حزب اللہ اور انصار اللہ پر پابندی کے اشارے
اشاعت کی تاریخ: 5th, December 2025 GMT
ریلی کا روٹ الکاظمیہ علاقے سے شروع ہوا، پل الصرافیہ سے گزرتا ہوا الکرادہ کی جانب بڑھا اور پھر میدان التحریر پر پہنچ کر ختم ہوا۔ گاڑیوں پر حزب اللہ لبنان اور انصار اللہ یمن کے بڑے بڑے پرچم نصب تھے۔ موبائل اسپیکرز پر "یا نصراللہ" اور انصار اللہ کا معروف ترانہ "سارع للجهاد" بجایا جا رہا تھا۔ اسلام ٹائمز۔ عراقی دارالحکومت بغداد اور بصرہ میں سینکڑوں افراد نے عراق کی حکومت کی جانب سے حزب اللہ اور یمن کی انصار اللہ کو ابتدائی طور پر دہشت گرد تنظیموں کی فہرست میں شامل کرنے کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے اپنی گاڑیوں کے ساتھ سڑکوں پر مارچ کیا۔ اگرچہ ان ناموں کو فہرست سے فوراً ہی ہٹا دیا گیا تھا، تاہم اس اقدام نے عراق میں مزاحمتی گروہوں کے حامیوں میں شدید غم و غصہ پیدا کیا۔
بغداد میں ریلی:
بغداد میں ریلی کا روٹ الکاظمیہ علاقے سے شروع ہوا، پل الصرافیہ سے گزرتا ہوا الکرادہ کی جانب بڑھا اور پھر میدان التحریر پر پہنچ کر ختم ہوا۔ گاڑیوں پر حزب اللہ لبنان اور انصار اللہ یمن کے بڑے بڑے پرچم نصب تھے۔ موبائل اسپیکرز پر "یا نصراللہ" اور انصار اللہ کا معروف ترانہ "سارع للجهاد" بجایا جا رہا تھا۔
بصرہ کی ریلی:
بصرہ میں ریلی الاشار علاقے سے شروع ہوئی اور الجزائر اسٹریٹ سے ہوتی ہوئی کورنیش کی طرف آگے بڑھی۔ مقامی ذرائع کے مطابق سکیورٹی فورسز نے صرف نگرانی کا کردار ادا کیا اور مارچ میں کوئی مداخلت نہیں کی۔ سوشل میڈیا پر گردش کرتی ویڈیوز میں نوجوان موٹر سائیکلوں اور آف روڈ گاڑیوں پر زرد اور سبز پرچم لہراتے ہوئے نعرے لگا رہے تھے کہ "حزب اللہ اور الحوثی ہماری سرخ لکیر ہیں!"
عراقی کارکنان سوشل میڈیا پر ہیش ٹیگز:
#المقاومة_خط_احمر (مزاحمت سرخ لکیر ہے)
#لا_للتصنیف_الامریکی (امریکی درج بندی نامنظور)
ان ہیش ٹیگز کے ساتھ تصاویر اور لائیو ویڈیوز شیئر کر رہے ہیں۔
عراقی رہنماؤں کا ردعمل:
قیس الخزعلی کی جانب سے سخت بیان جاری کیا ہے۔ عصائب اہل الحق کے سیکرٹری جنرل، شیخ قیس الخزعلی نے ایک سرکاری بیان میں کہا کہ یہ محض انتظامی غلطی نہیں تھی بلکہ ایک سیاسی منصوبہ تھا جو ناکام بنا دیا گیا۔ عراقی عوام نے اپنی شاندار موجودگی سے ثابت کر دیا کہ مزاحمت عوام کی سرخ لکیر ہے۔" اسی طرح النجباء کا موقف بھی بھرپور تھا۔ حرکت النجباء نے اعلان کیا کہ جب تک وزیرِ اعظم باقاعدہ معافی نہیں مانگتے اور "دہشت گردوں کے اثاثے منجمد کرنے والی کمیٹی" کے ذمہ داران کو برطرف نہیں کیا جاتا، احتجاجی پروگرام جاری رہے گا۔
کتائب حزب اللہ کا ردعمل:
کتائب حزب اللہ عراق کے سرکاری ٹیلیگرام اکاؤنٹ پر لکھا گیا کہ اگر حکومت یہ سمجھتی ہے کہ وہ ایک بیان جاری کر کے اس خیانت کو چھپا لے گی تو یہ اس کی غلط فہمی ہے۔ مزاحمت کے شہداء کا خون یہ کبھی اجازت نہیں دے گا کہ ہمارے بھائیوں کے نام داعش کے ساتھ درج کیے جائیں۔
عراقی حکومت کی وضاحت:
حکومتی ترجمان باسم العوادی نے پریس کانفرنس میں کہا کہ ترمیم شدہ فہرست آج سرکاری جریدے الوقائع العراقیہ (شمارہ 4770) میں شائع ہو گئی ہے، اور اس میں کسی بھی سیاسی جماعت یا مزاحمتی گروہ کا نام شامل نہیں۔" حکومت کے مطابق یہ معاملہ "مسودے کی تیاری کے دوران فنی غلطی" تھا اور اس کے پیچھے کوئی سیاسی مقصد نہیں تھا۔ تاہم سوشل میڈیا صارفین نے بدھ اور جمعرات کے سرکاری جریدوں کے نسخوں کا تقابلی جائزہ شیئر کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ ابتدائی نسخے میں انصار اللہ کا نام شق 14 میں اور حزب اللہ کا نام شق 17 میں واضح طور پر موجود تھا، اور یہ نام عوامی دباؤ کے بعد ہی حذف کیے گئے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: اور انصار اللہ حزب اللہ کی جانب اللہ کا
پڑھیں:
لاہور ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ: ہا ئوسنگ سوسائٹیوں کے پارک، اسکول اور مسجد کی زمین فروخت نہیں کی جا سکتی
لاہور ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ: ہا ئوسنگ سوسائٹیوں کے پارک، اسکول اور مسجد کی زمین فروخت نہیں کی جا سکتی WhatsAppFacebookX 0 23 July, 2026 سب نیوز
لاہور(آئی پی ایس )لاہور ہائی کورٹ نے ایک اہم فیصلے میں واضح کیا ہے کہ ہاسنگ سوسائٹیوں میں اسکول، پارک، مسجد، ہسپتال اور دیگر عوامی سہولیات (Amenity Sites) کے لیے مختص زمین عوام کی امانت ہے۔ اگرچہ ایسی زمین کا قانونی ٹائٹل بعض حالات میں لاہور ڈویلپمنٹ اتھارٹی (LDA) کے پاس منتقل ہو سکتا ہے، لیکن LDA اسے اپنی ملکیت سمجھ کر کمرشل مقاصد کے لیے فروخت یا نیلام نہیں کر سکتی۔
مقدمہ AGRICS Cooperative Housing Society اور LDA کے درمیان تھا۔ سوسائٹی نے مقف اختیار کیا کہ وہ Cooperative Societies Act, 1925 کے تحت قائم ہوئی ہے، اس لیے LDA کے بعض قوانین اس پر لاگو نہیں ہوتے، جبکہ LDA کا مقف تھا کہ عوامی سہولیات کے لیے مختص زمین اس کے نام منتقل کیے بغیر اسکول کا بلڈنگ پلان منظور نہیں کیا جا سکتا۔
لاہور ہائی کورٹ نے قرار دیا کہ Cooperative Societies Act سوسائٹی کے اندرونی معاملات سے متعلق ہے، جبکہ LDA Act لاہور میں شہری منصوبہ بندی (Urban Planning) اور ہاسنگ اسکیموں کو منظم کرنے والا خصوصی قانون ہے، اس لیے پلاننگ اور ترقیاتی معاملات میں LDA کے قوانین پر عمل کرنا تمام ہاسنگ سوسائٹیوں کے لیے لازم ہے۔
عدالت نے یہ بھی قرار دیا کہ 1990 کی Mortgage Deed اور سوسائٹی کے اپنے سابقہ ریکارڈ سے ثابت ہوتا ہے کہ متعلقہ عوامی سہولیات کی زمین LDA کے نام منتقل ہو چکی تھی، لہذا سوسائٹی کئی دہائیوں بعد اس مقف سے انکار نہیں کر سکتی۔
فیصلے کا سب سے اہم حصہ Doctrine of Public Trust (پبلک ٹرسٹ ڈاکٹرائن) سے متعلق ہے۔ عدالت نے واضح کیا کہ اگرچہ زمین کا قانونی ٹائٹل LDA کے پاس ہے، لیکن وہ اس کا مطلق مالک نہیں بلکہ صرف Trustee (امین) ہے۔ اس لیے اسکول، پارک، مسجد یا دیگر عوامی سہولیات کے لیے مختص زمین کو کسی اور مقصد، خصوصا تجارتی استعمال یا فروخت کے لیے استعمال نہیں کیا جا سکتا۔ ایسی زمین صرف اسی مقصد کے لیے استعمال ہوگی جس کے لیے اسے مختص کیا گیا تھا۔
عدالت نے یہ بھی نوٹ کیا کہ 30 سال سے زائد عرصہ گزرنے کے باوجود اسکول کے لیے مختص پلاٹ پر اسکول تعمیر نہیں کیا گیا، جس سے علاقے کے رہائشیوں کے بنیادی حقوق متاثر ہوئے۔ اسی بنیاد پر لاہور ہائی کورٹ نے LDA کو تین ماہ کے اندر قانونی طریقہ کار کے مطابق اس پلاٹ کو ایسے ادارے یا فریق کے حوالے کرنے کا حکم دیا جو وہاں اسکول تعمیر کرے، اور مقررہ مدت میں تعمیر نہ ہونے کی صورت میں متعلقہ قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے۔
یہ فیصلہ ہاسنگ سوسائٹیوں کے رہائشیوں کے لیے ایک اہم نظیر ہے، جو اس اصول کو مضبوط کرتا ہے کہ عوامی سہولیات کے لیے مختص زمین کسی بھی سرکاری یا نجی ادارے کی تجارتی ملکیت نہیں بلکہ عوام کی امانت ہے، اور اسے صرف عوامی مفاد کے اسی مقصد کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے جس کے لیے وہ مختص کی گئی ہو۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookX پچھلی خبروزیراعظم سے چینی کمپنی کے وفد کی ملاقات، غذائی تحفظ کے منصوبوں پر تبادلہ خیال اگلی خبرمقبوضہ کشمیر میں 1989 سے اب تک 96 ہزار 499 شہادتیں، ایک لاکھ 84 ہزار سے زائد گرفتاریاں: رپورٹ پاکستان میں اسمارٹ فون کا استعمال 62 سے بڑھ کر 72 فیصد تک پہنچ گیا، وزیراعظم کو بریفنگ پاکستان کو درپیش خطرات کا باعث بننے والے دہشتگردوں اور ان کے سہولتکاروں کا ہر قیمت پر خاتمہ کیا جائے گا، فیلڈ مارشل سید... صدر ٹرمپ کی پالیسی آنکھ کے بدلے سرکی ہے، ایران کو ہر گزرتی رات کیساتھ بھاری قیمت چکانا ہوگی: مارکو روبیو کا انتباہ ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدے کو معاہدہ ابراہیمی میں شمولیت سے مشروط کردیا آزاد کشمیر کے شہر میرپور میں 45 روز بعد موبائل فون اور انٹرنیٹ سروس بحال ہونا شروع امریکا کی جانب سے ایران پر بمباری کیلئے برطانوی ائیربیس کا استعمال، پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو سخت ردعمل کی دھمکیCopyright © 2026, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم