data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

ٹیکنالوجی کمپنیوں کے درمیان اس بات پر مختلف آراء پائی جاتی ہیں کہ آیا آرٹیفیشل انٹیلی جنس (اے آئی) دنیا بھر میں لوگوں کی ملازمتوں کو خطرے میں ڈال سکتی ہے یا نہیں۔

اسی موضوع پر گوگل کے سی ای او سندر پچائی نے بھی اپنا مؤقف پیش کیا ہے۔ ان کے مطابق اے آئی ایسی ٹیکنالوجی ہے جس کے اثرات سے کوئی بھی ملازمت محفوظ نہیں، حتیٰ کہ ان کی اپنی نوکری بھی اس سے متاثر ہوسکتی ہے۔ اس لیے لوگوں کو حالات کے مطابق خود کو تیار رکھنا ہوگا۔

ایک حالیہ انٹرویو میں سندر پچائی نے کہا کہ “اے آئی انسانی تاریخ کی سب سے اہم ٹیکنالوجیوں میں سے ایک ہے، جس میں بے شمار فائدے چھپے ہیں۔ ہمیں سماجی بے چینی کے باوجود اس ٹیکنالوجی پر کام جاری رکھنا ہوگا۔”

گوگل خود بھی اے آئی کے شعبے میں بڑے پیمانے پر تحقیق و ترقی کر رہا ہے۔ اکتوبر 2025 میں کمپنی نے اپنا نیا ماڈل جیمنائی 3 متعارف کرایا، جسے عالمی سطح پر بھرپور پذیرائی ملی۔

سندر پچائی نے اعتراف کیا کہ جہاں اے آئی کئی نئے مواقع پیدا کرے گی، وہیں کچھ نوکریاں متروک بھی ہوسکتی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ “اس ٹیکنالوجی کے ارتقاء سے نئی مہارتوں اور ملازمتوں کی ضرورت پیدا ہوگی، جبکہ کچھ شعبے ختم بھی ہوسکتے ہیں۔ اس لیے بطور معاشرہ ہمیں اس پر کھل کر بات کرنی چاہیے۔”

ویب ڈیسک مقصود بھٹی.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: اے آئی

پڑھیں:

آزاد کشمیر الیکشن کے حوالے سے میڈیا کیلیے ضابطہ اخلاق جاری

الیکشن کمیشن آزاد کشمیر نے انتخابات 2026 کے لیے نیا میڈیا ضابطہ اخلاق جاری کر دیا، پالیسی کا مقصد انتخابی عمل میں شفافیت، غیرجانبداری اور ذمہ دارانہ صحافتی روایات کو یقینی بنانا ہے۔

الیکشن کمیشن کے مطابق تمام میڈیا اداروں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ انتخابی کوریج کے دوران مکمل غیرجانبداری کا مظاہرہ کریں اور ضابطہ اخلاق پر سختی سے عمل درآمد کریں۔

اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ پولنگ اسٹیشن کے اندر صرف مجاز میڈیا نمائندوں کو کوریج کی اجازت ہوگی تاہم پولنگ بوتھ کے اندر ووٹنگ کی خفیہ کارروائی کی کسی بھی قسم کی ریکارڈنگ یا فوٹوگرافی سختی سے ممنوع ہوگی۔

الیکشن کمیشن نے پولنگ ختم ہونے سے قبل کسی بھی قسم کے ایگزٹ پول، نتائج یا رجحانات نشر کرنے پر مکمل پابندی عائد کر دی ہے۔ نفرت انگیز، اشتعال انگیز یا فرقہ وارانہ مواد نشر کرنے سے گریز کرنے کی تاکید کی ہے۔

اسی طرح غلط، غیر مصدقہ یا گمراہ کن معلومات نشر کرنا بھی ممنوع قرار دیا گیا۔تمام امیدواروں کو انتخابی کوریج میں مساوی اور منصفانہ نمائندگی دینے کی ہدایت کی گئی ہے۔

الیکشن کمیشن نے واضح کیا ہے کہ ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی پر متعلقہ میڈیا ادارے کی ایکریڈیٹیشن منسوخ کی جا سکتی ہے اور قانونی کارروائی بھی عمل میں لائی جائے گی۔

کمیشن نے تمام میڈیا اداروں سے اپیل کی ہے کہ وہ انتخابی ضابطہ اخلاق پر مکمل عمل درآمد یقینی بنائیں تاکہ انتخابی عمل کے اعتماد اور شفافیت کو برقرار رکھا جا سکے۔

متعلقہ مضامین

  • آزاد کشمیر الیکشن کے حوالے سے میڈیا کیلیے ضابطہ اخلاق جاری
  • خیبر پختونخوا، گلگت بلتستان، پنجاب اور کشمیر میں تیز بارشوں کی پیشگوئی، لینڈ سلائیڈنگ کا خدشہ
  • آزاد کشمیر کے شہر میرپور میں 45 روز بعد موبائل فون اور انٹرنیٹ سروس بحال ہونا شروع
  • حضرت داتا گنج بخش ؒ کا سالانہ عرس; انتظامات کے حوالے سے خصوصی اجلاس
  • یورپی یونین کا گوگل پر 89 کروڑ یورو جرمانہ، سرچ انجن پر اجارہ داری کے غلط استعمال کا الزام
  • پاکستان کے دفاع، سیکیورٹی کے شعبے میں ٹیکنالوجی کا استعمال قابل فخر ہے، وزیراعظم