خبردار! حکومت کا عوامی مقامات پر گندگی پھیلانے والوں کو جرمانے کرنے کا فیصلہ
اشاعت کی تاریخ: 4th, December 2025 GMT
پنجاب حکومت نے عوامی مقامات پر گندگی پھیلانے والوں کے خلاف جرمانے نافذ کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔
یہ فیصلہ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کی سربراہی میں ہونے والے ایک اہم اجلاس میں کیا گیا، جس کا محور ’ستھرا پنجاب‘ پروگرام کی پیش رفت تھی۔
مزید پڑھیں: مریم نواز کا ’ستھرا پنجاب‘ کے ورکرز کو راشن کارڈ دینے کا اعلان
اجلاس میں وزیراعلیٰ کو بتایا گیا کہ صفائی سے متعلق حکومتی اقدامات کو صوبے بھر کے شہری مثبت انداز میں سراہ رہے ہیں۔
بریفنگ میں مزید بتایا گیا کہ گاڑیوں کی نگرانی کے لیے وہیکل ٹریکنگ سسٹم فعال ہے جبکہ کوڑا منتقل کرنے والے کنٹینرز کی لائیو مانیٹرنگ بھی جاری ہے۔ تنخواہوں اور دیگر مالی ادائیگیوں کو شفاف بنانے کے لیے نظام کو مکمل طور پر ڈیجیٹلائز کر دیا گیا ہے۔
مریم نواز نے منصوبے کو ’بڑے پیمانے پر صفائی کے نظام کی ایک مثال‘ قرار دیتے ہوئے کہاکہ یہ سسٹم صفر سے شروع کیا گیا تھا اور وقت گزرنے کے ساتھ اس میں بہتری لائی جا رہی ہے۔
انہوں نے افسوس کا اظہار کیا کہ شہروں اور دیہات کی صفائی کا مربوط نظام کئی سال پہلے قائم ہونا چاہیے تھا۔
اجلاس میں یہ فیصلہ بھی کیا گیا کہ کمرشل ایریاز اور سڑکوں پر کچرا پھینکنے والے افراد کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی اور خلاف ورزی پر جرمانہ لازمی ہوگا۔
مزید پڑھیں: صاف ستھرا پنجاب پروگرام کے تحت اب کتنا صفائی ٹیکس دینا ہوگا؟
مزید یہ کہ صوبے میں صفائی کے لیے استعمال ہونے والی گاڑیوں کو بتدریج ماحول دوست الیکٹرک وہیکلز میں تبدیل کیا جائے گا اور مستقبل میں کوڑے کرکٹ سے انرجی حاصل کرنے کے منصوبے بھی شروع کیے جائیں گے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews جرمانے ستھرا پنجاب فیصلہ گندگی مریم نواز وزیراعلٰی پنجاب وی نیوز.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: ستھرا پنجاب فیصلہ گندگی مریم نواز وی نیوز ستھرا پنجاب مریم نواز کے لیے
پڑھیں:
حکومت کاچینی شہریوں کیلئے بلٹ پروف لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)حکومتِ پاکستان نے چینی شہریوں کی سیکیورٹی کو مزید مؤثر بنانے کے لیے تقریباً 9 کروڑ 50 لاکھ روپے مالیت کی نئی بلٹ پروف ٹویوٹا لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ کر لیا۔
نجی ٹی وی چینل دنیا نیوز کے مطابق سرکاری دستاویزات کے مطابق 95.049 ملین روپے مالیت کی یہ گاڑی چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) سیکرٹریٹ کے استعمال کیلئےحاصل کی جائے گی تاکہ چینی وفود، ماہرین اور دیگر اہم شخصیات کو محفوظ سفری سہولت فراہم کی جا سکے۔
وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی احسن اقبال کا کہنا ہے کہ چینی شہریوں کا تحفظ حکومتِ پاکستان کی اولین ترجیح ہے، اسی مقصد کے تحت نئی بلٹ پروف گاڑی خریدی جا رہی ہے۔
سٹاک مارکیٹ میں مندی، انڈیکس ایک لاکھ 70 ہزار پوائنٹس کی حد کھو بیٹھا
دستاویزات کے مطابق یہ گاڑی پہلے سے موجود بلٹ پروف گاڑیوں اور کم از کم دو ہیلی کاپٹروں کے علاوہ ہوگی، جنہیں مختلف سرکاری ادارے چینی شہریوں کی سکیورٹی کے لیے استعمال کر رہے ہیں یا جن کی خریداری کا عمل جاری ہے۔
سی پیک سیکرٹریٹ نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ کابینہ ڈویژن کے محدود گاڑیوں کے بیڑے کے باعث بروقت بلٹ پروف گاڑیاں دستیاب نہیں ہوتیں، جس سے اہم سرکاری ملاقاتوں، غیر ملکی وفود کے دوروں اور اجلاسوں میں تاخیر یا بعض اوقات منسوخی کی صورتحال پیدا ہو جاتی ہے۔
دستاویزات میں کہا گیا ہے کہ نجی مارکیٹ سے بلٹ پروف گاڑیاں کرائے پر حاصل کرنا نہ صرف غیر یقینی بلکہ انتہائی مہنگا بھی ثابت ہوتا ہے، جس سے قومی خزانے پر اضافی مالی بوجھ پڑتا ہے۔
ٹرمپ کو بغیر سوچے سمجھے جارحیت کی قیمت چکانا پڑے گی: عباس عراقچی
حکومت نے پبلک پروکیورمنٹ ریگولیٹری اتھارٹی (PPRA) رول 42(c)(vii) کے تحت براہِ راست معاہدے کے ذریعے گاڑی خریدنے کا فیصلہ کیا ہے۔
حکومت کو تین ٹویوٹا ڈیلرز کی جانب سے قیمتیں موصول ہوئیں، جن میں ٹویوٹا سینٹرل موٹرز نے 95.049 ملین روپے، ٹویوٹا پورٹ قاسم نے 95.25 ملین روپے اور ٹویوٹا سوسائٹی نے 95.45 ملین روپے کی پیشکش کی، حکومت نے سب سے کم بولی دینے والی ٹویوٹا سینٹرل موٹرز کی پیشکش منظور کر لی۔
دستاویزات کے مطابق سی پیک سیکرٹریٹ کے پاس گاڑی کی خریداری کے لیے مطلوبہ فنڈز دستیاب نہیں تھے، جس کے بعد وزارتِ منصوبہ بندی نے مختلف منصوبوں سے 5 کروڑ 83 لاکھ روپے منتقل کرنے کا فیصلہ کیا، تاہم مالی سال کے اختتام تک ضروری منظوری نہ ملنے کے باعث خریداری کا آرڈر جاری نہیں ہو سکا۔
پیٹرول اور ڈیزل کے بعد مٹی کے تیل کی نئی قیمت کا اعلان
وزارت نے فنڈز کی فراہمی کے لیے مختلف منصوبوں سے رقم مختص کی، جن میں سینٹر فار ایکسی لینس برائے سی پیک سے ایک کروڑ 88 لاکھ روپے، وفاقی ایس ڈی جیز پروگرام سے 91 لاکھ روپے، مانیٹرنگ اینڈ ایویلیوایشن منصوبے سے ایک کروڑ 10 لاکھ روپے اور پالیسی ریسرچ گرانٹس پروگرام سے ایک کروڑ 60 لاکھ روپے شامل ہیں، ان فنڈز میں 62 لاکھ روپے وہ بھی شامل تھے جو کنٹریکٹ ملازمین کی ادائیگی کے لیے مختص کیے گئے تھے۔