر ایک خبر گردش کر رہی ہے جو انتہائی غیر ذمہ داری کی مثال ہے۔ جن لوگوں نے میری صحت یا میری موت کے حوالے سے پوسٹس کیں، میں اپنے تمام فینز اور فالوورز کو یقین دلانا چاہتا ہوں کہ الحمدللہ میں بالکل صحت مند ہوں اور زندگی کا لطف لے رہا ہوں۔’
معین خان کی یہ ویڈیو ایکس پر بھی بڑے پیمانے پر شیئر کی گئی جہاں صارفین نے جھوٹی خبریں پھیلانے والوں پر سخت ناراضی کا اظہار کیا۔
یہ بھی پڑھیے: ’تھرڈ امپائر نے فیصلہ واپس لے لیا‘، ہیتھ اسٹریک نے اپنی موت سے متعلق خبر کی تردید کردی
یاد رہے کہ معین خان 1990 سے 2004 تک پاکستان کرکٹ ٹیم کا حصہ رہے اور 1992 کا ورلڈ کپ جیتنے والی ٹیم کے ممبر بھی تھے۔
انہوں نے ٹیسٹ کرکٹ میں 100 سے زائد کیچز پکڑے، جبکہ ون ڈے انٹرنیشنلز میں 3 ہزار سے زائد رنز اور 200 سے زائد کیچز ریکارڈ کیے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
فیک نیوز کرکٹر معین خان موت.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
پڑھیں:
گوگل کا نیا سیکیورٹی فیچر، کیا اب پاس ورڈ کی ضرورت ہی نہیں رہے گی؟
گوگل نے صارفین کی آن لائن سیکیورٹی مزید مضبوط بنانے کے لیے سیلفی ویڈیو پر مبنی نئی بایومیٹرک شناختی سہولت متعارف کرا دی ہے جس کے ذریعے اہل صارفین پاس ورڈ یا ریکوری ڈیوائس دستیاب نہ ہونے کی صورت میں اپنے اکاؤنٹس تک دوبارہ رسائی حاصل کر سکیں گے۔
کمپنی کے مطابق نیا فیچر بنیادی طور پر اکاؤنٹ ریکوری کے لیے تیار کیا گیا ہے۔ صارفین ابتدائی مرحلے میں اسکرین پر دی گئی ہدایات کے مطابق ایک مختصر سیلفی ویڈیو ریکارڈ کریں گے جس میں مختلف زاویوں سے چہرہ دکھانا ہوگا تاکہ شناخت محفوظ کی جا سکے۔
یہ بھی پڑھیں: گوگل پلے کی نئی پالیسی، متبادل ایپ مارکیٹس کو راستہ مل گیا
اگر بعد میں صارف اپنا پاس ورڈ بھول جائے، فون گم ہو جائے یا ٹو فیکٹر آتھنٹیکیشن استعمال نہ کر سکے تو وہ نئی سیلفی ویڈیو ریکارڈ کر کے اپنی شناخت کی تصدیق کرا سکے گا۔
گوگل کا سیکیورٹی سسٹم نئی ویڈیو کا پہلے سے محفوظ ویڈیو سے موازنہ کرے گا اور جدید لائیونیس چیک اور اینٹی اسپوفنگ ٹیکنالوجی کی مدد سے اس بات کی تصدیق کرے گا کہ سامنے حقیقی شخص موجود ہے، نہ کہ تصویر، ریکارڈ شدہ ویڈیو یا مصنوعی ذہانت (AI) سے تیار کردہ ڈیپ فیک۔
یہ بھی پڑھیں: راستوں کی تلاش کے بعد گوگل میپس میں کھانا منگوانے کا فیچر متعارف کرائے جانے کی تیاریاں
گوگل کا کہنا ہے کہ یہ سہولت روزمرہ لاگ اِن کے لیے نہیں بلکہ صرف اکاؤنٹ ریکوری کے دوران استعمال کی جائے گی۔ کمپنی اس سے قبل پاس کیز (Passkeys)، سیکیورٹی کیز اور ٹو فیکٹر آتھنٹیکیشن جیسے متبادل طریقے بھی متعارف کرا چکی ہے تاکہ روایتی پاس ورڈز پر انحصار کم کیا جا سکے۔
پرائیویسی سے متعلق خدشات کے جواب میں گوگل نے کہا ہے کہ صارفین کی سیلفی ویڈیوز مکمل طور پر انکرپٹڈ انداز میں محفوظ کی جائیں گی، ان پر صارف کا مکمل اختیار ہوگا اور وہ کسی بھی وقت انہیں حذف کر سکیں گے۔ کمپنی کے مطابق یہ ویڈیوز صرف شناخت کی تصدیق کے لیے استعمال ہوں گی جب تک کہ صارف کسی اضافی استعمال کی اجازت نہ دے۔
یہ بھی پڑھیں: گوگل میپ کی ایک غلطی اور تاجر علی جمیل کے سفرِ آخرت کی کہانی
ماہرین کے مطابق گوگل کا یہ اقدام ٹیکنالوجی کی دنیا میں پاس ورڈ کے بغیر محفوظ لاگ اِن سسٹمز کی جانب بڑھتے ہوئے رجحان کا حصہ ہے۔ اس سے قبل ایپل، مائیکروسافٹ سمیت متعدد بینک، ایئرلائنز اور سرکاری ادارے بھی بایومیٹرک شناختی نظام اپنا چکے ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
گوگل گوگل پاسپورڈ