ویب ڈیسک: ملک میں موسم سرما کا آغاز ہو چکا ہے جو روایتی طور پر سولر مارکیٹ کا آف سیزن سمجھا جاتا ہے مگر اس کے باوجود ملک بھر میں سولر پینلز کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے۔

سوشل میڈیا پر افواہیں گردش کررہی ہے کہ سردیوں کی آمد کے ساتھ سولر پینلز کی قیمتوں میں نمایاں کمی ہوئی ہے،  مگر حقیقت اس کے برعکس ہے۔ 

ڈائریکٹر رینرجی شرجیل احمد سلہری کے مطابق موجودہ حالات میں سولر پینلز کی قیمتوں میں کسی قسم کی کمی نہیں ہوئی بلکہ تقریباً 10 فیصد اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔

لاہور میں گل داؤدی نمائش کا آغاز  

 دوسری جانب پاکستان سولر ایسوسی ایشن کے سینیئر وائس چیئرمین حسنات خان کا کہنا ہے کہ قیمتوں میں کوئی بڑا اضافہ نہیں ہوا۔

ان کے مطابق صرف 3 سے 4 روپے فی واٹ کا معمولی اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے جو مارکیٹ کے نارمل اتار چڑھاؤ کا حصہ ہے اور اس سے کسی بڑے بحران یا نمایاں مہنگائی کا تاثر نہیں لینا چاہیے۔

اگرچہ بین الاقوامی مارکیٹ میں کبھی کبھار شپنگ لاگت یا ڈالر ریٹ میں ہلکی سی تبدیلی دیکھنے میں آتی ہے مگر مجموعی طور پر پاکستان میں سولر پینلز کی قیمتیں اس وقت خاصی حد تک مستحکم ہیں۔

نئے ٹریفک قوانین، لائسنس بنوانے والوں کیلئے ایک اور اہم خبر

عالمی سپلائی چین میں ایسی کوئی بڑی رکاوٹ موجود نہیں جو اچانک قیمتوں میں نمایاں اضافے کا سبب بنے اسی وجہ سے مارکیٹ ایک متوازن سطح پر چل رہی ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: City 42

کلیدی لفظ: سولر پینلز کی قیمتوں میں

پڑھیں:

حکومت نے پیٹرول اور ڈیزل مزید مہنگا کر دیا، نئی قیمتوں کا نوٹیفکیشن جاری

حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ کرتے ہوئے پیٹرول کی قیمت میں 4 روپے 40 پیسے فی لیٹر اور ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں 3 روپے 62 پیسے فی لیٹر اضافہ کر دیا ہے۔ اس حوالے سے باضابطہ نوٹیفکیشن بھی جاری کر دیا گیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:پیٹرول مہنگا ہو تو موٹرسائیکل سوار متاثر نہیں ہوتے، مشیر خزانہ کے بیان پر شدید ردعمل

نوٹیفکیشن کے مطابق اضافے کے بعد پیٹرول کی نئی قیمت 331 روپے 52 پیسے فی لیٹر مقرر کر دی گئی ہے، جبکہ ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں بھی 3 روپے 62 پیسے فی لیٹر کا اضافہ کر دیا گیا ہے۔

نئی قیمتیں نافذ

جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق پیٹرولیم مصنوعات کی نئی قیمتوں کا اطلاق فوری طور پر کر دیا گیا ہے، جس کے بعد ملک بھر کے پیٹرول پمپوں پر صارفین کو نئی قیمتوں کے مطابق ادائیگی کرنا ہوگی۔

عوام پر مزید مالی دباؤ کا خدشہ

معاشی ماہرین کے مطابق پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافے سے ٹرانسپورٹ کے اخراجات بڑھنے کا امکان ہے، جس کے نتیجے میں اشیائے خورونوش اور دیگر ضروری اشیا کی قیمتوں پر بھی دباؤ آ سکتا ہے۔

مزید پڑھیں:ایران جنگ کے اثرات: پیٹرول مہنگا، یورپ میں الیکٹرک گاڑیوں کی فروخت میں 51 فیصد اضافہ

ڈیزل کی قیمت میں اضافہ خاص طور پر مال بردار ٹرانسپورٹ اور زرعی شعبے کے اخراجات پر اثر انداز ہو سکتا ہے۔

حکومت ہر 15 روز بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں، درآمدی لاگت، روپے کی قدر اور ٹیکسوں کی بنیاد پر پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کا جائزہ لیتی تھی لیکن اب روزانہ کی بنیاد پر یہ عمل جاری ہے۔

اسی جائزہ عمل کے تحت تازہ نوٹیفکیشن جاری کرتے ہوئے پیٹرول اور ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمتوں میں اضافہ کیا گیا ہے، جس کے بعد نئی قیمتیں ملک بھر میں نافذ العمل ہو گئی ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

پیٹرول پیٹرولیم مصنوعات درآمدی لاگت ڈیزل روپے کی قدر عالمی منڈی مہنگا

متعلقہ مضامین

  • پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ ، شہری پھٹ پڑے
  • پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافہ
  • پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مسلسل چوتھے روز اضافہ
  • پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں پھر سے اضافہ
  • حکومت نے پیٹرول اور ڈیزل مزید مہنگا کر دیا، نئی قیمتوں کا نوٹیفکیشن جاری
  • 24 جولائی کیلئے بھی ڈیزل اور پیٹرول کی قیمت میں اضافہ کردیا گیا
  • عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں 100 ڈالر سے تجاوز کر گئیں
  • پیٹرول اور ڈیزل کے بعد مٹی کے تیل کی قیمت میں بھی بڑا اضافہ
  • سونے کی قیمت میں نمایاں کمی
  • پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ایک بار پھر بڑا اضافہ، پیٹرول اور ڈیزل مہنگے