جوڈیشل کمیشن کا اجلاس، سندھ اور بلوچستان ہائیکورٹس کے نئے چیف جسٹس نامزد،جسٹس گل حسن اورنگزیب سپریم کورٹ کے مستقل جج مقرر
اشاعت کی تاریخ: 2nd, December 2025 GMT
جوڈیشل کمیشن کا اجلاس، سندھ اور بلوچستان ہائیکورٹس کے نئے چیف جسٹس نامزد،جسٹس گل حسن اورنگزیب سپریم کورٹ کے مستقل جج مقرر WhatsAppFacebookTwitter 0 2 December, 2025 سب نیوز
اسلام آباد(سب نیوز)جوڈیشل کمیشن آف پاکستان نے سندھ اور بلوچستان ہائیکورٹس کے نئے چیف جسٹس کی منظوری دیدی۔جوڈیشل کمیشن آف پاکستان کا اہم اجلاس چیف جسٹس آف پاکستان اور کمیشن کے چیئرمین جسٹس یحییٰ آفریدی کی صدارت میں منعقد ہوا جس میں اعلی عدلیہ میں مختلف اہم تقرریوں پر غور کیا گیا۔
ذرائع کے مطابق اجلاس میں سب سے پہلے سندھ ہائیکورٹ کے نئے چیف جسٹس کی تقرری سے متعلق مشاورت کی گئی، 3 سینئر ججز کے ناموں کا جائزہ لیا گیا، تفصیلی غور و خوض کے بعد کمیشن نے جسٹس ظفر راجپوت کو سندھ ہائیکورٹ کے چیف جسٹس کے طور پر نامزد کرنے کی منظوری دیدی۔ذرائع کے مطابق اس کے بعد اجلاس میں بلوچستان ہائیکورٹ کے مستقل چیف جسٹس کی تعیناتی کا معاملہ بھی زیرِ بحث آیا، اس کے لیے بھی 3 سینئر ججز جسٹس کامران خان ملاخیل، جسٹس اقبال احمد کانسی اور جسٹس شوکت علی درخشانی کے ناموں پر غور کیا گیا اور کمیشن نے جسٹس کامران خان ملاخیل کے نام کی منظوری دے دی۔
جوڈیشل کمیشن نے سپریم کورٹ میں مستقل جج کی تعیناتی کے لیے بھی مشاورت کی، اسلام آباد ہائیکورٹ کے سینئر جج جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب کے نام کی منظوری دے دی گئی۔آئین کے مطابق اعلی عدلیہ میں تقرریاں جوڈیشل کمیشن کی سفارش اور پارلیمانی کمیٹی کی توثیق سے مشروط ہوتی ہیں، سندھ ہائیکورٹ اور بلوچستان ہائیکورٹ کے نئے چیف جسٹس اور سپریم کورٹ کے نئے مستقل جج کی نامزدگیوں سے متعلق سفارشات صدرِ مملکت کو بھجوائی جائیں گی جس کے بعد باضابطہ نوٹیفکیشن جاری کیا جائے گا۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرسونے کی قیمت میں حیران کن کمی سونے کی قیمت میں حیران کن کمی معرکہ حق میں کامیابی بہترین کارکردگی کا مظہر، دشمن پہلے سے زیادہ تیار پائے گا: ایئر چیف نو مئی حملہ:عمر ایوب، شبلی فراز، زرتاج گل سمیت پی ٹی آئی کے 18 رہنما اشتہاری قرار پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس، قومی کمیشن برائے اقلیتی حقوق بل منظور، اپوزیشن کا احتجاج سینیٹر عرفان صدیقی کی خالی سینیٹ نشست پر ضمنی انتخاب کا اعلان اسلام آباد پولیس کا غیر قانونی افغان باشندوں، قبضہ مافیا اور منشیات فروشوں کے خلاف سخت کریک ڈاؤن کا اعلانCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: کے نئے چیف جسٹس جوڈیشل کمیشن اور بلوچستان سپریم کورٹ کورٹ کے
پڑھیں:
سپریم کورٹ نے نشے کی حالت کو بنیاد بناکر مجرم کی سزائے موت عمر قید میں تبدیل کرنے کی درخواست مسترد کر دی
اسلام آباد (ویب ڈیسک) سپریم کورٹ نے نشے کی حالت کو بنیاد بناکر 5 سالہ بچی سے زیادتی اور قتل کے مجرم کی سزائے موت عمر قید میں تبدیل کرنے کی درخواست مسترد کر دی۔
سپریم کورٹ آف پاکستان نے ایک اہم فیصلے میں قرار دیا ہے کہ بذات خود نشہ کرنے والا شخص کسی بھی جرم سے استثنیٰ کا دعویٰ نہیں کر سکتا اور نہ ہی اپنی مرضی سے شراب یا نشہ آور چیز استعمال کرنے والے کو مجرمانہ ذمہ داری سے بچنے کا کوئی حق حاصل ہے۔جیونیوز کے مطابق عدالتِ عظمیٰ نے 5 سالہ بچی سے زیادتی اور قتل کے مجرم ’سنی مسیح‘ کی اپیل مسترد کرتے ہوئے ٹرائل کورٹ اور ہائی کورٹ کی جانب سے دی گئی سزائے موت برقراررکھنے کا حکم دے دیا۔
حملے کے بعد منسوخ وائٹ ہاؤس پریس ڈنر دوبارہ کرنے کا اعلان
جسٹس محمد ہاشم خان کاکڑ نے کیس کا تحریری فیصلہ تحریر کیا ، جبکہ اس اہم کیس کی سماعت کرنے والے تین رکنی بینچ میں جسٹس صلاح الدین پہنور اور جسٹس اشتیاق ابراہیم بھی شامل تھے۔دورانِ سماعت مجرم کے وکیل نے یہ مؤقف اختیار کیا تھا کہ واردات کے وقت ملزم نشے کی حالت میں تھا، لہٰذا اس بنیاد پر سزائے موت کو عمر قید میں تبدیل کیا جائے۔
عدالت نے اس استدعا کو یکسر مسترد کرتے ہوئے واضح کیا کہ مجرم نے خود تسلیم کیا ہے کہ اس نے اپنی مرضی سے شراب پی تھی۔ عدالت نے رولنگ دی کہ رضاکارانہ نشے کو کسی بھی مجرمانہ عمل کے دفاع کے طور پر استعمال نہیں کیا جا سکتا۔سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں قانون کی تشریح کرتے ہوئے واضح کیا کہ جرم سے استثنیٰ صرف اور صرف اس صورت میں ممکن ہے جب کسی شخص کو اس کی مرضی کے خلاف (زبردستی) یا پھر اس کی لاعلمی میں کوئی نشہ آور چیز دی گئی ہو اور وہ اپنے حواس میں نہ ہو۔
پاکستانی نوجوان مقبوضہ کشمیر کی لڑکی کے عشق میں لائن آف کنٹرول کے پار پہنچ گیا
تحریری فیصلے میں کہا گیا ہے کہ مجرم نے انتہائی بے دردی سے ایک کمسن اور معصوم بچی کو زیادتی کا نشانہ بنانے کے بعد قتل کیا۔ یہ جرم انتہائی سنگین نوعیت کا ہے جو کسی بھی رعایت کا متقاضی نہیں، لہٰذا مجرم کی اپیل خارج کی جاتی ہے۔
مزید :