ٹوائلٹ میں تصاویر کھینچنے کے لیے بنائے گئے کیمرا کے ڈیٹا تک دوسروں کو رسائی کا انکشاف
اشاعت کی تاریخ: 5th, December 2025 GMT
مشہور ٹیکنالاجی کمپنی کولر نے اس سال کے شروع میں ایک عجیب پروڈکٹ لانچ کیا جس کا نام ڈیکوڈا ہے۔ یہ ایک اسمارٹ کیمرہ تھا جو ٹوائلٹ کی دیوار پر لگایا جاتا ہے۔
ٹیکنالوجی ویب سائٹ کی رپورٹ کے مطابق کمپنی کے مطابق مذکورہ کیمرہ ٹوائلٹ میں موجود مواد کی تصاویر لیتا ہے اور پھر ان کا تجزیہ کر کے استعمال کنندہ کو آنتوں کی صحت کے بارے میں مشورے دیتا ہے۔
کمپنی نے اپنی ویب سائٹ پر جاری بیان میں بتایا تھا کہ مذکورہ کیمرا سینسر صرف ٹوائلٹ کے اندر دیکھتا ہے اور تمام ڈیٹا اینڈ ٹو اینڈ انکرپٹڈ ہوتا ہے تاکہ لوگوں کی پرائیویسی کے خدشات دور کیے جائیں۔
لیکن سیکیورٹی ریسرچر سائمن فونڈری ٹیٹلر نے اپنی بلاگ پوسٹ میں دعویٰ کیا کہ کولر کا یہ دعویٰ غلط ہے۔
انہوں نے کمپنی کی پرائیویسی پالیسی کا جائزہ لیا تو پتہ چلا کہ کولر دراصل ٹی ایل ایس انکرپشن کی بات کر رہا ہے جو انٹرنیٹ پر ڈیٹا کی منتقلی کے دوران تحفظ فراہم کرتی ہے، جیسے کہ ایچ ٹی ٹی پی ایس ویب سائٹس پر ہوتا ہے۔
سائمن نے واضح کیا کہ ’اینڈ ٹو اینڈ انکرپشن‘ کا مطلب عام طور پر ایسی انکرپشن ہوتا ہے جو صرف بھیجنے والے اور وصول کنندہ کو ہی ڈیٹا تک رسائی دیتا ہے، جیسے آئی میسیج، سگنل یا واٹس ایپ میں سہولت موجود ہے۔
انہوں نے لکھا کہ اس اصطلاح کا غلط استعمال لوگوں کو گمراہ کر سکتا ہے، خاص طور پر جب بات ٹوائلٹ کیمرہ جیسی حساس چیز کی ہو اور وہ سوچیں کہ کمپنی ان کی تصاویر تک رسائی نہیں رکھ سکتی۔
کولر کی پرائیویسی پالیسی میں لکھا ہے کہ استعمال کنندہ کے موبائل فون، ٹوائلٹ اٹیچمنٹ اور کمپنی کے سسٹمز پر ڈیٹا کو ریسٹ پر انکرپٹ کیا جاتا ہے۔
مزید برآں ڈیوائسز اور سرورز کے درمیان منتقلی کے دوران ڈیٹا کو اینڈ ٹو اینڈ انکرپٹڈ کہا گیا ہے لیکن یہ سرورز پر ڈی کریپٹ ہو جاتا ہے اور سروس فراہم کرنے کے لیے پروسیس کیا جاتا ہے۔
کمپنی کے پرائیویسی کانٹیکٹ نے سائمن کو بتایا کہ ڈیٹا انہی طریقوں سے محفوظ ہے لیکن ریسرچر کا کہنا ہے کہ چونکہ کولر اپنے سرورز پر ڈیٹا تک رسائی رکھ سکتا ہے، اس لیے یہ ممکن ہے کہ ٹوائلٹ کی تصاویر کو اے آئی ماڈلز ٹرین کرنے کے لیے استعمال کیا جائے۔
کولر نے جواب دیا کہ ان کے الگورتھم صرف غیر شناخت شدہ (ڈی آئیڈنٹیفائیڈ) ڈیٹا پر ٹرین کیے جاتے ہیں۔
یہ پروڈکٹ 599 ڈالر میں دستیاب ہے اور کم از کم 6.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
وفاقی کابینہ کا جعلی دواؤں کے خاتمے کیلئے ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم کے نفاذ کی منظوری
اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) ملک بھر میں جعلی دواؤں کا خاتمہ یقینی بنانےکے لیے وفاقی کابینہ نے دواؤں کے ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم کے نفاذ کی باضابطہ منظوری دیدی۔
نجی ٹی وی چینل جیو نیوز کے مطابق وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال نے اس حوالے سے کہا کہ ڈرگ لیبلنگ اینڈ پیکنگ رولز 1978 میں ضروری ترامیم کی منظوری دے دی گئی ہے، یہ فیصلہ پاکستان میں جعلی دواؤں کے خاتمے کی جانب ایک بڑا اور تاریخی قدم ہے۔
انہوں نے کہا کہ پہلی بار ہر دوا کو ڈیجیٹل طریقے سے ٹریک اور ویریفائی کیا جا سکے گا، اس نظام کے تحت جعلی، غیرمعیاری اور نقلی دواؤں کی نشاندہی اور ان کا خاتمہ ممکن ہوگا، نظام کے نفاذ سے عام صارف بآسانی دوا کی میعاد اور قیمت کی مستند معلومات لے سکےگا۔
ایف آئی اے نے جعلی دستاویزات پر بیرون ملک جانے والی 2 خواتین کو آف لوڈ کر دیا ، 2 ایجنٹ گرفتار
وفاقی وزیر نے کہا کہ ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان اس جدید نظام کو ملک بھر میں نافذ کرے گی، نئے قواعد کے تحت تمام دوا ساز کمپنیوں اور درآمد کنندگان کے لیے لازم ہوگا کہ وہ ہر دوا کے پیک پر معیاری ٹو ڈی بارکوڈ اور سیریلائزیشن ڈیٹا درج کریں، یہ اہم فیصلہ دواوں کی سپلائی چین کو محفوظ اور معیاری بنانے کیلئے کیا ہے۔
مصطفیٰ کمال کا کہنا تھا پاکستان میں دواؤں کے نظام کو جدید خطوط پر استوار کیا جا رہا ہے، ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم کے نفاذ سے جعلی دواؤں کے خلاف مضبوط اور مؤثر دیوار قائم ہوگی، پاکستان خطے میں جدید ٹیکنالوجی اپنانے والا نمایاں ملک بن کر سامنے آئے گا، اس نظام کے ذریعے نگرانی کے روایتی طریقوں کی جگہ جدید ڈیجیٹل نظام لے گا۔
پنجاب میں آندھی اور طوفان سے تباہی ، ایک شہری جاں بحق، 46 گھر متاثر
مزید :