دیوانی مقدمات میں عدالتی فیس بڑھانے کے خلاف کیس، سپریم کورٹ نے آئندہ سماعت تک التوا دے دیا
اشاعت کی تاریخ: 5th, December 2025 GMT
سپریم کورٹ شریعت اپیلیٹ بینچ نے دیوانی مقدمات میں کورٹس فیس میں اضافے کے خلاف کیس کی سماعت کرتے ہوئے اسلام آباد بار کونسل سمیت دیگر بار کونسلز کو نوٹس جاری کیے اور اٹارنی جنرل اور صوبائی ایڈووکیٹ جنرلز کو آئندہ سماعت پر ذاتی حیثیت میں پیش ہونے کی ہدایت دی۔
جسٹس شاہد وحید کی سربراہی میں 5 رکنی بینچ نے کیس کی سماعت کی، جسے عدالت نے سنجیدہ کیس قرار دیتے ہوئے مزید التوا دینے سے انکار کیا۔ کیس کی آئندہ سماعت 2 فروری تک ملتوی کر دی گئی۔
مزید پڑھیں: الیکشن التوا کیس کی سماعت مکمل: فیصلہ محفوظ ، آج سنایا جائے گا
سماعت کے دوران جسٹس عقیل عباسی نے کہا کہ ملک میں بہت سے لوگ غریب ہیں اور وہ ملکی نظام انصاف برداشت نہیں کر سکتے۔ ایڈووکیٹ جنرل بلوچستان ایاز سواتی نے بتایا کہ ان کے صوبے میں فوجداری مقدمات کی کورٹ فیس نہیں لی جاتی۔ جسٹس عقیل عباسی نے مزید کہا کہ سستا انصاف فراہم کرنا ریاست کی ذمہ داری ہے اور انصاف دین اسلام کی بنیاد ہے، جس پر ریونیو نہیں کمایا جا سکتا۔
جسٹس شاہد وحید نے وکلا کو ہدایت کی کہ کیس کو ہلکا نہ لیں اور یاد دلایا کہ شریعت اپیلیٹ بینچ اب سپریم کورٹ کا ریگولر فیچر ہے۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ سماعتوں میں اٹارنی جنرل اور صوبائی ایڈووکیٹ جنرلز نے کیس کو سنجیدگی سے نہیں لیا۔
مزید پڑھیں: چیف جسٹس یحییٰ آفریدی کی سربراہی میں فل کورٹ اجلاس، اعلامیہ جاری
سماعت کے دوران آئی ایم ایف کی حالیہ رپورٹ کا ذکر بھی آیا، تاہم جسٹس شاہد وحید نے واضح کیا کہ بینچ صرف اس کیس کی حدود میں رہ کر سماعت کرے گا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
جسٹس شاہد وحید دیوانی مقدمات سپریم کورٹ کورٹس فیس بڑھانے.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: جسٹس شاہد وحید دیوانی مقدمات سپریم کورٹ کورٹس فیس بڑھانے جسٹس شاہد وحید سپریم کورٹ کیس کی
پڑھیں:
یورپی یونین کا گوگل پر 89 کروڑ یورو جرمانہ، سرچ انجن پر اجارہ داری کے غلط استعمال کا الزام
یورپی یونین نے سرچ انجن کے شعبے میں مبینہ اجارہ داری کا غلط استعمال کرنے پر گوگل کے خلاف بڑا اقدام کرتے ہوئے کمپنی پر 89 کروڑ یورو (تقریباً ایک ارب امریکی ڈالر)کا جرمانہ عائد کر دیا ہے۔ یورپی کمیشن کا کہنا ہے کہ گوگل نے اپنی بالادست پوزیشن کا فائدہ اٹھاتے ہوئے حریف کمپنیوں کے ساتھ غیر منصفانہ رویہ اختیار کیا اور اپنی مختلف سروسز کو ناجائز برتری فراہم کی۔
یورپی کمیشن کی جانب سے جاری بیان کے مطابق گوگل نے سرچ انجن میں اپنی مضبوط پوزیشن استعمال کرتے ہوئے شاپنگ، ٹریول، گیمز اور دیگر سروسز کو سرچ نتائج میں نمایاں جگہ دی، جبکہ حریف کمپنیوں کی سروسز کو نیچے دکھایا گیا، جس سے منصفانہ مسابقت متاثر ہوئی۔
کمیشن نے کہا کہ یہ طرزِ عمل ڈیجیٹل مارکیٹس ایکٹ (Digital Markets Act) کی خلاف ورزی ہے، جس کے تحت بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کو اپنی سروسز کے حق میں امتیازی یا جانبدارانہ رویہ اختیار کرنے کی اجازت نہیں۔
یورپی کمیشن نے گوگل پر یہ الزام بھی عائد کیا کہ کمپنی نے گوگل پلے اسٹور پر ایپ ڈویلپرز کو صارفین کو متبادل ادائیگی کے طریقوں سے آگاہ کرنے سے روکا، تاکہ گوگل کی سروس فیس برقرار رہے۔ کمیشن کے مطابق یہ عمل بھی ڈیجیٹل مارکیٹس ایکٹ کی خلاف ورزی کے زمرے میں آتا ہے، جس کا مقصد بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کی اجارہ داری کو روکنا ہے۔
کمیشن نے گوگل کو ہدایت کی ہے کہ وہ 60 دن کے اندر فیصلے پر عملدرآمد کرے، بصورت دیگر کمپنی کو مزید جرمانوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔دوسری جانب گوگل نے فیصلے پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ یورپی کمیشن کے اس اقدام سے یورپی صارفین اور کاروباری اداروں کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔
یہ پہلا موقع نہیں کہ یورپی یونین نے گوگل کے خلاف کارروائی کی ہو۔ 2018 میں اینڈرائیڈ آپریٹنگ سسٹم میں اجارہ داری کے الزام پر گوگل پر 4.7 ارب ڈالر کا جرمانہ عائد کیا گیا تھا، جبکہ 2017 میں سرچ انجن کے شعبے میں مسابقتی قوانین کی خلاف ورزی پر کمپنی کو 2.8 ارب ڈالر جرمانے کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ بعد ازاں ان مقدمات میں گوگل کی اپیلیں بھی مسترد کر دی گئی تھیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ تازہ کارروائی سے یورپی یونین اور امریکا کے درمیان تجارتی کشیدگی میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے، کیونکہ امریکی انتظامیہ اس سے قبل یورپی یونین کی بعض تجارتی اور ڈیجیٹل پالیسیوں پر تحفظات کا اظہار کر چکی ہے۔