جسٹس گل حسن اورنگزیب سپریم کورٹ کے مستقل جج تعینات
اشاعت کی تاریخ: 2nd, December 2025 GMT
اسلام آباد(نیوزڈیسک)جوڈیشل کمیشن کے اجلاس میں جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب کو سپریم کورٹ کا مستقل جج لگانے کی منظوری دیدی گئی۔جوڈیشل کمیشن آف پاکستان نے جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب کو سپریم کورٹ کا مستقل جج تعینات کردیا، سندھ اور بلوچستان کے نئے چیف جسٹسز کے ناموں کی بھی منظوری دے دی گئی۔
چیف جسٹس آف پاکستان یحییٰ آفریدی کی سربراہی میں جوڈیشل کمیشن کے اجلاس میں اہم فیصلے کیے گئے ہیں۔ اعلامیے کے مطابق جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب کو سپریم کورٹ کا مستقل جج تعینات کرنے کی منظوری دے دی گئی۔ جسٹس میاں گل حسن اونگزیب پہلے سپریم کورٹ میں عارضی جج تھے۔ جسٹس ظفر احمد راجپوت کو سندھ ہائیکورٹ کا چیف جسٹس بنانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ جبکہ جسٹس کامران ملاخیل بلوچستان ہائیکورٹ کے نئے چیف جسٹس ہوں گے۔ جوڈیشل کمیشن نے رولز میں ترامیم کیلئے کمیٹی بھی تشکیل دے دی۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: جسٹس میاں گل حسن گل حسن اورنگزیب جوڈیشل کمیشن سپریم کورٹ چیف جسٹس کورٹ کا
پڑھیں:
کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن
الیکشن کمیشن نے خیبر پختونخوا اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم قرار دے دیا۔
اسلام آباد سے الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی کی جانب سے کی جانے والی ترمیم آئین اور قانون سے متصادم ہے۔
الیکشن کمیشن آف پاکستان کے ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل چوہدری ندیم قاسم کی جانب سے چیف سیکریٹری خیبر پختونخوا کو تحریر کیے گئے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی نے بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل 6 جولائی کو منظور کیا۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق گورنر کے پی نے بلدیاتی حکومت کے نئے ترمیمی بل کی توثیق کر دی ہے، ترمیم کے مطابق ضلع میں ویلیج اور نیبر ہڈ کونسل کی آبادی 30 سے 40 ہزار کے درمیان ہوگی، ترمیم کے مطابق الیکشن کمیشن حکومت سے مشاورت سے کوئی تبدیلی کر سکے گا۔
خط کے مطابق الیکشن ایکٹ اور آئین کے مطابق بلدیاتی حکومتوں کے الیکشن کے لیے حلقہ بندی کرنا الیکشن کمیشن کا اختیار ہے، حلقہ بندی کے معاملے پر حکومت سے مشاورت بھی آئین کی روح کے خلاف ہے۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق الیکشن کمیشن کے لیے اس ترمیم کے تحت 30 سے 40 ہزار کی آبادی کے لیے حلقہ بندی کرنا قابل عمل نہیں۔
خط کے متن کے مطابق آئین کے تحت کوئی قانون الیکشن کمیشن کے اختیارات نہیں لے سکتا، اتنی تاخیر سے یہ ترمیم کرنا بظاہر بلدیاتی انتخابات میں تاخیر کا حربہ ہے۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا حکومت اس معاملے پر معاونت کرے تاکہ بلدیاتی انتخابات کا انعقاد کیا جا سکے۔