سندھ حکومت کا گھوٹکی–کندھ کوٹ پل کا افتتاح کرنے کا فیصلہ
اشاعت کی تاریخ: 5th, December 2025 GMT
وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کی زیر صدارت پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ پالیسی بورڈ کا 49واں اجلاس ہوا جس میں گھوٹکی–کندھ کوٹ پل کا افتتاح کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔
تفصیلات کے مطابق اجلاس میں صوبائی وزیر صحت ڈاکٹر عذرا فضل پیچوہو، صوبائی وزیر آبپاشی جام خان شورو، وزیر ورکس اینڈ سروسز علی حسن زرداری ، معاون خاص قاسم نوید، چیف سیکرٹری آصف حیدر شاہ، پرنسپل سیکریٹری آغا واصف، چیئرمین پی اینڈ ڈی نجم شاہ، ایم پی اے غلام قادر چانڈیو، ڈاکٹر سروش لودھی اور بورڈ کے دیگر اراکین شریک ہوئے۔
وزیراعلیٰ سندھ نے جون 2027 میں گھوٹکی–کندھ کوٹ پل کا افتتاح کرنے کا فیصلہ کیا۔ گھوٹکی–کندھ کوٹ پل منصوبے کا کام دوبارہ شروع ہوچکا ہے۔ اجلاس میں منصوبے کی نئی ٹائم لائنز، تعمیراتی پیش رفت، لاگت اور سیکیورٹی چیلنجز کا جائزہ لیا گیا۔
پُل کی ابتدائی ہائیڈرولک ڈیزائن آئی آر سی نے منظور کیا جبکہ تعمیرات اگست 2020 سے جاری ہے۔
وزیراعلیٰ سندھ نے بتایا کہ 2022 کے سیلاب میں بینک ٹو بینک پل مضبوط ثابت ہوئے جبکہ دیگر پلوں پر دباؤ کے باعث منصوبے میں توسیع کی گئی۔ پل کی لمبائی 3 سے بڑھاکر 12.
وزیراعلیٰ نے یہ بھی کہا کہ گھوٹکی-کندھ کوٹ پل منصوبے کی لاگت میں اضافہ اور ٹائم لائن میں تبدیلی کردی گئی ہے۔ موجودہ لاگت 32 ارب روپے اور شیڈول کے مطابق تکمیل جون 2029 ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: گھوٹکی کندھ کوٹ پل
پڑھیں:
گوگل کی مالک کمپنی الفابیٹ کا اے آئی پر 80 ارب ڈالر خرچ کرنے کا بڑا فیصلہ
اسلام آباد: مری میں بیچلرز کے داخلے پر پابندی سے متعلق سوشل میڈیا پر گردش کرنے والے دعوؤں کی حقیقت سامنے آگئی ہے۔ مختلف پلیٹ فارمز پر یہ خبریں وائرل ہو رہی تھیں کہ عیدالاضحیٰ سے قبل مری میں غیر شادی شدہ مردوں یا بیچلرز کے داخلے پر مکمل پابندی عائد کر دی گئی ہے، تاہم سرکاری وضاحت نے ان دعوؤں کو غلط قرار دے دیا ہے۔
سوشل میڈیا پوسٹس میں دعویٰ کیا جا رہا تھا کہ دفعہ 144 کے نفاذ کے بعد مری شہر میں صرف فیملیز کو داخلے کی اجازت ہوگی جبکہ بیچلرز کو مکمل طور پر روک دیا گیا ہے۔ تاہم ضلعی انتظامیہ کے مطابق ایسی کوئی پابندی پورے مری شہر پر نافذ نہیں کی گئی۔
انتظامیہ کا کہنا ہے کہ پابندی صرف مال روڈ کے مخصوص حصے تک محدود تھی، جہاں سیاحوں کے رش اور نظم و ضبط کو برقرار رکھنے کے لیے اکیلے آنے والے مردوں اور بیچلرز گروپس کے داخلے پر عارضی پابندی لگائی گئی تھی۔ فیملیز کو معمول کے مطابق مال روڈ جانے کی اجازت دی گئی تھی۔
ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر (جنرل) مری کامران صغیر کے مطابق دفعہ 144 کا اطلاق صرف مال روڈ تک محدود تھا اور 31 مئی تک نافذ رہی۔ ان کا کہنا تھا کہ مری شہر میں آنے والے تمام سیاحوں کے لیے راستے کھلے تھے اور بیچلرز کے شہر میں داخلے پر کوئی مکمل پابندی نہیں تھی۔
ضلعی انتظامیہ کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن میں بھی واضح کیا گیا تھا کہ یہ اقدام صرف سیاحتی سہولیات بہتر بنانے اور ہجوم کو منظم رکھنے کے لیے کیا گیا تھا۔
اس طرح مری میں بیچلرز کے داخلے پر پابندی کے حوالے سے وائرل ہونے والا دعویٰ حقیقت کے برعکس ثابت ہوا۔ مری بدستور تمام سیاحوں کے لیے کھلا ہے جبکہ پابندی صرف مال روڈ کے مخصوص علاقے تک محدود رہی۔