بیرونِ ممالک سے لائے جانیوالے موبائل فونز پر کتنا ٹیکس عائد؟ تفصیلات جاری
اشاعت کی تاریخ: 5th, December 2025 GMT
ویب ڈیسک: حکومت نے بیرونِ ملک سے پاکستان آنے والے نئے اور استعمال شدہ موبائل فونز پر عائد کیے جانے والے ٹیکس اور ڈیوٹی کی تفصیلات جاری کر دی ہیں۔
فیڈرل بورڈ آف ریونیو کی جانب سے قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ میں دی گئی بریفنگ کے مطابق، موبائل فون کی قیمت کے مطابق کسٹم ڈیوٹی، موبائل لیوی، ریگولیٹری ڈیوٹی، سیلز ٹیکس اور ودہولڈنگ ٹیکس الگ الگ شرح پر وصول کیا جا رہا ہے۔
لاہور میں گل داؤدی نمائش کا آغاز
ایف بی آر کے مطابق موبائل فون کی اصل قیمت کا تعین متعلقہ ویلیوایشن رولنگ کے تحت کیا جاتا ہے، اگر کسی ماڈل کی ویلیوایشن دستیاب نہ ہو تو گزشتہ 90 دنوں کے درآمدی ڈیٹا کی بنیاد پر قیمت مقرر کی جاتی ہے۔
ایف بی آئی کے مطابق اگر کسی موبائل فون کی قیمت 30 امریکی ڈالر تک ہو تو اس پر 100 روپے موبائل لیوی، 300 روپے ریگولیٹری ڈیوٹی، 18 فیصد سیلز ٹیکس اور 70 روپے ودہولڈنگ ٹیکس وصول کیا جاتا ہے۔
نئے ٹریفک قوانین، لائسنس بنوانے والوں کیلئے ایک اور اہم خبر
اسی طرح 30 سے 100 ڈالر مالیت والے موبائل فونز پر 200 روپے موبائل لیوی، 3000 روپے ریگولیٹری ڈیوٹی، 18 فیصد سیلز ٹیکس اور 930 روپے ودہولڈنگ ٹیکس لاگو ہوتا ہے۔
100 سے 200 امریکی ڈالر کی رینج والے موبائل فونز پر 600 روپے موبائل لیوی، 7500 روپے ریگولیٹری ڈیوٹی، 18 فیصد سیلز ٹیکس اور 970 روپے ودہولڈنگ ٹیکس، 200 سے 350 ڈالر مالیت کے فونز پر 1800 روپے موبائل لیوی، 11 ہزار روپے ریگولیٹری ڈیوٹی، 18 فیصد سیلز ٹیکس اور 5 ہزار روپے ودہولڈنگ ٹیکس وصول کیا جاتا ہے۔
روسی صدر کی دو روزہ دورے پر بھارت آمد
اسی طرح 350 سے 500 ڈالر مالیت والے موبائل فونز پر 4000 روپے موبائل لیوی، 15 ہزار روپے ریگولیٹری ڈیوٹی، 18 فیصد سیلز ٹیکس اور 5 ہزار روپے ودہولڈنگ ٹیکس چارج کیا جاتا ہے۔
جبکہ 500 ڈالر سے زائد قیمت کے موبائل فونز کے لیے ٹیکس کی شرح سب سے زیادہ ہے، جن پر 8000 روپے موبائل لیوی اور اگر قیمت 700 ڈالر سے اوپر ہو تو یہ لیوی 16000 روپے ہو جاتی ہے، اس کے علاوہ 22 ہزار روپے ریگولیٹری ڈیوٹی، 25 فیصد سیلز ٹیکس اور 11 ہزار 500 روپے ودہولڈنگ ٹیکس وصول کیا جاتا ہے۔
خیبر پختونخوا میں بارش، برفباری کا الرٹ جاری
ذریعہ
ذریعہ: City 42
کلیدی لفظ: والے موبائل فونز پر روپے ودہولڈنگ ٹیکس فیصد سیلز ٹیکس اور روپے موبائل لیوی کیا جاتا ہے ہزار روپے وصول کیا کے مطابق
پڑھیں:
حکومت نے 11 ماہ میں عوام اور کاروباری اداروں کی جیبوں سے سوا 11 ہزار ارب روپے کا ٹیکس نکال لیا
اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2026ء) حکومت نے 11 ماہ میں عوام اور کاروباری اداروں کی جیبوں سے سوا 11 ہزار ارب روپے کا ٹیکس نکال لیا، ایف بی آر نے پہلے 11 ماہ میں 11 ہزار 257 ارب روپے ٹیکس اکٹھا کیا ، مئی میں 994 ارب روپے وصول کیے ۔ تازہ ترین حکومتی اعداد و شمار کے مطابق ایف بی آر کی ٹیکس وصولیاں نظرثانی شدہ اہداف کے مطابق جاری ہیں۔ مشیر وزیر خزانہ خرم شہزاد کے مطابق 864 ارب روپے کے ٹیکس شارٹ فال کا تاثر ابتدائی 14 ہزار 130 ارب روپے کے ہدف کی بنیاد پر دیا جا رہا ہے جو گمراہ کن ہے۔معاشی حالات میں تبدیلی کے بعد آئی ایم ایف کی مشاورت سے ریونیو ہدف تقریباً 13 ہزار ارب روپے تک ایڈجسٹ کیا گیا۔ مشیر وزیر خزانہ نے کہا کہ مہنگائی،درآمدات اور عالمی صورتحال میں تبدیلی کے باعث اہداف پر نظرثانی معمول کا مالی عمل ہے، نظرثانی شدہ مالی فریم ورک کیتحت ایف بی آر کی کارکردگی مضبوط،11 ماہ کا تقریباً مکمل ہدف حاصل کیا گیا، ایف بی آر نے پہلے 11 ماہ میں 11 ہزار 257 ارب روپے ٹیکس اکٹھا کیا جبکہ مئی میں 994 ارب روپے وصول کیے۔(جاری ہے)
مشیر وزیر خزانہ نے کہا کہ مئی میں ایف بی آر نے ماہانہ ہدف کا 97 فیصد جبکہ 11 ماہ کے ہدفکا 99.8 فیصد حاصل کیا، موجودہ کارکردگی ریونیو بحران یا بڑے ٹیکس شارٹ فال کے دعوؤں کی نفی کرتی ہے، جون 2026 کا 1 ہزار 727 ارب ریونیو ہدف 15 فیصد اضافے کے ساتھ نظرثانی شدہ مالی فریم ورک کے مطابق قابل حصول ہے، کاروباری طبقے اور سرمایہ کار غیر معمولی ٹیکس اقدامات سے متعلق قیاس آرائیوں پر توجہ نہ دیں، مالی معاملات پر تبصرہ پرانے اہداف کے بجائے موجودہ معاشی حقائق اور درست اعداد و شمار پر ہونا چاہیے۔