انہوں نے کہا کہ مودی حکومت نے جو جواب دیا ہے وہ چونکانے والا ہے، کیونکہ نہ اس میں کوئی واضح روڈ میپ ہے، نہ وقت بندی اور نہ پارلیمانی سطح پر کوئی سنجیدہ بحث کا ذکر ہے۔ اسلام ٹائمز۔ کانگریس کے سینیئر لیڈر راہل گاندھی نے پارلیمنٹ میں ذات پر مبنی مردم شماری کے تعلق سے مودی حکومت سے جو سوال پوچھا تھا، اس کے جواب پر سخت اعتراض ظاہر کیا ہے۔ انہوں نے ایکس پر اپنی ایک پوسٹ میں کہا کہ حکومت نے جو جواب دیا ہے وہ چونکانے والا ہے، کیونکہ نہ اس میں کوئی واضح روڈ میپ ہے، نہ وقت بندی، نہ پارلیمانی سطح پر کوئی سنجیدہ بحث کا ذکر اور نہ ہی عوام سے مشاورت کا کوئی اشارہ۔ انہوں نے کہا کہ بظاہر ایسا لگتا ہے کہ حکومت اس معاملے میں سنجیدہ نہیں اور دیگر ریاستوں کے تجربات سے سیکھنے کی بھی کوئی خواہش نہیں رکھتی۔ انہوں نے اس رجحان کو ملک کی "بہوجن آبادی" کے ساتھ کھلا اعتماد شکنی قرار دیا۔ 

وزارت داخلہ کی جانب سے وزیر مملکت نتیانند رائے نے جو تحریری جواب دیا، اس میں بتایا گیا کہ مردم شماری 2027ء میں دو مرحلوں میں کی جائے گی۔ اول مرحلے کے دوران مکان شماری، جو اپریل سے ستمبر 2026ء کے درمیان مکمل ہوگی۔ اس کے بعد مرحلہ دوم اصل مردم شماری پر مبنی ہوگا، جو فروری 2027ء میں کی جائے گی اور جس کی ریفرنس تاریخ یکم مارچ 2027ء، رات 12 بجے مقرر کی گئی ہے۔ پہاڑی اور برفانی علاقوں میں مردم شماری ستمبر 2026ء میں ہونے کا امکان ظاہر کیا گیا۔ مودی حکومت نے یہ بھی کہا کہ مردم شماری کا سوالنامہ مختلف وزارتوں اور متعلقہ اداروں سے ملی تجاویز کی بنیاد پر تیار کیا جاتا ہے اور اسے حتمی شکل دینے سے قبل فیلڈ ٹیسٹنگ کی جاتی ہے۔ تاہم جواب میں کہیں بھی یہ نہیں بتایا گیا کہ آیا ذات کی بنیاد پر تفصیلی سروے یا مردم شماری کا کوئی منصوبہ زیر غور ہے۔

.

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: انہوں نے کہا کہ

پڑھیں:

استحکام ناگزیر، سیاسی جماعتوں کا ایک دوسرے کو گالی دینا درست نہیں، شاہد خاقان عباسی

عوام پاکستان پارٹی کے چیئرمین و سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا ہے کہ جہاں سیسی استحکام نہیں ہوگا وہاں ترقی نہیں ہو سکتی، اس وقت سیاسی جماعتیں ایک دوسرے کو گالیاں دے رہی ہیں جو درست نہیں۔

پشاور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ کوئی مفاد یا لالچ نہیں ہے، ملک کا بڑا اثاثہ نوجوان ہے مگر ایسے یہ بوجھ بن جائےگا، حکومت کی ذمہ داری ہے کہ ان کو روزگار دیا جائے۔

مزید پڑھیں: پی ٹی آئی کا پشاور میں جلسہ: بہت جلد ڈی چوک جانے کی کال دوں گا، وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی کا اعلان

انہوں نے کہا کہ جہاں سیاسی استحکام نہیں ہوگا وہاں معیشت ترقی نہیں کر سکتی، اس وقت تمام سیاسی جماعتیں ایک دوسرے کو گالیاں دے رہی ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ سب کو مل کر پاکستان کے مستقبل کی بات کرنا ہوگی، ہم نے ہمیشہ ملکی ترقی کی بات کی ہے۔

شاہد خاقان عباسی نے کہاکہ تاریخ کا سبق ہے کہ خیبرپختونخوا میں امن نہیں ہوگا تو پاکستان میں امن نہیں ہوگا۔

انہوں نے کہاکہ 26ویں اور 27ویں ترامیم پاس ہوئیں، جو سیاستدانوں پر ایک دھبہ ہے، ہمیشہ اچھی سیاست کی، کبھی مفادات کی طرف نہیں گیا۔

انہوں نے کہا کہ بات تحمل اور برداشت کرنے کی ہونی چاہیے، انہوں نے سوال اٹھایا کہ کیا ایک دوسرے کو گالی دینے اور الزامات لگانے سے کوئی فائدہ ہوگا؟

ان کا مزید کہنا تھا کہ ملک اور عوام کے مفاد کے لیے کام کرنے اور سوچنے کی ضرورت ہے۔

مزید پڑھیں: پشاور جلسہ: اسد قیصر کے خطاب کے دوران کارکنان کے ’ڈی چوک ڈی چوک‘ کے نعرے

شاہد خاقان عباسی نے کہاکہ جب بھی عوام کے مینڈیٹ کی نفی ہوگی تو ملک کا نقصان ہوگا۔ ہمارے پاس دوسرا کوئی راستہ نہیں تھا، لیکن ووٹ کو عزت سے اقتدار کو عزت تک چلے گئے۔

سابق وزیراعظم نے کہاکہ اقتدار سے باہر رہ کر بھی ملک کے لیے کام کر سکتے ہیں، آئین اور قانون کی بالادستی پر کوئی دوسری رائے نہیں ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

wenews سیاسی استحکام سیاسی جماعتیں شاہد خاقان عباسی عوام پاکستان پارٹی گالی کلچر گالیاں وی نیوز

متعلقہ مضامین

  • وزیراعظم کا پاکستان میں کرپشن سے متعلق عوامی تاثرات پر مبنی رپورٹ پر اظہار اطمینان
  • بشریٰ بی بی کی وفاداری پر کوئی سوال نہیں اٹھایا جا سکتا: مریم وٹو
  • ملک 75 سال سے آزاد ہے لیکن "وَندے ماترم" پر بحث آج کیوں ہورہی ہے، پرینکا گاندھی
  • جعلی حکومت کے پاس نہ پالیسی ہے نہ کوئی حل ٹیکسٹائل انڈسٹری تباہ کر دی ہے، حلیم عادل شیخ
  • بھارتی موسیقار اور ویمن کرکٹر کی شادی منسوخ کے جواب پر قیاس آرائیاں دم توڑ گئیں
  • کہتے ہیں خیبرپختونخوا  سیکیورٹی  معاملات  پر  سنجیدہ نہیں ، ہمارا  قصور نہیں،  آپ  اپنی  پالیسیاں تبدیل کریں، سہیل آفریدی
  • بغیر لائسنس ڈرائیونگ موت کو دعوت دینے کے مترادف ہے، آئی جی پنجاب ڈاکٹر عثمان انور
  • استحکام ناگزیر، سیاسی جماعتوں کا ایک دوسرے کو گالی دینا درست نہیں، شاہد خاقان عباسی
  • عوام عمران خان کے ساتھ کھڑے ہیں، سلمان اکرم راجہ
  • ہم اینٹ کا جواب پتھر سے نہیں دیں گے، چیئرمین پی ٹی آئی گوہر علی خان