‘اقلیتوں کے حقوق کا تحفظ ریاستی اور مذہبی فرض،’ قومی کمیشن برائے اقلیتی حقوق کا بل پارلیمنٹ سے منظور
اشاعت کی تاریخ: 2nd, December 2025 GMT
قومی کمیشن برائے اقلیتی حقوق کا بل پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں پیش کردیا گیا ہے جسے ترامیم کے بعد ایوان نے منظور کردیا۔
اس موقع پر وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اقلیتوں کے حقوق کا تحفظ ہمارا ریاستی اور مذہبی فرض ہے۔
انہوں نے کہا کہ ایک گروہ جو اپنے آپ کو اقلیت سمجھتا ہی نہیں ہے وہ ویسے بھی اس بل سے باہر ہے، اس بل کا مقصد پاکستان میں بسنے والی اقلیتوں کو تحفظ دینا ہے، ہمارے مذہب نے ہمیں اقلیتوں کو حقوق دینے کا سبق سکھایا۔
یہ بھی پڑھیے: سینیٹ میں اقلیتوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے ’اقلیتی کاکس‘ کا قیام
انہوں نے کمیشن کو سوموٹو ایکشن کا اختیار دینے پر اٹھائے گئے کامران مرتضیٰ کے اعتراض کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ یہ بےضرر کمیشن ہے، صرف اقلیتوں کے حقوق پر اس میں بات ہوگی اور سوموٹو لیا جائے گا۔
بعدازاں انہوں نے جمعیت علمائے اسلام کے سینیٹر کامران مرتضیٰ کے اعتراض پر بل کے سیکشن 35 کو ختم کرنے پر رضامندی ظاہر کی۔
بل کی شق وار منظوری میں اس کی حمایت میں 160 اور مخالفت میں 79 ارکان نے ووٹ دیا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
minorities اقلیت انسانی حقوق مذہب.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: اقلیت اقلیتوں کے حقوق حقوق کا
پڑھیں:
لاہور کی رہائشی خاتون کی منشیات برآمدگی کیس میں ضمانت منظور
سپریم کورٹ نے لاہور کی رہائشی خاتون کی منشیات برآمدگی کے کیس میں 5 لاکھ روپے کے مچلکوں کے عوض ضمانت منظور کر لی۔
جسٹس ہاشم کاکڑ کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے لاہور کی رہائشی خاتون کے خلاف منشیات برآمدگی کے کیس کی سماعت کی۔
دوران سماعت ملزمہ کے وکیل نے اے این ایف ریڈ کی سی سی ٹی وی فوٹیج چلائی، عدالت نے ملزمہ کے گھر کی سی سی ٹی وی فوٹیج کا فرانزک کرانے کا حکم دے دیا۔
پولیس کے مطابق ایک کیس میں ملزمہ کے قبضے سے دستی بم بھی برآمد ہوا تھا۔
ملزمہ کے وکیل احسن بھون نے کہا ہے کہ واضح دیکھا جاسکتا ہے کہ اے این ایف اہلکار منشیات لے کر گھر آتا ہے، خود منشیات گھر میں رکھ کر جھوٹا کیس بنایا گیا، سی سی ٹی وی فوٹیج میں نظر آنے والا اہلکار کمرۂ عدالت میں موجود ہے۔
اے این ایف کے اہلکار نے فوٹیج میں موجودگی کی تردید کر دی۔
جس پر جسٹس اشتیاق ابراہیم نے کہا کہ اے این ایف کے اسلحہ بردار اہلکار تشدد کرتے نظر آرہے ہیں۔
اے این ایف کے وکیل نے کہا کہ یہ فوٹیج کسی اور گھر میں کیے گئے ریڈ کی ہے۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے کہا کہ اے این ایف کے 10 اہلکار تھے مگر 2 لڑکیاں پھر بھی بھاگ گئیں، اتنے ہٹے کٹے اہلکار لڑکیوں کو نہیں پکڑ سکے مگر گاڑی پکڑ لی۔
ملزمہ کے وکیل احسن بھون نے کہا کہ گاڑی کی ریکوری کا ریکارڈ بھی تبدیل کیا گیا ہے۔
جسٹس اشتیاق ابراہیم نے اے این ایف کے وکیل سے کہا کہ اے این ایف کے بیانات پر لوگوں کو پھانسی پر لٹکاتے اور عمر قید سناتے ہیں، خدا کا خوف کریں کمرۂ عدالت میں جھوٹ نہ بولیں۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے کہا کہ اے این ایف کیا کر رہا ہے، ملزمان تحویل میں ہوتے مار دیے جاتے ہیں، ایک کیس میں ملزم کی ہتھ کڑیوں کے ساتھ تصویر تھی جو اگلے روز مار دیا گیا، جوانی ہمیشہ نہیں رہنی کچھ خیال کیا کریں۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے اے این ایف کے اہلکار سے استفسار کیا کہ آپ نے کبھی چرس پی ہے؟ جس پر اہلکار نے کہا کہ نہیں سر میں نے کبھی چرس نہیں پی۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے ریمارکس دیے کہ چرس نہیں پی اس لیے آپ میں احساس بھی نہیں ہے، جس پر عدالت میں قہقہے لگ گئے۔