28ویں نیشل کمانڈ کورس کے شرکا کی وزیراعلیٰ سندھ سے ملاقات، عوامی تحفظ مزید مضبوط کرنے کا عزم
اشاعت کی تاریخ: 2nd, December 2025 GMT
وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ سے اسپیشلائزڈ ٹریننگ پروگرام اور 28ویں نیشل کمانڈ کورس کے 47 شرکا نے ملاقات کی۔
تفصیلات کے مطابق ترجمان وزیراعلیٰ سندھ نے بتایا کہ وفد کی سربراہی نیشنل پولیس اکیڈمی کے ڈپٹی کمانڈنٹ پی ایس پی سرفراز احمد فالکی کر رہے ہیں۔
ملاقات میں آئی جی پولیس غلام نبی میمن، سیکریٹری داخلہ اقبال میمن اور سیکریٹری ٹو سی ایم عبدالرحیم شیخ بھی موجود تھے۔
وزیراعلیٰ سندھ کا 52ویں اسپیشلائزڈ ٹریننگ پروگرام اور 28ویں نیشل کمانڈ کورس کے زیرِ تربیت اسسٹنٹ سپرنٹنڈنٹس آف پولیس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ سندھ حکومت پولیس کو ایک جدید، ٹیکنالوجی پر مبنی فورس میں تبدیل کرنے کے لیے پرعزم ہے۔
انہوں نے کہا کہ اسوقت 31 اضلاع کے 618 تھانوں میں پولیس کی نفری 1,31,850 اہلکاروں پر مشتمل ہے۔ سندھ حکومت نے 189.
انہوں نے مزید کہا کہ سندھ پولیس برصغیر کی سب سے پرانی پولیس فورس ہے، سنہ 1843ء میں سر چارلس نیپئر نے رائل آئرش کانسٹیبلری کے ماڈل پر قائم کیا تھا۔ سندھ پولیس پاکستان کی دوسری بڑی پولیس فورس بھی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ سندھ پولیس کو انتظامی اور عملی دونوں سطحوں پر اسٹریٹجک انداز میں تقسیم کیا گیا ہے۔ ہم نے سندھ پولیس کے لئے جدید ترین ٹیکنالوجی پر مبنی اقدامات کئے ہیں۔ سندھ سیف سٹی پروجیکٹ ایک اہم منصوبہ ہے۔
وزیر اعلیٰ سندھ کا کہنا تھا کہ پولیس کی منشیات سے وابستہ جرائم کا خاتمہ کے لئے کارروائیاں قابل تعریف ہیں، پولیس اہلکاروں کے لیے شہداء پیکجز، ہیلتھ کارڈز اور اسکالرشپس فراہم کیے جا رہے ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: سندھ پولیس کہا کہ
پڑھیں:
حکومت نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا
وفاقی وزیر اوورسیز پاکستانیز چوہدری سالک حسین نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ آج کا دن پاکستان میں لیبر مائیگریشن کے نظم و نسق کو مضبوط بنانے کی جانب ایک اہم سنگ میل ہے۔ یہ پالیسی ہر اس پاکستانی سے کیے گئے قومی عزم کی عکاس ہے جو بہتر مواقع کی تلاش میں اپنا گھر چھوڑتا ہے۔انہوں نے کہا کہ محفوظ اور منظم نقل مکانی، مہارتوں کی ترقی، کارکنوں کا تحفظ، تارکینِ وطن کی شمولیت اور وطن واپس آنے والوں کی بحالی اس پالیسی کے بنیادی ستون ہیں۔ تکنیکی جدت، آبادیاتی تبدیلیاں اور لیبر مارکیٹ کے بدلتے ہوئے تقاضے دنیا بھر کی معیشتوں کو نئی شکل دے رہے ہیں. اس لیے پاکستان کو اپنی افرادی قوت کو آج اور مستقبل دونوں کے مواقع کے لیے تیار کرنا ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 اس سمت میں ایک اہم قدم اور پاکستان کی افرادی قوت کو مستقبل کے تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے میں سنگ میل ثابت ہوگی۔چوہدری سالک حسین نے کہا کہ ایک کروڑ 20 لاکھ پاکستانی دنیا بھر میں مقیم ہیں اور اپنی پیشہ ورانہ مہارت، دیانت داری اور محنت کی بدولت پاکستان کے سفیر بن چکے ہیں۔ گزشتہ مالی سال میں سمندر پار پاکستانیوں نے 41 ارب امریکی ڈالر سے زائد کی ترسیلاتِ زر وطن بھیجیں، جو ملکی تاریخ کی بلند ترین رقم ہے۔ انہوں نے کہا کہ بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی کامیابی پاکستان کی کامیابی ہے اور ان کی فلاح و بہبود ہماری قومی ذمہ داری ہے۔انہوں نے کہا کہ یہ پالیسی اداروں، تجربات اور شراکت داریوں کو ایک مشترکہ وژن کے تحت یکجا کرتی ہے تاکہ ہر پاکستانی کارکن نقل مکانی کے پورے سفر کے دوران بہتر طور پر تیار، محفوظ اور معاونت یافتہ ہو۔ اس پالیسی کا محور ہر اس پاکستانی کا سفر ہے جو مواقع کی تلاش میں اپنا گھر چھوڑتا ہے، جبکہ ذمہ داری روانگی سے پہلے ہی شروع ہو جاتی ہے، جہاں نوجوان کارکنوں کو متعلقہ مہارتیں، قابلِ اعتماد معلومات اور اخلاقی بھرتی تک رسائی فراہم کی جائے گی۔وفاقی وزیر نے کہا کہ اس پالیسی کی کامیابی وفاقی اور صوبائی حکومتوں، نفاذ کرنے والے اداروں، آجروں، تربیتی اداروں، ترقیاتی شراکت داروں، نجی شعبے اور سمندر پار پاکستانیوں کے باہمی تعاون سے مشروط ہے۔ انہوں نے صوبائی حکومتوں، آئی سی ایم پی ڈی (ICMPD)، دیگر ترقیاتی شراکت داروں اور تمام اسٹیک ہولڈرز کا مشاورتی عمل میں تعاون پر شکریہ ادا کیا، جبکہ اسپیشل انویسٹمنٹ فیسیلیٹیشن کونسل (SIFC) کی مسلسل معاونت کو بھی سراہا۔انہوں نے کہا کہ ہجرت یا نقل مکانی غیر یقینی کا سفر نہیں بلکہ مواقع، وقار اور قومی ترقی کا راستہ ہونا چاہیے۔ آئیں مل کر ایسا مستقبل بنائیں جہاں ہر پاکستانی اعتماد کے ساتھ بیرون ملک جائے، فخر کے ساتھ وطن واپس آئے اور ہمیشہ ایک ایسی قوم سے جڑا رہے جو اس کی خدمات کی قدر اور عزت کرتی ہو۔ انہوں نے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ اس وژن کو عوام کے لیے بامعنی ترقی، پاکستان کے لیے دیرپا خوشحالی اور ہر سمندر پار پاکستانی اور اس کے خاندان کے روشن مستقبل کا ذریعہ بنائے۔