Juraat:
2026-07-24@02:31:46 GMT

مہنگائی کی آگ اور غریب کا بجھتا ہوا چولہا

اشاعت کی تاریخ: 5th, December 2025 GMT

مہنگائی کی آگ اور غریب کا بجھتا ہوا چولہا

پروفیسر شاداب احمد صدیقی

مہنگائی اس حد تک بڑھ چکی ہے کہ غریب آدمی کے لیے گھریلو چولہا جلانا بھی ایک مشکل ترین امتحان بن گیا ہے ۔ بجلی اور گیس کی مسلسل
لوڈشیڈنگ نے لوگوں کی زندگی اجیرن کر دی ہے ، اور جب یہ دونوں دستیاب نہیں ہوتیں تو عوام ایل پی جی پر گزارا کرتے ہیں۔ مگر حالیہ
اضافہ نے محروم طبقے کی پریشانیوں میں مزید اضافہ کر دیا ہے ۔ روزگار نہ ہونے ، آمدن کم ہونے اور ضروریاتِ زندگی کی قیمتیں مسلسل
بڑھنے سے غریب گھرانے شدید متاثر ہو رہے ہیں، اور ہر روز زندگی کا بوجھ پہلے سے زیادہ بھاری ہو رہا ہے ۔مہنگائی صرف بڑھتی قیمتوں کا
نام نہیں، یہ انسان کے خوابوں، اس کے عزم، اور اس کی سانس تک پر قبضہ کر لینے والی ایک تشدد زدہ حقیقت ہے جو ہر روز گھر کی دہلیز پر نیا
زخم پہنچاتی ہے ۔
آج پاکستان میں غریب خاندان اسی دَور سے گزر رہے ہیں۔ بجلی کی مسلسل لوڈشیڈنگ، گیس کی بندش، اور مائع پٹرولیم گیس (ایل پی
جی) کی قیمت میں ناقابل برداشت اضافہ، ایک سیاہ منظرنامہ تشکیل دے چکا ہے ۔ ان حالات میں، غریب کی چیخ زندہ ہے ، اور اس چیخ کو
خاموشی میں دبانا ظلم ہے ۔حالیہ نوٹیفکیشن کے مطابق، آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (OGRA) نے دسمبر 2025 کے لیے ایل پی
جی کی قیمت میں 7۔39 روپیہ فی کلوگرام اضافہ کیا ہے ۔ اسی اضافے کے بعد 11۔8 کلوگرام کے گھریلو سلنڈر کی قیمت نومبر کی 2,378۔89 روپیہ سے بڑھ کر 2,466۔10 روپیہ ہو گئی ہے ، اور فی کلو گرام قیمت نومبر کی 201۔60 روپیہ سے بڑھ کر دسمبر کے
لیے 208۔99 روپیہ ہو گئی ہے ۔ یہ صرف اعدادوشمار نہیں، بلکہ ہر غریب گھرانے کی زندگی پر کاری ضرب ہے ۔ یہ قیمتوں کا بڑھنا ایک
علیحدہ مسئلہ نہیں یہ نظامِ زندگی کی تباہی کی نوید ہے ۔ توانائی کی قیمتوں میں اضافہ اور لوڈشیڈنگ نے غریب خاندانوں کو چولہے ، ہیٹر، اور
بنیادی سہولیات سے محروم کردیا ہے ۔ پہلے بجلی کی گھنٹوں بندش، پھر گیس کی غیر اعلانیہ بندش اور اب ایل پی جی کی بھاری قیمت نے ان
لوگوں کا گھر تباہ کر دیا ہے جن کی جیبیں پہلے ہی خالی تھیں۔ وہ لوگ جو کبھی صبح کی روٹی کے لیے پریشان نہ تھے ، آج ایک سلنڈر گیس کو خدا کی
رحمت جان کر سمیٹ رہے ہیں۔صبح کے اوقات میں گیس کی غیر اعلانیہ بندش اور مہنگی ایل پی جی کی وجہ سے معصوم بچے اور روزگار کی تلاش
میں جانے والے افراد بغیر ناشتے بھوکے ہی چلے جاتے ہیں۔ غریبوں کے مسائل میں دن بدن اضافہ ہو رہا ہے ۔اِن سب مسائل کا سب
سے زیادہ برا اثر اُن پر ہوا ہے جن کی ماہانہ آمدن چھوٹے کاروبار یا یومیہ مزدوری سے ہوتی ہے ۔ پاکستان کی بڑھتی ہوئی بے روزگاری
خصوصاً دیہی یا نچلے متوسط طبقے میں غریب خاندانوں کو معاشی بحران کے دہانے پر لا کھڑا کرتی ہے ۔ ایسے گھرانے جن کے پاس بجلی اور گیس
کی سہولت تھی، آج اُس کا سہارا بھی چھن گیا۔ مزدور دن بھر محنت تو کرتا ہے مگر واپس آ کر اسے معلوم ہوتا ہے کہ روٹی، کپڑا اور مکان کی
بنیادی ضرورتیں اب خواب بن چکی ہیں۔
مہنگائی کا اثر صرف ایندھن یا توانائی پر نہیں رہا۔ بقیہ اشیائِ زندگی خوراک، ادویات، تعلیم، نقل و حمل سب نے اپنی قیمتیں بڑھا لی ہیں۔
ایک عام غریب خاندان کے لیے گوشت یا مرغی پہلے ہی ایک اعزاز تھا؛ آج وہ سبزی، دال، چینی کی قیمتوں میں اضافہ برداشت نہ کر سکے تو
گوشت تو دور کی بات ہے ۔ دودھ، انڈے ، چاول، آٹا، تیل ہر چیز مہنگی ہو گئی ہے ۔ انسانی زندگی کا سب سے بنیادی حق خوراک اب ایک
عیاشی بن چکی ہے ۔ بچے بھوکے پیٹ سو رہے ہیں، مائیں روزِ اولاد کے خواب دیکھ کر روتی ہیں، اور باپ لب کشائی سے پہلے ہی ٹوٹ چکے
ہیں۔مزید تشویشناک بات یہ ہے کہ معیارِ زندگی کے اس زوال نے خاندانوں کے روحانی و سماجی ڈھانچے کو بھی ہلا کر رکھ دیا ہے ۔ پہلے
جہاں پڑھے لکھے والدین بچوں کو اسکول بھیجتے تھے ، اب وہ بچوں کو اسکول سے نکال کر مزدوری کے چکر میں لگا دیتے ہیں۔ اس سے بچوں کی
تعلیم ناتمام رہ جاتی ہے ، اور خاندان نسل در نسل غربت کی زنجیروں میں پھنس جاتا ہے ۔ صحت مند غذا نہ ملنے کی وجہ سے بچوں میں کمزوری،
بیماری، اور انکھ مچکنے جیسے مسائل بڑھ رہے ہیں۔ ماں باپ اس حقیقت سے ڈرتے ہیں کہ آیا کل ان کا گھر انتہائی محتاج اور فاقہ زدہ نہ ہو جائے !
حکومت اور متعلقہ اداروں کی ناقص پالیسیوں نے اس بحران کو مزید گہرا کر دیا ہے ۔ لوڈشیڈنگ کے خلاف عوامی شکایتیں، مطالبات، اور
احتجاجات معمول بن چکے ہیں مگر تبدیلی صرف لفاظی تک محدود رہی۔ توانائی کے نرخ بڑھائے جاتے ہیں مگر غربت زدہ طبقے کے لیے کوئی
ایسا حفاظتی نیٹ ورک موجود نہیں جو حقیقی معنوں میں ان کی معاونت کرے ۔ کوئی ایسا منصوبہ نہیں جس سے غریب خاندان بجلی اور گیس کے
بحران میں کفایت شعاری اختیار کر سکیں یا متبادل وسائل اختیار کر سکیں۔
بے روزگاری اور مہنگائی نے معاشرتی انتشار کو بھی بھڑکایا ہے ۔ لوگ احساس کمتری، شرمندگی، اور بے بسی کی کیفیت کا شکار ہیں۔ معاشرتی اقدار ٹوٹ رہی ہیں اور انسانیت کی عصمت تار تار ہو رہی ہے ۔ وہ انسان جو کبھی اپنے گھر کا سایہ تھا، آج خود محافظ کا طلب گار
ہے۔ ایک اور پہلو قابل غور ہے : مہنگائی نے عوامی شعور کو زنگ لگا دیا ہے ۔ روٹی کے حصول کی دوڑ میں لوگ اپنے بنیادی حقوق بھول جاتے
ہیں۔ احتجاج، تنظیم سازی، اور آواز اٹھانے کی جرات رنگ فراموشی کھا چکی ہے ۔ لوگ اب صرف یہ سوچ رہے ہیں کہ کل کیسے گزارا ہوگا؟
بچوں کو کیسے پالیں گے ؟ گھریلو اخراجات کو کیسے پورا کریں گے ؟ بلاواسطہ حقوق کی بات چھوڑ کر، ہر شخص اپنی بقا کی تلاش میں خود غرضی کی راہ
پر چل پڑا ہے ۔لیکن یہ سیاہ تصویر مکمل مایوسی کی نہیں۔ ہمارا ملک وسائل کی دولت سے خالی نہیں لیکن پالیسی سازی، شفافیت، اور عوامی مفاد کی
سوچ کی فقدان نے اس دولت کو خاک میں دفنا دیا ہے ۔ اگر حکومت واقعی عوام کی فلاح چاہتی ہے تو اسے فوری اقدامات کرنے ہوں گے
تاکہ غربت کی دلدل سے نکلنے کا راستہ کھلے ۔سب سے پہلے ، توانائی کے بڑھتے ہوئے نرخوں کا بوجھ غریب اور کمزور طبقات پر منتقل نہ کیا
جائے ۔ ضروری ہے کہ گیس اور بجلی کے بلوں پر سبسڈی دی جائے یا کم از کم ان کی قیمتوں کو معاشی استطاعت کے مطابق رکھا جائے ۔ ایل
پی جی جیسی بنیادی ضرورتوں کی قیمتوں میں اضافہ کرنے سے پہلے معاشی سروے کیا جائے تاکہ معلوم ہو سکے کہ ایک اوسط غریب گھرانہ کس
حد تک اسے برداشت کر سکتا ہے ۔ایک دیرپا حل یہ ہے کہ بجلی اور گیس کے متبادل صاف اور سستی ذرائع پر سرمایہ کاری کی جائے جیسے شمسی
توانائی، پاکیزہ گیس انفرااسٹرکچر، اور مقامی سطح پر ریفائنری وغیرہ۔ اس سے نہ صرف توانائی کا بحران حل ہوگا بلکہ بے روزگاری بھی کم ہوگی
اور مقامی صنعتیں ترقی کریں گی۔مزید یہ کہ حکومت کو عوامی تحفظ کے لیے ایک مضبوط سماجی نیٹ ورک تشکیل دینا چاہیے ایک ایسا نظام جو بے
روزگار، یومیہ مزدور، اور کم آمدن والے خاندانوں کو مالی امداد، مفت طبی سہولت، اور بچوں کی تعلیم کی غرض سے وظائف فراہم کرے ۔ اس
طرح کا سماجی تحفظ غربت کے گڑھے سے نکالنے کی پہلی سیڑھی ثابت ہو سکتا ہے ۔عوامی شعور کو بھی جگانا پڑے گا غربت اور مہنگائی کی لپیٹ
میں گھرے انسانوں کو چاہیے کہ اشتراکیت، ہمدردی اور اجتماعی تعاون کا راستہ اختیار کریں۔ یونینیں بنائیں، مقامی سطح پر رفاعی ادارے قائم کریں، اور ایک دوسرے کی مدد کریں۔ اس طرح نہ صرف ذاتی بوجھ ہلکا ہوگا بلکہ اجتماعی طاقت پیدا ہوگی، جو نظامی تبدیلی کے لیے ضروری ہے ۔
اگر یہ اقدامات بروقت اور ایمانداری سے نافذ کئے جائیں، ایسے اقدامات کیے جائیں کہ جب غریب بھی عزت کے ساتھ کھانا پکائیں، بچے تعلیم حاصل کریں، اور مائیں گھروں کو روشنی سے سجائیں۔ مگر اگر ہم چپ رہے ، لاپرواہی کی نیند سو گئے ، اور نیک نیتی کو خیرات سمجھ کر رد کر دیا، تو آج کی یہ چیخ کل کی نسلوں کے لیے صدا بن جائے گی۔آئیے ، اپنے ٹوٹے ہوئے معاشرے کی دوبارہ تعمیر کی طرف قدم بڑھائیں۔ اس ظلم کی اندھیری رات کو روشنی میں بدلنے کے لیے ہمیں صرف انصاف، شفاف پالیسی، اور عوامی شعور کی ضرورت ہے ورنہ یہ مہنگائی کا طوفان ہمیشہ ہمارے گھروں کو گرا دے گا، اور خاک نشین انسان اپنی عزت و وقار کے ساتھ مرجھا جائیں گے ۔آج کا انسان قدیم غاروں کی دنیا میں لوٹ رہا ہے ۔تاریخ پھر اپنے آپ کو دہرا رہی ہے ۔خدارا حکومت گیس کی فراہمی کو یقینی بنائے کیونکہ گیس ہماری اپنی ملکی معدنیات ہے ۔ہمیں بچپن میں معاشرتی علوم اور مطالعہ پاکستان میں پڑھایا جاتا تھا۔وطن کی مٹی گواہ رہنا۔
٭٭٭٭

.

ذریعہ

ذریعہ: Juraat

کلیدی لفظ: بجلی اور گیس کی قیمتوں ایل پی جی رہے ہیں کی قیمت کے لیے دیا ہے کر دیا گیس کی

پڑھیں:

لاہور ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ: ہا ئوسنگ سوسائٹیوں کے پارک، اسکول اور مسجد کی زمین فروخت نہیں کی جا سکتی

لاہور ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ: ہا ئوسنگ سوسائٹیوں کے پارک، اسکول اور مسجد کی زمین فروخت نہیں کی جا سکتی WhatsAppFacebookX 0 23 July, 2026 سب نیوز

لاہور(آئی پی ایس )لاہور ہائی کورٹ نے ایک اہم فیصلے میں واضح کیا ہے کہ ہاسنگ سوسائٹیوں میں اسکول، پارک، مسجد، ہسپتال اور دیگر عوامی سہولیات (Amenity Sites) کے لیے مختص زمین عوام کی امانت ہے۔ اگرچہ ایسی زمین کا قانونی ٹائٹل بعض حالات میں لاہور ڈویلپمنٹ اتھارٹی (LDA) کے پاس منتقل ہو سکتا ہے، لیکن LDA اسے اپنی ملکیت سمجھ کر کمرشل مقاصد کے لیے فروخت یا نیلام نہیں کر سکتی۔

مقدمہ AGRICS Cooperative Housing Society اور LDA کے درمیان تھا۔ سوسائٹی نے مقف اختیار کیا کہ وہ Cooperative Societies Act, 1925 کے تحت قائم ہوئی ہے، اس لیے LDA کے بعض قوانین اس پر لاگو نہیں ہوتے، جبکہ LDA کا مقف تھا کہ عوامی سہولیات کے لیے مختص زمین اس کے نام منتقل کیے بغیر اسکول کا بلڈنگ پلان منظور نہیں کیا جا سکتا۔

لاہور ہائی کورٹ نے قرار دیا کہ Cooperative Societies Act سوسائٹی کے اندرونی معاملات سے متعلق ہے، جبکہ LDA Act لاہور میں شہری منصوبہ بندی (Urban Planning) اور ہاسنگ اسکیموں کو منظم کرنے والا خصوصی قانون ہے، اس لیے پلاننگ اور ترقیاتی معاملات میں LDA کے قوانین پر عمل کرنا تمام ہاسنگ سوسائٹیوں کے لیے لازم ہے۔

عدالت نے یہ بھی قرار دیا کہ 1990 کی Mortgage Deed اور سوسائٹی کے اپنے سابقہ ریکارڈ سے ثابت ہوتا ہے کہ متعلقہ عوامی سہولیات کی زمین LDA کے نام منتقل ہو چکی تھی، لہذا سوسائٹی کئی دہائیوں بعد اس مقف سے انکار نہیں کر سکتی۔

فیصلے کا سب سے اہم حصہ Doctrine of Public Trust (پبلک ٹرسٹ ڈاکٹرائن) سے متعلق ہے۔ عدالت نے واضح کیا کہ اگرچہ زمین کا قانونی ٹائٹل LDA کے پاس ہے، لیکن وہ اس کا مطلق مالک نہیں بلکہ صرف Trustee (امین) ہے۔ اس لیے اسکول، پارک، مسجد یا دیگر عوامی سہولیات کے لیے مختص زمین کو کسی اور مقصد، خصوصا تجارتی استعمال یا فروخت کے لیے استعمال نہیں کیا جا سکتا۔ ایسی زمین صرف اسی مقصد کے لیے استعمال ہوگی جس کے لیے اسے مختص کیا گیا تھا۔

عدالت نے یہ بھی نوٹ کیا کہ 30 سال سے زائد عرصہ گزرنے کے باوجود اسکول کے لیے مختص پلاٹ پر اسکول تعمیر نہیں کیا گیا، جس سے علاقے کے رہائشیوں کے بنیادی حقوق متاثر ہوئے۔ اسی بنیاد پر لاہور ہائی کورٹ نے LDA کو تین ماہ کے اندر قانونی طریقہ کار کے مطابق اس پلاٹ کو ایسے ادارے یا فریق کے حوالے کرنے کا حکم دیا جو وہاں اسکول تعمیر کرے، اور مقررہ مدت میں تعمیر نہ ہونے کی صورت میں متعلقہ قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے۔

یہ فیصلہ ہاسنگ سوسائٹیوں کے رہائشیوں کے لیے ایک اہم نظیر ہے، جو اس اصول کو مضبوط کرتا ہے کہ عوامی سہولیات کے لیے مختص زمین کسی بھی سرکاری یا نجی ادارے کی تجارتی ملکیت نہیں بلکہ عوام کی امانت ہے، اور اسے صرف عوامی مفاد کے اسی مقصد کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے جس کے لیے وہ مختص کی گئی ہو۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔

WhatsAppFacebookX پچھلی خبروزیراعظم سے چینی کمپنی کے وفد کی ملاقات، غذائی تحفظ کے منصوبوں پر تبادلہ خیال اگلی خبرمقبوضہ کشمیر میں 1989 سے اب تک 96 ہزار 499 شہادتیں، ایک لاکھ 84 ہزار سے زائد گرفتاریاں: رپورٹ پاکستان میں اسمارٹ فون کا استعمال 62 سے بڑھ کر 72 فیصد تک پہنچ گیا، وزیراعظم کو بریفنگ پاکستان کو درپیش خطرات کا باعث بننے والے دہشتگردوں اور ان کے سہولتکاروں کا ہر قیمت پر خاتمہ کیا جائے گا، فیلڈ مارشل سید... صدر ٹرمپ کی پالیسی آنکھ کے بدلے سرکی ہے، ایران کو ہر گزرتی رات کیساتھ بھاری قیمت چکانا ہوگی: مارکو روبیو کا انتباہ ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدے کو معاہدہ ابراہیمی میں شمولیت سے مشروط کردیا آزاد کشمیر کے شہر میرپور میں 45 روز بعد موبائل فون اور انٹرنیٹ سروس بحال ہونا شروع امریکا کی جانب سے ایران پر بمباری کیلئے برطانوی ائیربیس کا استعمال، پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو سخت ردعمل کی دھمکی TikTokTikTokMail-1MailTwitterTwitterFacebookFacebookYouTubeYouTubeInstagramInstagram

Copyright © 2026, All Rights Reserved

رابطہ کریں ہماری ٹیم

متعلقہ مضامین

  • باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • اداکار شان بیگ اور روما مائیکل رشتۂ ازدواج میں منسلک، مداحوں کو خوشخبری سنا دی
  • گل فیروزہ، سدرہ امین اور نشرہ سندھو کی شاندار کارکردگی، پاکستان نے سری لنکا کیخلاف پہلا پہلے ون ڈے جیت لیا
  • لاہور میں موسلا دھار بارش، سڑکیں زیر آب، معمولات زندگی متاثر
  • عوامی مسائل کے حل میں تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی، ضیاء الحسن لنجار
  • بجلی، گیس، پانی، پیٹرول سمیت ہر شعبے میں ٹیکس وصول کیے جا رہے ہیں، شاداب نقشبندی
  • لاہور ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ: ہا ئوسنگ سوسائٹیوں کے پارک، اسکول اور مسجد کی زمین فروخت نہیں کی جا سکتی
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم
  • حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف