کچھ لوگوں کاکام سیاست کرنا نہیں پھربھی مداخلت کررہے ہیں؛ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا
اشاعت کی تاریخ: 3rd, December 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
پشاور: وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ بند کمروں کے فیصلے اب مزید قبول نہیں،کچھ لوگوں کا کام سیاست کرنا نہیں ہے لیکن وہ پھر بھی مداخلت کررہے ہیں۔
صوبائی دالحکومت پشاور میں پولیس فورس اور سول افسران سے خطاب کے دوران وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے پولیس کو غیر قانونی احکامات نہ ماننے کا حکم دے دیا اور کہا کہ خیبر پختونخوا 4 دہائیوں سے دہشت گردی کی زد میں ہے، پولیس نے کم وسائل کے باوجود دہشت گردی کا ڈٹ کر مقابلہ کیا، انصاف نہ ملنے سے معاملات خراب ہوتے ہیں۔
سہیل آفریدی نے کہا کہ پولیس کو بلٹ پروف گاڑیاں، جدید اسلحہ، اینٹی ڈرون سسٹم دیا جارہا ہے، وسائل کی کمی سیکیورٹی کے راستے میں رکاوٹ نہیں بننے دیں گے، شہید سول سرونٹس کے اہلخانہ کے لیے خصوصی پالیسی بنائیں گے۔
وزیراعلیٰ کا کہنا تھا کہ کرپشن کیخلاف زیروٹالرنس کی پالیسی ہے،کسی سے رعایت نہیں ہوگی، جب کہ افسران کے معاملات میں سیاسی مداخلت نہیں ہوگی، مگررزلٹ چاہیے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
فیفا ورلڈکپ: ٹرمپ کی مداخلت پر فیصلہ تبدیل، ناروے کا فیفا کیخلاف بڑا اقدام اٹھانے کا فیصلہ
فیفا کی جانب سے امریکی فارورڈ فولارین بالوگن کی ایک میچ کی خودکار معطلی کا اقدام واپس لیے جانے کے فیصلے پر تنازع مزید شدت اختیار کر گیا ہے۔
بین الاقوامی خبر رساں ادارے کے مطابق ناروے فٹبال فیڈریشن نے اعلان کیا ہے کہ وہ اس معاملے پر فیفا کی ایتھکس کمیٹی میں باضابطہ شکایت دائر کرنے پر غور کر رہی ہے۔
بالوگن کو بوسنیا ہرزیگووینا کے خلاف میچ میں اسٹریٹ ریڈ کارڈ دکھایا گیا تھا جس کے باعث انہیں بیلجیئم کے خلاف پری کوارٹر فائنل سے باہر ہونا تھا۔
تاہم امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی مداخلت کے بعد فیفا نے ان کی ایک میچ کی پابندی 12 ماہ کے لیے معطل کر دی جس کے نتیجے میں وہ بیلجیئم کے خلاف میدان میں اترے مگر امریکا کو 1-4 سے شکست کا سامنا کرنا پڑا۔
ناروے فٹبال فیڈریشن کی صدر لیزے کلاوینیس کے مطابق اس معاملے کو فیفا کی جانب سے ٹرمپ کو دیے گئے ’پیس پرائز‘ سے متعلق پہلے سے دائر شکایت کے ساتھ شامل کرنے پر غور کیا جائے گا۔
دوسری جانب بیلجیئم فٹبال فیڈریشن اور یورپی فٹبال تنظیم یوئیفا نے بھی فیفا کے فیصلے پر شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے جبکہ فیفا نے بیلجیئم کی وضاحت طلب کرنے کی درخواست کو ناقابل سماعت قرار دے دیا۔