ملی سائرس کی منگنی: انگوٹھی کی ہوشربا قیمت کیا ہے؟
اشاعت کی تاریخ: 3rd, December 2025 GMT
ملی سائرس کی منگنی نے صرف مداحوں کو خوش ہی نہیں کیا بلکہ ان کی قیمتی انگوٹھی نے سب کو حیران بھی کردیا ہے۔ ریڈ کارپٹ پر پہلی جھلک کے بعد جیولری ماہرین انگوٹھی کی قیمت کا اندازہ لگانے میں مصروف ہیں، اور اندازے واقعی چونکا دینے والے ہیں۔
ملی کی انگوٹھی ڈیزائنر جیکی آئیش نے تیار کی ہے۔ یہ روایتی مگر دلکش ڈیزائن ہے جس میں ایک کُشن کٹ ہیرے کو ’’چنکی‘‘ 14 کیرٹ سونے کی انگوٹھی میں جَڑا گیا ہے۔
ماہرین کے مطابق انگوٹھی میں لگے ہیرے کا ایسٹ ویسٹ سیٹ انداز اور تقریباً 1.
لیکن کچھ جیولری ایکسپرٹس نے مزید بڑا دعویٰ کیا ہے، ان کے مطابق اگر مرکزی پتھر واقعی 4 سے 5 کیرٹ کا ہے تو انگوٹھی کی قیمت چار لاکھ پچاس ہزار امریکی ڈالر تک ہوسکتی ہے!
یعنی صرف انگوٹھی کی قیمت ہی پاکستانی کرنسی میں بارہ کروڑ اکہتر لاکھ روپے بنتی ہے۔
ملی سائرس کے مداح اس نئی محبت بھری شروعات پر خوش ہیں، مگر سوشل میڈیا پر بحث کا مرکز اب بھی وہی ہے، انگوٹھی کتنی مہنگی ہے!
View this post on Instagram
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: انگوٹھی کی کی قیمت
پڑھیں:
ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ؛ بجلی کی فی یونٹ قیمت میں اضافے کا امکان
اسلام آباد: ملک میں ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ کے تحت بجلی کی فی یونٹ قیمت میں اضافے کا امکان ہے۔بجلی صارفین کے لیے ایک بار پھر قیمتوں میں اضافے کا امکان پیدا ہوگیا ہے، کیونکہ نیپرا میں اپریل کی ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ کی درخواست پر سماعت کے دوران بجلی ایک روپے 73 پیسے فی یونٹ مہنگی کرنے کی درخواست کی گئی ہے۔سماعت کے دوران سینٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی (سی پی پی اے) کے حکام نے بتایا کہ اپریل کے مہینے میں خطے میں جاری جنگ کے اثرات بھی سامنے آئے تھے. جس کے باعث توانائی کے شعبے کو مختلف چیلنجز کا سامنا رہا۔سی پی پی اے کے مطابق اس عرصے کے دوران درآمدی ایل این جی بالکل دستیاب نہیں تھی، تاہم مئی میں ایل این جی کے کنٹریکٹ اور سپاٹ کارگوز موصول ہوئے، جس کے بعد ایل این جی پر چلنے والے پاور پلانٹس کو فعال کیا گیا۔حکام نے نیپرا کو بتایا کہ صنعتی شعبے کے علاوہ تمام صارفین کی کیٹیگریز میں بجلی کی کھپت میں کمی ریکارڈ کی گئی۔ اس کے ساتھ ساتھ آئندہ 2 ماہ کے لیے ایل این جی کی یومیہ بنیادوں پر پلاننگ مکمل کر لی گئی ہے .تاکہ بجلی کی پیداوار اور ایندھن کی دستیابی کو مؤثر انداز میں برقرار رکھا جا سکے۔سی پی پی اے حکام کا کہنا تھا کہ مئی، جون اور جولائی کی ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ میں صارفین کو زیادہ بڑے جھٹکوں کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا کیونکہ ایندھن کی فراہمی اور بجلی کی پیداوار کے حوالے سے ضروری منصوبہ بندی کر لی گئی ہے۔