فیصل آباد: حکومت کی سخت پابندی نے ہیلمٹ فروشوں کی چاندی کردی
اشاعت کی تاریخ: 5th, December 2025 GMT
---فائل فوٹوز
فیصل آباد میں ہیلمٹ کی پابندی سخت ہونے کے بعد سے موٹر سائیکل سواروں کی مشکلات میں اضافہ جبکہ ہیلمٹ فروشوں کی چاندی ہو گئی ہے۔
ایک طرف دو ہزار کا چالان ہے تو دوسری جانب دکانداروں نے بھی موقع غنیمت جان کر ہیلمٹ کے منہ مانگے دام طلب کرنا شروع کر دیے ہیں۔
چند ہفتے قبل تک 5 سو سے 7 سو روپے میں ملنے والا ہیلمٹ دو ہزار سے ہوتا ہوا 4500 تک پہنچ گیا ہے جس کے نتیجے میں موٹر سائیکل سواروں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔
ہیلمٹ کی قیمتوں میں بے تحاشہ اضافے سے پریشان شہریوں نے مطالبہ کیا ہے کہ ضعلی انتظامیہ ہیلمٹ کی قیمتوں میں فوری طور پر کمی ممکن بنائے تاکہ وہ مناسب داموں ہیلمٹ خرید سکیں۔
دوسری جانب ضلعی انتطامیہ کا کہنا ہے کہ اچانک ہیلمٹ کی خریداری میں اضافے کی وجہ سے دکانداروں نے قیمتوں میں اضافہ کیا ہے، شہریوں کی شکایات پر بلیک میں ہیلمٹ فروخت کرنے والوں کے خلاف کارروائی شروع کردی گی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: ہیلمٹ کی
پڑھیں:
کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن
الیکشن کمیشن نے خیبر پختونخوا اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم قرار دے دیا۔
اسلام آباد سے الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی کی جانب سے کی جانے والی ترمیم آئین اور قانون سے متصادم ہے۔
الیکشن کمیشن آف پاکستان کے ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل چوہدری ندیم قاسم کی جانب سے چیف سیکریٹری خیبر پختونخوا کو تحریر کیے گئے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی نے بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل 6 جولائی کو منظور کیا۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق گورنر کے پی نے بلدیاتی حکومت کے نئے ترمیمی بل کی توثیق کر دی ہے، ترمیم کے مطابق ضلع میں ویلیج اور نیبر ہڈ کونسل کی آبادی 30 سے 40 ہزار کے درمیان ہوگی، ترمیم کے مطابق الیکشن کمیشن حکومت سے مشاورت سے کوئی تبدیلی کر سکے گا۔
خط کے مطابق الیکشن ایکٹ اور آئین کے مطابق بلدیاتی حکومتوں کے الیکشن کے لیے حلقہ بندی کرنا الیکشن کمیشن کا اختیار ہے، حلقہ بندی کے معاملے پر حکومت سے مشاورت بھی آئین کی روح کے خلاف ہے۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق الیکشن کمیشن کے لیے اس ترمیم کے تحت 30 سے 40 ہزار کی آبادی کے لیے حلقہ بندی کرنا قابل عمل نہیں۔
خط کے متن کے مطابق آئین کے تحت کوئی قانون الیکشن کمیشن کے اختیارات نہیں لے سکتا، اتنی تاخیر سے یہ ترمیم کرنا بظاہر بلدیاتی انتخابات میں تاخیر کا حربہ ہے۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا حکومت اس معاملے پر معاونت کرے تاکہ بلدیاتی انتخابات کا انعقاد کیا جا سکے۔