data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

کراچی :جماعت اسلامی کراچی کے نائب امیر اور کے ایم سی سٹی کونسل میں اپوزیشن لیڈر سیف الدین ایڈووکیٹ نے بھارتی وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ کے سندھ سے متعلق اشتعال انگیز و متنازع بیان کے خلاف سٹی کونسل میں باضابطہ قرارداد جمع کرادی ہے،  قرارداد میں بھارتی وزیر دفاع کے بیان کو کھلی ہرزہ سرائی، دریدہ دہنی اور پاکستان کی علاقائی خودمختاری پر حملہ قرار دیا گیا ہے۔

سیف الدین ایڈووکیٹ کی جانب سے جمع کرائی گئی قرارداد میں کہا گیا کہ بھارت کی موجودہ سیاسی قیادت خطے میں امن کو سبوتاژ کرنے کی کوشش کرتی رہی ہے اور تازہ بیان اس جارحانہ ذہنیت کی عملی مثال ہے،پاکستان کا ہر شہری سیاسی اختلافات سے بالاتر ہوکر وطنِ عزیز کے ایک ایک انچ کا دفاع کرنا اپنا فرض سمجھتا ہے اور دشمن کی جانب سے کسی بھی قسم کی لالچ، دعویٰ یا جارحانہ سوچ ناقابلِ قبول ہے۔

قرارداد میں مزید کہا گیا کہ بھارتی وزیر دفاع کا یہ دعویٰ کہ مستقبل میں سندھ بھارت کا حصہ بن سکتا ہے، نہ صرف تاریخ سے لاعلمی ہے بلکہ سفارتی آداب کی سنگین خلاف ورزی بھی ہے۔

قرارداد میں واضح کیا گیا کہ پاکستان کے کسی بھی صوبے کے بارے میں ایسی لغو باتیں کرنے والوں کو بنگلہ دیش میں بھارت کے حمایت یافتہ عناصر کے انجام سے سبق سیکھنا چاہیے، جہاں بھارتی ایجنٹ عدالتوں سے سزائے موت پا رہے ہیں۔

سٹی کونسل نے قرارداد میں یہ مؤقف بھی اپنایا کہ پاکستان کلمۂ طیبہ کے نام پر حاصل کیا گیا ملک ہے اور اس کا ہر خطہ اہلِ وطن کیلئے مقدس امانت کی حیثیت رکھتا ہے۔ کسی دشمن ملک یا اس کے ایجنٹ کو پاکستان کے اندر قدم رکھنے کی بھی اجازت نہیں دی جائے گی۔ قرارداد کے مطابق قوم متحد ہے اور ملکی سلامتی پر کسی بھی قسم کے حملے یا بیان بازی کا بھرپور جواب دیا جائے گا۔

اپوزیشن لیڈر نے زور دیا کہ کراچی سٹی کونسل کی یہ قرارداد پوری دنیا کیلئے واضح پیغام ہے کہ پاکستان کے عوام اور ادارے ملکی دفاع، جغرافیائی وحدت اور قومی وقار کے معاملے پر اٹل اور متحد ہیں۔ انہوں نے وفاقی حکومت سے مطالبہ کیا کہ بھارت کی اشتعال انگیزی کو عالمی فورمز پر اٹھایا جائے۔

ویب ڈیسک وہاج فاروقی.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: بھارتی وزیر دفاع سٹی کونسل ہے اور

پڑھیں:

ٹرمپ کو ریلیف مل گیا؛ امریکی سینیٹ نے ایران جنگ ختم کرنے کی قرارداد مسترد کر دی

امریکی سینیٹ نے ایران کے ساتھ جاری فوجی تنازع میں امریکا کی شمولیت ختم کرنے کے لیے پیش کی گئی جنگی اختیارات کی قرارداد مسترد کر دی۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکی سینیٹ نے جمعرات کو صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے خلاف جاری فوجی کارروائیوں سے امریکی افواج واپس بلانے کی ہدایت دینے والی قرارداد منظور کرنے سے انکار کر دیا۔

میری لینڈ سے تعلق رکھنے والے ڈیموکریٹ سینیٹر کرس وین ہولن کی پیش کردہ وار پاورز ریزولوشن پر ووٹنگ ہوئی تاہم قرارداد 47 کے مقابلے میں 49 ووٹوں سے مسترد ہوگئی اور مطلوبہ حمایت حاصل نہ کرسکی۔

ریپبلکن سینیٹر سوسن کولنز نے اپنی جماعت کی پالیسی کے برعکس قرارداد کے حق میں ووٹ دیا جبکہ ڈیموکریٹ سینیٹر جان فیٹرمین نے اپنی پارٹی سے اختلاف کرتے ہوئے قرارداد کی مخالفت کی۔

تین سینیٹرز نے رائے شماری میں حصہ نہیں لیا جن میں سینیٹر کیٹی برٹ، مچ میک کونل، لیزا مرکووسکی اور رینڈ پال شامل ہیں۔

اس قرارداد میں مطالبہ کیا گیا تھا کہ اگر کانگریس باقاعدہ جنگ کا اعلان نہ کرے یا صدر کو خصوصی اجازت نہ دے، تو صدر ٹرمپ ایران کے اندر یا ایران کے خلاف جاری فوجی کارروائیوں سے امریکی افواج کو واپس بلائیں۔

ڈیموکریٹ ارکان اور بعض ریپبلکن قانون سازوں کا مؤقف ہے کہ ایران کے خلاف موجودہ فوجی کارروائیوں میں صدر ٹرمپ نے کانگریس کے اس آئینی اختیار کو نظر انداز کیا ہے جس کے تحت صرف کانگریس کو جنگ کا اعلان کرنے کا اختیار حاصل ہے۔

اس سے چند گھنٹے قبل امریکی ایوانِ نمائندگان نے ایران جنگ محدود کرنے کی اپنی وار پاورز قرارداد منظور کی تھی تاہم اسے گزشتہ ماہ کے مقابلے میں ایک ووٹ کم ملا جس سے کانگریس میں بھی اس معاملے پر اختلافات نمایاں ہیں۔

گزشتہ ماہ بھی سینیٹ نے اسی نوعیت کی ایک قرارداد 50 کے مقابلے میں 48 ووٹوں سے منظور کی تھی۔ اس وقت چند ریپبلکن ارکان نے بھی ڈیموکریٹس کا ساتھ دیا تھا لیکن اس وقت ایران اور امریکا کے درمیان جنگ بندی نافذ تھی اور مزید امریکی جانی نقصان نہیں ہوا تھا۔

آئینی ماہرین کے مطابق 1973 کے وار پاورز ایکٹ کا مقصد صدر کے فوجی اختیارات پر کانگریس کی نگرانی کو یقینی بنانا تھا لیکن اب تک کسی بھی امریکی صدر نے اسے مکمل طور پر پابند قانون کے طور پر تسلیم نہیں کیا۔

مزید یہ کہ اس قانون کی آئینی حیثیت پر کبھی امریکی عدالتوں نے حتمی فیصلہ نہیں دیا اسی لیے اگر قرارداد منظور بھی ہو جاتی تو اس کے نتیجے میں صدر کو فوری طور پر فوج واپس بلانے کا قانونی پابند بنانا مشکل ہوتا۔

 

 

متعلقہ مضامین

  • ازبکستان میں پاکستان کے سفیر مدثر ٹیپو نے سفارتی اسناد ازبک وزیر خارجہ کو پیش کردیں
  • ایک ’’غدارِ وطن‘‘ کی سوانح عمری
  • ٹرمپ کو ریلیف مل گیا؛ امریکی سینیٹ نے ایران جنگ ختم کرنے کی قرارداد مسترد کر دی
  • پاکستان کے خلاف ٹیسٹ سیریز: ویسٹ انڈیز نے 15 رکنی اسکواڈ کا اعلان کر دیا
  • سینیٹ قائمہ کمیٹی کا بڑا فیصلہ، پرنٹ میڈیا کے معاملات صرف پریس کونسل میں سنے جائیں گے
  • اسلام آباد، بلاول بھٹو سے وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان امجد حسین کی ملاقات
  • سلمان خان بیان، بھارتی طلباء کے احتجاج پر دبنگ خان کی کھل کر حمایت
  • سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدے کے پابند ہیں اور اس کی پاسداری کریں گے: پاکستان
  • پاکستان کے دفاع، سیکیورٹی کے شعبے میں ٹیکنالوجی کا استعمال قابل فخر ہے، وزیراعظم
  • پاکستان میں اسمارٹ فون کا استعمال 62 سے بڑھ کر 72 فیصد تک پہنچ گیا، وزیراعظم کو بریفنگ