ذات پر مبنی مردم شماری پر حکومت کا جواب غیر سنجیدہ ہے، راہل گاندھی
اشاعت کی تاریخ: 3rd, December 2025 GMT
انہوں نے کہا کہ مودی حکومت نے جو جواب دیا ہے وہ چونکانے والا ہے، کیونکہ نہ اس میں کوئی واضح روڈ میپ ہے، نہ وقت بندی اور نہ پارلیمانی سطح پر کوئی سنجیدہ بحث کا ذکر ہے۔ اسلام ٹائمز۔ کانگریس کے سینیئر لیڈر راہل گاندھی نے پارلیمنٹ میں ذات پر مبنی مردم شماری کے تعلق سے مودی حکومت سے جو سوال پوچھا تھا، اس کے جواب پر سخت اعتراض ظاہر کیا ہے۔ انہوں نے ایکس پر اپنی ایک پوسٹ میں کہا کہ حکومت نے جو جواب دیا ہے وہ چونکانے والا ہے، کیونکہ نہ اس میں کوئی واضح روڈ میپ ہے، نہ وقت بندی، نہ پارلیمانی سطح پر کوئی سنجیدہ بحث کا ذکر اور نہ ہی عوام سے مشاورت کا کوئی اشارہ۔ انہوں نے کہا کہ بظاہر ایسا لگتا ہے کہ حکومت اس معاملے میں سنجیدہ نہیں اور دیگر ریاستوں کے تجربات سے سیکھنے کی بھی کوئی خواہش نہیں رکھتی۔ انہوں نے اس رجحان کو ملک کی "بہوجن آبادی" کے ساتھ کھلا اعتماد شکنی قرار دیا۔
وزارت داخلہ کی جانب سے وزیر مملکت نتیانند رائے نے جو تحریری جواب دیا، اس میں بتایا گیا کہ مردم شماری 2027ء میں دو مرحلوں میں کی جائے گی۔ اول مرحلے کے دوران مکان شماری، جو اپریل سے ستمبر 2026ء کے درمیان مکمل ہوگی۔ اس کے بعد مرحلہ دوم اصل مردم شماری پر مبنی ہوگا، جو فروری 2027ء میں کی جائے گی اور جس کی ریفرنس تاریخ یکم مارچ 2027ء، رات 12 بجے مقرر کی گئی ہے۔ پہاڑی اور برفانی علاقوں میں مردم شماری ستمبر 2026ء میں ہونے کا امکان ظاہر کیا گیا۔ مودی حکومت نے یہ بھی کہا کہ مردم شماری کا سوالنامہ مختلف وزارتوں اور متعلقہ اداروں سے ملی تجاویز کی بنیاد پر تیار کیا جاتا ہے اور اسے حتمی شکل دینے سے قبل فیلڈ ٹیسٹنگ کی جاتی ہے۔ تاہم جواب میں کہیں بھی یہ نہیں بتایا گیا کہ آیا ذات کی بنیاد پر تفصیلی سروے یا مردم شماری کا کوئی منصوبہ زیر غور ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
پڑھیں:
گلگت میں ن لیگ کے ترقیاتی کاموں کا کوئی جماعت مقابلہ نہیں کرسکتی، احسن اقبال
فائل فوٹووفاقی وزیر احسن اقبال نے کہا ہے کہ گلگت بلتستان میں ن لیگ کے ترقیاتی کاموں کا کوئی جماعت مقابلہ نہیں کرسکتی ہے۔
گلگت میں جیو نیوز سے گفتگو میں احسن اقبال نے کہا کہ مسلم لیگ ن کا گلگت بلتستان میں ترقیاتی کاموں کا ریکارڈ ہے، جس کا مقابلہ کوئی جماعت نہیں کرسکتی۔
انہوں نے کہا کہ گلگت بلتستان میں تمام جماعتیں اور ان کے لیڈرز انتخابی عمل میں حصہ لے رہے ہیں۔
وفاقی وزیر نے مزید کہا کہ اگر کوئی جماعت یہ کہتی ہے کہ اسے حصہ نہیں لینے دیا جارہا تو وہ اپنی شکست کا بہانہ تلاش کررہی ہے۔