مقبول گوندل نے آڈیٹر جنرل آزاد کشمیر کے عہدے کا حلف اٹھا لیا
اشاعت کی تاریخ: 5th, December 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
اسلام آباد (آن ل ائن)آڈیٹر جنرل آف پاکستان مقبول احمد گوندل نے بطور آڈیٹر جنرل آف آزادجموں وکشمیر اپنے عہدے کا حلف اٹھا لیا۔ چیف جسٹس آزادجموں وکشمیر جسٹس راجاسعید اکرم خان نے ان سے حلف لیا۔ حلف برداری کی تقریب کا آغاز تلاوت قران پاک سے ہوا۔ یہ تقریب جمعرات کے روز سپریم کورٹ آزادجموں وکشمیر میں منعقد ہوئی۔ تقریب حلف برداری میں سیکرٹری مالیات اسلام زیب، سیکرٹری جنگلات انصر یعقوب، سیکرٹری سپورٹس تہذیب
النسائ، سیکرٹری لوکل گورنمنٹ چودھری امتیاز، سیکرٹری انڈسٹریز چودھری عبدالرحمن، سیکرٹری ماحولیات، وائلڈ لائف و فشریز عامر محمود مرزا، سیکرٹری ایلمینٹری وسکینڈری ایجوکیشن قاضی عنایت، اکا¶نٹنٹ جنرل حسن مسعود، ڈائریکٹر جنرل ٹو اے جی پی ہاشم رضا، ڈائریکٹر جنرل آڈٹ سعید اللہ نیازی، ایڈیشنل اکا¶نٹنٹ جنرل میر اصغر سمیت اکا¶نٹنٹ جنرل اور آڈٹ آفس کے آفیسران اور ا سٹاف نے شرکت کی۔ تقریب کی نظامت کے فرائض رجسٹرار سپریم کورٹ مظہر اقبال نے سرانجام دیے جبکہ ڈرافٹسمین محکمہ قانون، انصاف، پارلیمانی امور وانسانی حقوق زہد راجپوت نے آڈیٹر جنرل کی تعیناتی کا نوٹیفکیشن پڑھ کر سنایا جس کے بعد چیف جسٹس آزادجموں وکشمیر جسٹس راجہ سعید اکرم خان نے آڈیٹر جنرل آزادجموں وکشمیر مقبول احمد گوندل سے حلف لیا۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: آزادجموں وکشمیر آڈیٹر جنرل
پڑھیں:
نیشنل کانفرنس کی حکومت ہر محاذ پر ناکام ہو چکی ہے، غلام علی کھٹانہ
بی جے پی کے لیڈر نے کہا کہ ان کی جماعت جموں و کشمیر بھر سے عوامی آراء اور شکایات جمع کر رہی ہے اور عوامی مسائل کو پارلیمنٹ میں اٹھایا جائیگا۔ اسلام ٹائمز۔ بھارت میں برسراقتدار مخلوط حکومت کی اتحادی جماعت بی جے پی کے لیڈر اور راجیہ سبھا کے رکنِ پارلیمان انجینیئر غلام علی کھٹانہ نے الزام عائد کیا کہ جموں و کشمیر میں نیشنل کانفرنس کی قیادت والی حکومت عوامی مسائل کے حل میں ہر محاذ پر ناکام ثابت ہوئی ہے، جس کے باعث عوام میں بے چینی اور ناراضگی بڑھ رہی ہے۔ ضلع رامبن کے سب ڈویژن بنیہال میں منعقدہ ایک عوامی دربار سے خطاب کرتے ہوئے جس میں مقامی باشندوں اور سرکاری افسران نے شرکت کی، غلام علی کھٹانہ نے دعویٰ کیا کہ گزشتہ دو برسوں کے دوران تعلیم، صحت، پینے کے صاف پانی اور بجلی کے شعبوں کی حالت مزید خراب ہوئی ہے۔ انہوں نے وزیرِ اعلیٰ عمر عبداللہ کی قیادت والی حکومت پر عوام سے دور ہونے کا الزام عائد کرتے ہوئے زیادہ جوابدہی کا مطالبہ کیا۔
بی جے پی کے لیڈر نے کہا کہ ان کی جماعت جموں و کشمیر بھر سے عوامی آراء اور شکایات جمع کر رہی ہے اور عوامی مسائل کو پارلیمنٹ میں اٹھایا جائے گا۔ انہوں نے مرکز کے زیرِ انتظام جموں و کشمیر کی انتظامیہ کی کارکردگی پر وائٹ پیپر جاری کرنے کا مطالبہ بھی کیا اور گوجر-بکروال برادریوں اور بے گھر کشمیری پنڈتوں کے لئے مزید حفاظتی اقدامات کی ضرورت پر زور دیا۔ عوامی ملاقات کے دوران مختلف عوامی مسائل اور ترقیاتی امور پر بھی تبادلۂ خیال کیا گیا، جس میں مقامی حکام، بی جے پی رہنماؤں اور علاقے کے باشندوں نے شرکت کی۔