ٹرمپ کا نیا کارنامہ، جنگ لڑنے والے دو ممالک کے درمیان امن معاہدہ کرا دیا
اشاعت کی تاریخ: 5th, December 2025 GMT
واشنگٹن: امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی میزبانی میں جمہوریہ کانگو اور روانڈا کے صدور نے واشنگٹن میں امن معاہدے پر دستخط کر دیے، حالانکہ دونوں ممالک کی جنگ زدہ سرحدی علاقوں میں لڑائی اب بھی جاری ہے۔
صدر ٹرمپ نے ڈیموکریٹک ریپبلک آف کانگو کے صدر فیلکس تشیسکیدی اور روانڈا کے صدر پال کاگامے کو ڈونلڈ جے۔ ٹرمپ انسٹیٹیوٹ آف پیس میں جمع کیا، جہاں دونوں رہنماؤں نے گزشتہ ماہ طے پائے معاشی انضمام کے معاہدے اور جون میں امریکہ کی ثالثی سے طے شدہ مگر تاحال نافذ نہ ہونے والے امن معاہدے پر دوبارہ اتفاق کیا۔
امریکی حکام کے مطابق دونوں ممالک نے اہم معدنیات، سیکیورٹی اور اقتصادی تعاون سے متعلق نئے سمجھوتوں پر بھی دستخط کیے ہیں۔
واشنگٹن کا مقصد کانگو کے قیمتی قدرتی وسائل تک بہتر رسائی حاصل کرنا اور اہم معدنیات کے شعبے میں چین کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ کا توڑ کرنا ہے۔
صدر ٹرمپ نے تقریب کے دوران کہا، “ہم ایک ایسی جنگ ختم کر رہے ہیں جو دہائیوں سے جاری تھی۔ اب یہ ممالک ایک دوسرے سے لڑنے کے بجائے ترقی کی طرف بڑھیں گے اور امریکا کے ساتھ مضبوط شراکت داری قائم کریں گے۔”
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
مسجد اقصیٰ کی حرمت پر کوئی سمجھوتہ نہیں، پاکستان سمیت 8 ممالک کے وزرائے خارجہ کا دوٹوک اعلان
پاکستان سمیت آٹھ مسلم ممالک کے وزرائے خارجہ نے مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں اور انتہا پسند عناصر کی حالیہ کارروائیوں کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ ایسے اقدامات نہ صرف مذہبی تقدس کی پامالی ہیں بلکہ پورے خطے میں کشیدگی کو خطرناک حد تک بڑھا رہے ہیں۔
مشترکہ اعلامیے پر پاکستان، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، قطر، مصر، اردن، ترکیہ اور انڈونیشیا کے وزرائے خارجہ نے اتفاق کیا۔ اعلامیے میں کہا گیا کہ مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں کی اشتعال انگیز کارروائیاں اور اسرائیلی انتہا پسند وزرا و گروہوں کی سرگرمیاں ناقابلِ قبول ہیں اور ان سے خطے میں امن و استحکام کو شدید خطرات لاحق ہو رہے ہیں۔
وزرائے خارجہ نے اس بات پر زور دیا کہ مسجد اقصیٰ کی تاریخی، قانونی اور مذہبی حیثیت کا ہر صورت احترام کیا جانا چاہیے اور اس میں کسی بھی قسم کی یکطرفہ تبدیلی ناقابلِ قبول ہے۔
مشترکہ اعلامیے میں مسجد اقصیٰ کے انتظامی اور مذہبی امور پر اردن کے محکمہ اوقاف کے خصوصی اختیار کا اعادہ کرتے ہوئے عالمی برادری سے مطالبہ کیا گیا کہ اس حیثیت کو برقرار رکھنے کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں۔
اعلامیے میں اسرائیل سے مطالبہ کیا گیا کہ مسلمانوں کو مسجدِ اقصیٰ میں عبادت سے روکنے کا سلسلہ فوری طور پر بند کیا جائے، مذہبی آزادی کا احترام کیا جائے اور ایسے تمام اقدامات سے گریز کیا جائے جو مزید کشیدگی اور تصادم کا سبب بن سکتے ہیں۔