جوڈیشل کمیشن: چیف جسٹس سندھ ہائیکورٹ کیلئے جسٹس ظفر راجپوت کی منظوری
اشاعت کی تاریخ: 2nd, December 2025 GMT
اسلام آباد(نیوز ڈیسک) جوڈیشل کمیشن آف پاکستان کا اہم اجلاس منعقد ہوا جس کی صدارت چیف جسٹس پاکستان اور کمیشن کے چیئرمین جسٹس یحییٰ آفریدی نے کی۔
ذرائع کے مطابق اجلاس میں سندھ ہائیکورٹ کے نئے چیف جسٹس کی تقرری سے متعلق مشاورت کی گئی، سندھ ہائیکورٹ کے چیف جسٹس کے عہدے کے لیے 3 سینیئر ججز کے ناموں پر غور کیا گیا۔
ذرائع کے مطابق مشاورت کے بعد کمیشن نے سندھ ہائیکورٹ کے چیف جسٹس کے لیے جسٹس ظفر راجپوت کے نام کی منظوری دے دی گئی، کمیشن نے معاملہ صدر کی منظوری کیلئے وزارت قانون کو بھجوا دیا۔
آئین کے تحت اعلیٰ عدلیہ میں تقرریاں جوڈیشل کمیشن کی سفارش اور پارلیمانی کمیٹی کی توثیق سے مشروط ہوتی ہیں، سندھ ہائیکورٹ کے نئے چیف جسٹس کی نامزدگی کے ضمن میں کمیشن کی سفارش صدرِ مملکت کو بھیجی جائے گی، جس کے بعد تقرری کا باضابطہ نوٹیفکیشن جاری کیا جائے گا۔
ذرائع کے مطابق اجلاس میں بلوچستان ہائیکورٹ کے چیف جسٹس کی تقرری کے لیے تین سینئر ججز کے ناموں پر غور ہوا جن میں جسٹس کامران خان ملاخیل، جسٹس اقبال احمد کانسی، جسٹس شوکت علی درخشانی شامل ہیں۔
ذرائع کے مطابق جوڈیشل کمیشن اجلاس میں سپریم کورٹ میں مستقل جج کی تعیناتی پر بھی غور ہوا، اسلام آباد ہائیکورٹ کے تین سینئر ججز کے نام زیر غور آئے اور اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب کے نام کی منظوری دی گئی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: سندھ ہائیکورٹ کے ذرائع کے مطابق جوڈیشل کمیشن کی منظوری چیف جسٹس
پڑھیں:
اڈیالہ جیل، بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی کی 40 منٹ طویل ملاقات
راولپنڈی: اڈیالہ جیل میں بانی پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی(bushra bibi) کے درمیان ہفتہ وار ملاقات کرائی گئی، جو تقریباً 40 منٹ تک جاری رہی۔
جیل ذرائع کے مطابق ملاقات جیل کے کانفرنس روم میں ہوئی جہاں دونوں نے ایک دوسرے کی خیریت دریافت کی اور مختلف امور پر تبادلہ خیال کیا۔ ملاقات جیل حکام کی نگرانی میں مقررہ ضابطوں کے مطابق کرائی گئی۔
دوسری جانب ملاقات کے دن کے باوجود بانی پی ٹی آئی سے کسی وکیل یا خاندان کے دیگر افراد کی ملاقات نہ ہو سکی۔ جیل ذرائع کے مطابق معمول کی ملاقاتوں کے حوالے سے سیکیورٹی اور انتظامی اقدامات برقرار رہے۔
ادھر وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کی جانب سے نامزد نمائندے اور صوبائی حکومت کے بعض عہدیدار بھی اظہارِ یکجہتی کے لیے اڈیالہ جیل پہنچے، تاہم انہیں بھی بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کی اجازت نہ مل سکی۔
مزید پڑھیں:فورسز کی بلوچستان کے مختلف علاقوں میں کارروائیاں، 17 دہشتگرد ہلاک، آئی ایس پی آر
اسی دوران بانی پی ٹی آئی کی بہنیں علیمہ خان، نورین نیازی اور عظمیٰ خان بھی اڈیالہ جیل پہنچیں، تاہم پولیس نے انہیں فیکٹری ناکے سے آگے جانے کی اجازت نہیں دی۔ ذرائع کے مطابق سیکیورٹی وجوہات کی بنا پر انہیں جیل تک رسائی نہیں دی گئی۔