سیاستدان عموماً اپنے فیصلوں اور قیادت کی بدولت مشہور ہوتے ہیں لیکن کچھ رہنما اپنی نجی دولت کی وجہ سے بھی خبروں کی سرخیوں میں آ جاتے ہیں۔ دنیا میں ایسے رہنما موجود ہیں جن کی دولت اربوں ڈالر میں تخمینہ کی جاتی ہے اور جن کے اثاثے بعض اوقات کئی ممالک کی معیشت سے بھی زیادہ سمجھے جاتے ہیں۔

یاہو فنانس نے دنیا کے امیر ترین سیاستدانوں کی فہرست جاری کی ہے جس میں روس کے صدر ولادیمر پیوٹن، بیلاروس کے صدر الکسانڈر لوکاشینکو اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ بھی شامل ہیں۔ یہ رہنما کاروبار اور سرمایہ کاری کے ذریعے اربوں ڈالر کے مالک بن چکے ہیں۔

ولادیمر پیوٹن

روسی صدر ولادیمر پیوٹن کو دنیا کے سب سے امیر سیاستدان کے طور پر شمار کیا جاتا ہے جو 200 ارب امریکی ڈالر کے مالک ہیں۔ ان کی دولت زیادہ تر توانائی اور قدرتی وسائل کی کمپنیوں میں غیر رسمی حصص پر مبنی ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق ان کی سیاسی اثر و رسوخ اور طویل عرصے تک حکمرانی نے ان کے دولت مند ہونے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔

الیگزینڈر لوکاشینکو

بیلاروس کے صدر الیگزینڈر لوکاشینکو بھی امیر رہنماؤں میں شمار ہوتے ہیں، رپورٹس کے  مطابق ان کی دولت 9 ارب امریکی ڈالر ہے تاہم ان کے اثاثوں کی تفصیلات واضح نہیں ہیں۔

ڈونلڈ ٹرمپ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی دولت زیادہ تر جائیداد، ہوٹل، گالف ریزورٹس اور برانڈنگ سے حاصل ہوئی ہے۔ ان کے اربوں ڈالر کے اثاثے ان کی سیاسی مدت کے بجائے کاروباری سرگرمیوں کا نتیجہ ہیں۔ ان کی دولت 7.

2 ارب امریکی ڈالر پر مشتمل ہے۔

 

کم جونگ ان

شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ کی دولت 5 ارب امریکی ڈالر بتائی جا رہی ہے لیکن اصل اعداد و شمار کی تصدیق مشکل ہے۔

شی جن پنگ

چین کے صدر شی جن پنگ کی دولت دیگر عالمی رہنماؤں کے مقابلے میں کم سمجھی جاتی ہے جو بین الاقوامی رپورٹس میں خاندان سے متعلق اثاثوں پر مبنی ہے حالانکہ چین کی سرکاری مالی تفصیلات ذاتی دولت کی تصدیق نہیں کرتی۔

 تیوڈورو اوبیانگ نگویما

افریقی ملک ایکواٹوریل گنی کے صدر تیوڈورو اوبیانگ نگویما کی دولت کئی دہائیوں کے اقتدار اور خاندان کی ملکیتوں پر مبنی اندازوں سے جڑی ہوئی ہے۔ ان کی کل دولت 600 ملین امریکی ڈالر بتائی جاتی ہے۔

پال کاگامے

 روانڈا کے صدر پال کاگامے بھی دنیا کے سب سے امیر سیاستدانوں میں شامل ہیں جن کی دولت مختلف عوامی اندازوں کے مطابق تقریباً 500 ملین امریکی ڈالر ہے۔

رجب طیب ایردوان

ترک صدر رجب طیب ایردوان کی دولت عوامی رپورٹس پر مبنی اندازوں پر مبنی ہے جو اثاثوں، سرمایہ کاریوں اور طویل سیاسی کیریئر سے جڑی ہوئی ہے۔ ان کی دولت 500 ملین امریکی ڈالر بتائی جاتی ہے۔

الہام علیوف

آذربائیجان کے صدر الہام علیوف کی دولت خاندان کے کاروبار اور قومی اثاثوں پر مبنی تخمینے کے مطابق 500 ملین امریکی ڈالر ہے۔

سیرل رامافوسا

 جنوبی افریقی صدر سیرل رامافوسا کی دولت تقریباً 450 ملین امریکی ڈالر بتائی جاتی ہے جو زیادہ تر کاروباری کیریئر، کان کنی، مالیات اور زراعت میں سرمایہ کاری سے حاصل ہوئی ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

امیر ترین افراد دنیا کے امیر ترین افراد

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: امیر ترین افراد دنیا کے امیر ترین افراد امریکی ڈالر بتائی ملین امریکی ڈالر ارب امریکی ڈالر ان کی دولت جاتی ہے دنیا کے ہوئی ہے کے صدر

پڑھیں:

سونے کی قیمت میں اضافہ، فی تولہ سونا 4 لاکھ 33 ہزار 836 روپے ہوگیا

کراچی: پاکستان میں سونے کی قیمت میں اضافہ مسلسل دوسرے روز بھی جاری رہا، جس کے بعد مقامی صرافہ بازاروں میں فی تولہ سونا 4 ہزار 600 روپے مہنگا ہو گیا۔

آل پاکستان صرافہ جیمز اینڈ جیولرز ایسوسی ایشن کے مطابق اضافے کے بعد 24 قیراط فی تولہ سونے کی نئی قیمت 4 لاکھ 33 ہزار 836 روپے مقرر کی گئی ہے۔

ایسوسی ایشن کے مطابق 10 گرام سونے کی قیمت میں بھی 3 ہزار 944 روپے کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جس کے بعد نئی قیمت 3 لاکھ 71 ہزار 944 روپے ہو گئی۔

دوسری جانب چاندی کی قیمت میں بھی معمولی اضافہ دیکھا گیا۔ فی تولہ چاندی 7 روپے اضافے کے بعد 6 ہزار 403 روپے جبکہ 10 گرام چاندی 6 روپے مہنگی ہو کر 5 ہزار 489 روپے کی سطح پر پہنچ گئی۔

یاد رہے کہ گزشتہ روز بھی سونے کی قیمت میں نمایاں اضافہ ہوا تھا، جب فی تولہ سونا 4 ہزار 700 روپے مہنگا ہو کر 4 لاکھ 29 ہزار 236 روپے تک پہنچ گیا تھا، جبکہ 10 گرام سونے کی قیمت 4 ہزار 29 روپے اضافے کے بعد 3 لاکھ 68 ہزار روپے ہوگئی تھی۔

عالمی مارکیٹ میں بھی قیمتی دھاتوں کے نرخ بڑھنے کا رجحان برقرار ہے۔ بین الاقوامی مارکیٹ میں فی اونس سونے کی قیمت 46 ڈالر اضافے کے بعد 4 ہزار 114 ڈالر ریکارڈ کی گئی، جبکہ چاندی کی عالمی قیمت 0.07 ڈالر اضافے سے 59.24 ڈالر فی اونس تک پہنچ گئی۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ عالمی منڈی میں سونے کی قیمتوں میں اضافے، امریکی ڈالر کی نقل و حرکت، شرح سود اور جغرافیائی کشیدگی جیسے عوامل مقامی مارکیٹ پر بھی براہِ راست اثر انداز ہوتے ہیں، جس کے باعث پاکستان میں سونے کی قیمتوں میں مسلسل اتار چڑھاؤ دیکھا جا رہا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • سٹیٹ بینک کے زرمبادلہ ذخائر میں 3 کروڑ 30 لاکھ ڈالر کا اضافہ
  • عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں بے قابو، فی بیرل 100 ڈالر سے متجاوز
  • نذیر احمد جنجوعہ قائم مقام سیکرٹری جنرل جماعت اسلامی پاکستان مقرر
  • سونے کی قیمت میں اضافہ، فی تولہ سونا 4 لاکھ 33 ہزار 836 روپے ہوگیا
  • وزیراعظم کا  آئی ٹی برآمدات 4.6 ارب ڈالر تک پہنچنے پر اطمینان کا اظہار
  • عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں 100 ڈالر سے تجاوز کر گئیں
  • پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے
  • جماعت اسلامی کے سیکریٹری جنرل امیرالعظیم انتقال کرگئے
  • عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل سے بھی تجاوز کر گئی
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم